سفارش رسول اکرم ﷺ - جویریہ عشرت

اس بات میں کوئی انکار نہیں کہ زندگی میں ہر کوئی کامیابی چاہتا ہے۔ عہدہ حاصل کرنا، نام کمانا تو جیسے انسان کا سب سے بڑا خواب ہو اس میں غلط بھی کچھ نہیں۔ حال ہی کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی جو گولڈمیڈ لسٹ تھی ایف پی ایس سی میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرچکی تھی مگر دوبارہ امتحان دے رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کہنے لگی امتحان پاس کرکے انٹرویو کے لیے گئی تو بغیر میری اہلیت جانچے انٹرویور کہنے لگے آپ کی کوئی سفارش ہے۔ میں نے کہا نہیں، تو کہنے لگے کتنی قیمت دے سکتی ہیں اس سیٹ کو حاصل کرنے کے لیے؟ میں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں سوائے میری ذہانت کے، آپ سوالات تو کریں۔ جواباََ افسر نے سر ہلاتے اور فائل بند کرتے ہوئے کہا بی بی ہمارا وقت ضائع نہ کریں، ہمارے پاس اور بھی کچھ اہم شخصیات ہیں اور کمرے سے جانے کا اشارہ کیا۔

یہ ہماری زندگی کا حال ہے کہ اہلیت کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ سننے کے بعد بہت سارے سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے کہ زندگی میں معمولی سی پوسٹ کے لیے بھی ہمیں سفارش کی ضرورت پڑتی ہے اور جب ہم اس دنیائے فانی کا سفر ختم کرکے اگلے سفر پر جانے لگیں گے اور پل صراط کا فاصلہ طے کر رہے ہوں گے تو اس وقت کیا ہمیں کسی بھی سفارش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مجھے اس وقت وہ لوگ یاد آنے لگے جو کہتے ہیں کہ خدا Directly انسان کی دعا سنتا ہے کسی ولی کسی اولیاء اللہ یا کسی نبی کے وسیلے کا کوئی کام نہیں (نعوذ باللہ) یہ وہ لوگ ہیں جو معمولی پوسٹ کے لیے ہزار وں روپے رشوت دیتے ہیں اور لوگوں کی سفارش مانگتے رہتے ہیں مگر عقیدہ ختم و نبوت و رسالت پر کمزوری ہونے کے باعث اپنی نادان اور کم عقلی کو لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور قرآن پر بحث کرتے ہیں۔

مگر اس کی تفسیر یہ خود بھی نہیں جانتے جب ہمیں اس زندگی کو گزارنے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے تو سوچیے کہ اللہ کا پسندیدہ آدمی بننے کے لیے کیا تمہیں کسی کی رہنمائی، کسی کی سفارش کی ضرورت نہ ہوگی؟ کیا ہم اپنے اعمال میں اتنے پختہ ہیں کہ ہم بنا سفارش کے بارگاہِ الہٰی میں جا سکیں؟ کیا ہمارے گناہ بخشوانے کے لیے ہمیں نبی یا اولیاء اللہ کی ضرورت نہیں؟ یہ سارے سوالات تب پیدا ہوتے ہیں جب انسان اپنی نا سمجھی سے اولیاء اللہ کی اہمیت بھول جاتے ہیں جبکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ــ’’اور یہ لوگ جب اپنے آپ پر ظلم کرہی بیٹھے تو اگر یہ آپ کے پاس چلے آتے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور رسول کریم ﷺ بھی ان کے لیے مغفرت طلب کریں تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان پاتے’’ (سورۃ النساء آیت نمبر ۶۴)

یہ بھی پڑھیں:   آخرت میں مسیحیوں کا انجام - امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ

اس آیت مبارکہ میں رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم اور ان کے ہر قول و فعل کی اطاعت لازم ہے فرمایا گیا ہے اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھو تو نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو۔ ظلم کرنے سے مراد کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھو تو نبی کے وسیلے سے توبہ کرو مغفرت مانگو اللہ ضرور بخش دے گا۔ معتبرین کرام نے اس مقام پر لکھا ہے کہ جس طرح حضور اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ اپنی حیاتِ ظاہری میں وسیلہء نجات و مغفرت تھی اسی طرح بعد از وصال بھی آپ ﷺ وسیلہء نجات ہیں۔

حضرت علیؓ کی یہ روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے تین دن بعد اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوا اور روضہ مبارک کی مٹی اپنے سر پر ڈال کر زارو قطا ر رو نے لگا اور یہ آیت پڑھ کر عرض کی کہ اللہ کے حکم کے مطابق میں آپ کے در پر حاضر ہؤا ہوں میرے لیے دعا کیجیے کہ میرے گناہ معاف ہوجائیں وہ شخص روتا رہا کہ قبر مبارک سے آواز آئی، قد غُفِرلِک، یعنی تمہیں بخش دیا گیا۔

اس سے ثابت ہؤا کہ جس طرح نبی پاک ﷺ کی حیات طیبہ میں آپ کی بارگاہ میں جاکر دعا طلب کرتے تھے اسی طرح نبی پاک ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ ﷺ کے وسیلے سے نجات و مغفرت مانگنی چاہیے۔

حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ عمر بن خطاب ؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا، آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک تم کو میں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں (تم مومن نہیں ہوسکتے)‘‘

عمر ؓ نے فرمایا بخدا آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! اب اے عمر ؓ تم مومن ہو۔ ( صحیح بخاری)

رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کا ایک اہم اور لازم جز ہے۔ قرآن و سنت کی رو سے ضروری ہے کہ ہر شخص کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اپنی جان، مال، اہل و عیال اور دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ ہو۔ جس کا دل آپ ﷺ کی محبت اور سفارش کی کی ضرورت سے خالی ہو وہ عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔ جو تعلق جو ضرورت نبی کریم ﷺ کا مسلمانوں سے ہے اور مسلمانوں کا آپ ﷺ سے ہے اس سے کسی بھی دوسرے رشتہ کو ذرہ برابر بھی سنیت حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ملحدین کی مغفرت، کاشف شیروانی کے جواب میں– عرفان شہزاد

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ’’نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس سے زیادہ ہے جتنا لوگو کا اپنے آپ سے ہے۔ ‘‘ ( سورۃ الاحزاب۔ ۴)

ایک جگہ آپ ﷺ کی اطاعت سے انحراف یا گریز کرنے کی راہ اختیار کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ اے محمد ! ﷺ تمہارے رب کی قسم لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ ما ن لیں پھر جو فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں بلکہ فرانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ‘‘ ( سورۃ النساء آیت ۴۵)۔

اب کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں یہ آیات تو صرف نبی ﷺ کی حیات طیبہ تک تھیں مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ قرآن کی ہر آیت ہمیشہ کے لیے نازل ہوئی ہے۔ ہر زمانے ہر دور کے لیے قرآن کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمایا گیا ہے۔ گویا اطاعت رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کے مطالعے سے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی عملی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ ایمان کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضہ ہے۔

یہاں یہ اہم بات سمجھ لینی چاہیے کہ کچھ لوگ رسول ﷺ کی محبت کی آڑ میں راہ اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے بارے میں ایسے اوصاف بیان کرتے ہیں جن کا ذکر نہ اللہ تعالیٰ نے کیا اور نہ نبی ﷺ نے خود بلکہ بعض لوگ تو اس بارے میں ایسی صفات کا ذکر کرتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔ نبی ﷺ سے محبت کے دعوے کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی صفات کا ذکر کیا جائے جن سے آپ ﷺ نے خود روکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے اور جس سے روکا ہے ان سے رکا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ اور جو تمہیں رسول ﷺ دیں اس کو تھام لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ ‘‘ ( الحشر۔ ۷)

اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ نبی ﷺ نے ہمارے لیے ہمیشہ دعا کی ہے اور ہمیں ان کی سفارش کی ضرورت تا حیات تا قیامت رہے گی جس طرح زندگی میں اکثر اوقات عہدہ حاصل کرنے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح آخرت میں مقام حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے لیے ہمیں رسول اللہ ﷺکی سفارش کی ضرورت ہے اور رہے گی۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بے بسی یا بے حسی
    برما میں مسلمانوں کا قتل عام کے پیچھے بوﺩﮪ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮ ﮨﮯ۔۔۔۔۔ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮕﺰﯾﻦ ’’ﭨﺎﺋﻢ‘‘ ﻧﮯ۔۔۔۔ Cover Story ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ’’ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﭼﮩﺮﮦ ‘‘ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
    ۔
    ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ۔۔۔۔۔ ﻭﮦ ﻋﻠﯽ ﺍﻻﻋﻼﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﺳﮯ۔۔۔۔ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ’’:ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺮﺥ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺴﻠﻢ ﺧﻮﻥ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮨﯽ ﭼﻤﮑﺘﯽ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ‘‘۔۔۔۔۔۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ’’:ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﻭﮨﻨﮕﯿﺎﻣﺴﻠﻢ ﮨﻮ؟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺟﻼﻧﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻗﯿﻤﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺍٓﺑﺮﻭﺭﯾﺰﯼ ﮐﺮﻧﺎ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺮﻣﯽ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮪ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ‘‘
    ﺑﺮﻣﯽ ﻧﻮﺑﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺍٓﻧﮓ ﺳﺎﻧﮓ ﺳﻮﭼﯽ ۔۔۔۔۔ﺟﻮ90ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍٓﻏﺎﺯﺳﮯ2010 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺗﮏ..... ﻇﺎﻟﻢ ﻓﻮﺟﯽ ﺍٓﻣﺮﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ..... ،ﻧﮯ ﺑﺮﻣﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ..... ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ۔۔۔۔ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ ﮨﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﺎﺭﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔۔۔۔۔ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺳﮑﻮﮞ ﮔﯽ۔۔۔۔۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ۔۔۔۔۔ ﺭﻭﮨﻨﮕﯿﺎﺋﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ۔۔۔۔۔ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﭼﮩﺮﮦ ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻣﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ہے۔۔۔۔۔۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺗﻮ ۔۔۔۔سیاسی حمایت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﺴﺎ ﺍُس ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﭘﻠﭧ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
    ایک تحقیق کے مطابق
    برمامیں بدھ دہشتگردوں نے5روز میں 100کلو میٹر پر مشتمل مسلم آبادی صفحہ ہستی سے مٹادی،ایمنسٹی انٹرنیشنل
    ایمنسٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 5روز میں2100دیہات مسلمانوں سمیت جلادیے گئے، 10ہزار افراد بھاگتے ہوئے مارے گئے ، 1500سے زائد خواتین عصمت دری کے بعد فوج میں تقسیم کردی گئیں،زندہ انسانوں کے اعضا کاٹ کر چیل کووے چھوڑے جارہے ہیں، ایک لاکھ 30ہزار افراد شدید زخمی،ایک لاکھ جنگلوں میں محصور ہیں ،بنگلہ دیشی حکومت کی سنگدلی کے باعث کشتیوں میں سوار20ہزار افرادسمندر میں بھٹکنے پر مجبور ہیں،کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں لگتا ہے دنیا میں انسانیت نام کی چیز نہیں،آئندہ10 دن میں کسی ملک نے مداخلت نہ کی تو اموات میں لاکھوں کا اضافہ ہوسکتا ہے.انسانیت بے بس ہے
    مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚ ۛ ؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ بنی اسرائیل ﴿۳۲﴾
    اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ “جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی” ۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں ۔
    اس کو پس پشت ڈال کر آج جو انسانیت کا حال کیا جا رہا ہے وہ جانوروں سے بھی بد تر ہے اسلام میں تو جانوروں پر بھی رحم کا حکم ہے پھر نہ جانے کیوں آج انسانیت سسک رہی ہے پکار رہی ہے زبح ہو رہی ہے مگر کوئی مدد کرنے والا نہیں .
    ایک وڈیو دیکھی جس میں انسان کو ذبح کیا گیا اور پھر اس ک ٹکڑے کیے گئے اتنی بے درد سے تو قصائی بھی جانور زبح نہیں کرتا جتنی بے دردی سے آج انسان کو قتل کیا جا رہا ہے.کچھ ہی دنوں میں برما کے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا.کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں میں اس بات پہ رضامند نہیں مگر اگر مان بھی لوں کہ وہ مسلمان نہیں تو انسان تو ہیں نہ.انکا قصور کیا ہے انکا جرم یا گناہ کیا ہے.
    اب سوال ان انسانیت کی علمبرداروں سے ہے جو انسانیت کا درس دیتے ہیں وہ موم بتی مافیا کہاں ہے اج زبانیں کیوں خاموش ہیں.وہ آنٹیاں کہاں ہیں جو انسانیت کا ڈھول گلے میں پہنے سڑکوں پر نکل پڑتی ہیں آج انہیں انسانیت کا بہتا لہو نہیں آرہا.ان مظلوموں کے حق کے لیے زبانیں کیوں خاموش ہیں کیا آبلے پڑ گئے آج زبانوں میں..اب کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی جا رہی جو اس بہتے لہو کو روک سکے.اب NGOS کہاں ہیں جو جانوروں کو بچانے کے لیں تگ ودو کرتی ہیں مگر انسان کے لیے کچھ بھی نہیں.اگر ایک مچھلی پانی سے باہر آجائے تو اسے بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیلا جاتا ہے اور اب پانی میں لاشیں تیر رہیں ہیں مگر سب کی آنکھوں پر پھوڑے نکل آئے ہیں دکھائی نہیں دے رہا.
    سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے ہر بات کو ہائلائٹ کرنے کا اب اسی میڈیا پر انسانیت کو زبح کرتے ہوئے بڑے فخر سے وڈیوز ڈالی جا رہی ہیں مگر ہم دیکھ کے آگے بڑھ جاتے ہیں سوال ہم سے بھی ہو گا کہ ہم نے اپنا فرض پورا کیا.اب زرا مسلمانوں تم بھی سوچو کہ کس خوشی میں عید قرباں منا رہے ہو اپنے بھائیوں کے زبح ہونے پر یا جانوروں کے...جانوروں کے خوں کا تو پتہ نہیں مگر انسانیت کے خون کا حساب ضرور ہوگا.اس دن لہو بولے گا چنگھاڑے گا کہ ندیاں بہتی رہیں مگر کوئی مدد کو نہ آیا.انسانیت تڑپتی رہی مگر جانوروں سے محبت ہوتی رہی.انسانیت کے علمبردارو .انسانیت کے نام انسانیت کو قتل کرنے والو وہ دن دور نہیں جب تمہاری پکڑ ہوگی اللّه کی لاٹھی بے آواز ہے یاد رکھو تمہارے لیے بھی عزاب تیار ہے .بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی میانمار میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فراہمی، اب تک ۲ لاکھ مسلمان ،۳۳۰ مساجد شہید،۱۲۰۰ بستیاں نذر آتش کی گئیںآخر ان کے لیے قدم کیوں نہیں اٹھایا جا رہا ان سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے کیا یہاں بھی کشمیریوں کی طرح انڈین لوبی ہے یا کچھ اور معاملات .عالمی عدالتیں تو امن کی علمبردار ہوتی ہیں دنیا کے کسی خطے میں بھی ظلم ہو تو امن قائم کرنا انکی زمہ داری ہے مگر کیا ان تک خبر نہیں پہنچی یا یہ خود قدم اٹھانا نہیں چا رہے.
    ﺍﻟﻤﯿﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ۵۷؍ﺍٓﺯﺍﺩ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ، ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍٓﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮞﺎَﻣﺎﻥ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍُﻥ ﺑﯿﭽﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺩﮬﮑﮯ ﻣﻠﮯ۔ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺭﯾﻨﮕﯽ۔
    ۔
    ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻣﻠﮏ ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﮔﯿﺮ ﻭﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﺷﯿﺦ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﮨﯽ ﮈﮬﭩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﺠﺰﯾﺮﮦ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ’’ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﻭﮐﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﯾﮟ ﯾﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻠﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮل ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    اب ضرورت انتہائی قدم کی ہے پاکستانی فوج کو اختیار دیا جائے تا کہ وہ اپنا فریضہ پورا کرے اور ان نہتے مسلمانوں کی مدد کرئے اگر آج بھی ان مظلوموں کی مدد نہ کی گئ تو 34 مسلم ممالک کے اتحاد پر لعنت کہ وہ مل کر بھی انسانیت کی حفاظت نہ کر سکے..جیسا کہ حکم القرآن ہے.
    وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا... بنی اسرائیل﴿۳۳﴾
    قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے ، پس چاہیے کے وہ قتل میں حد سے نہ گزرے ، اس کی مدد کی جائے گی.
    یا اللّہ ہمیں توفیق دےکہ ہم ان کی مدد کر سکیں .یا اللّه رحم فرما اپنے بندوں پر...بے شک تو رحم کرنے والا ہے.