سفارش رسول اکرم ﷺ - جویریہ عشرت

اس بات میں کوئی انکار نہیں کہ زندگی میں ہر کوئی کامیابی چاہتا ہے۔ عہدہ حاصل کرنا، نام کمانا تو جیسے انسان کا سب سے بڑا خواب ہو اس میں غلط بھی کچھ نہیں۔ حال ہی کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی جو گولڈمیڈ لسٹ تھی ایف پی ایس سی میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرچکی تھی مگر دوبارہ امتحان دے رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کہنے لگی امتحان پاس کرکے انٹرویو کے لیے گئی تو بغیر میری اہلیت جانچے انٹرویور کہنے لگے آپ کی کوئی سفارش ہے۔ میں نے کہا نہیں، تو کہنے لگے کتنی قیمت دے سکتی ہیں اس سیٹ کو حاصل کرنے کے لیے؟ میں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں سوائے میری ذہانت کے، آپ سوالات تو کریں۔ جواباََ افسر نے سر ہلاتے اور فائل بند کرتے ہوئے کہا بی بی ہمارا وقت ضائع نہ کریں، ہمارے پاس اور بھی کچھ اہم شخصیات ہیں اور کمرے سے جانے کا اشارہ کیا۔

یہ ہماری زندگی کا حال ہے کہ اہلیت کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ سننے کے بعد بہت سارے سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے کہ زندگی میں معمولی سی پوسٹ کے لیے بھی ہمیں سفارش کی ضرورت پڑتی ہے اور جب ہم اس دنیائے فانی کا سفر ختم کرکے اگلے سفر پر جانے لگیں گے اور پل صراط کا فاصلہ طے کر رہے ہوں گے تو اس وقت کیا ہمیں کسی بھی سفارش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مجھے اس وقت وہ لوگ یاد آنے لگے جو کہتے ہیں کہ خدا Directly انسان کی دعا سنتا ہے کسی ولی کسی اولیاء اللہ یا کسی نبی کے وسیلے کا کوئی کام نہیں (نعوذ باللہ) یہ وہ لوگ ہیں جو معمولی پوسٹ کے لیے ہزار وں روپے رشوت دیتے ہیں اور لوگوں کی سفارش مانگتے رہتے ہیں مگر عقیدہ ختم و نبوت و رسالت پر کمزوری ہونے کے باعث اپنی نادان اور کم عقلی کو لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور قرآن پر بحث کرتے ہیں۔

مگر اس کی تفسیر یہ خود بھی نہیں جانتے جب ہمیں اس زندگی کو گزارنے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے تو سوچیے کہ اللہ کا پسندیدہ آدمی بننے کے لیے کیا تمہیں کسی کی رہنمائی، کسی کی سفارش کی ضرورت نہ ہوگی؟ کیا ہم اپنے اعمال میں اتنے پختہ ہیں کہ ہم بنا سفارش کے بارگاہِ الہٰی میں جا سکیں؟ کیا ہمارے گناہ بخشوانے کے لیے ہمیں نبی یا اولیاء اللہ کی ضرورت نہیں؟ یہ سارے سوالات تب پیدا ہوتے ہیں جب انسان اپنی نا سمجھی سے اولیاء اللہ کی اہمیت بھول جاتے ہیں جبکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ــ’’اور یہ لوگ جب اپنے آپ پر ظلم کرہی بیٹھے تو اگر یہ آپ کے پاس چلے آتے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور رسول کریم ﷺ بھی ان کے لیے مغفرت طلب کریں تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان پاتے’’ (سورۃ النساء آیت نمبر ۶۴)

یہ بھی پڑھیں:   لائن کٹ چکی تھی - اسری غوری

اس آیت مبارکہ میں رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم اور ان کے ہر قول و فعل کی اطاعت لازم ہے فرمایا گیا ہے اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھو تو نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو۔ ظلم کرنے سے مراد کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھو تو نبی کے وسیلے سے توبہ کرو مغفرت مانگو اللہ ضرور بخش دے گا۔ معتبرین کرام نے اس مقام پر لکھا ہے کہ جس طرح حضور اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ اپنی حیاتِ ظاہری میں وسیلہء نجات و مغفرت تھی اسی طرح بعد از وصال بھی آپ ﷺ وسیلہء نجات ہیں۔

حضرت علیؓ کی یہ روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے تین دن بعد اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوا اور روضہ مبارک کی مٹی اپنے سر پر ڈال کر زارو قطا ر رو نے لگا اور یہ آیت پڑھ کر عرض کی کہ اللہ کے حکم کے مطابق میں آپ کے در پر حاضر ہؤا ہوں میرے لیے دعا کیجیے کہ میرے گناہ معاف ہوجائیں وہ شخص روتا رہا کہ قبر مبارک سے آواز آئی، قد غُفِرلِک، یعنی تمہیں بخش دیا گیا۔

اس سے ثابت ہؤا کہ جس طرح نبی پاک ﷺ کی حیات طیبہ میں آپ کی بارگاہ میں جاکر دعا طلب کرتے تھے اسی طرح نبی پاک ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ ﷺ کے وسیلے سے نجات و مغفرت مانگنی چاہیے۔

حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ عمر بن خطاب ؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا، آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک تم کو میں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں (تم مومن نہیں ہوسکتے)‘‘

عمر ؓ نے فرمایا بخدا آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! اب اے عمر ؓ تم مومن ہو۔ ( صحیح بخاری)

رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کا ایک اہم اور لازم جز ہے۔ قرآن و سنت کی رو سے ضروری ہے کہ ہر شخص کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اپنی جان، مال، اہل و عیال اور دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ ہو۔ جس کا دل آپ ﷺ کی محبت اور سفارش کی کی ضرورت سے خالی ہو وہ عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔ جو تعلق جو ضرورت نبی کریم ﷺ کا مسلمانوں سے ہے اور مسلمانوں کا آپ ﷺ سے ہے اس سے کسی بھی دوسرے رشتہ کو ذرہ برابر بھی سنیت حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا اور صلہ رحمی - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ’’نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس سے زیادہ ہے جتنا لوگو کا اپنے آپ سے ہے۔ ‘‘ ( سورۃ الاحزاب۔ ۴)

ایک جگہ آپ ﷺ کی اطاعت سے انحراف یا گریز کرنے کی راہ اختیار کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ اے محمد ! ﷺ تمہارے رب کی قسم لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ ما ن لیں پھر جو فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں بلکہ فرانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ‘‘ ( سورۃ النساء آیت ۴۵)۔

اب کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں یہ آیات تو صرف نبی ﷺ کی حیات طیبہ تک تھیں مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ قرآن کی ہر آیت ہمیشہ کے لیے نازل ہوئی ہے۔ ہر زمانے ہر دور کے لیے قرآن کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمایا گیا ہے۔ گویا اطاعت رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کے مطالعے سے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی عملی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ ایمان کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضہ ہے۔

یہاں یہ اہم بات سمجھ لینی چاہیے کہ کچھ لوگ رسول ﷺ کی محبت کی آڑ میں راہ اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے بارے میں ایسے اوصاف بیان کرتے ہیں جن کا ذکر نہ اللہ تعالیٰ نے کیا اور نہ نبی ﷺ نے خود بلکہ بعض لوگ تو اس بارے میں ایسی صفات کا ذکر کرتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔ نبی ﷺ سے محبت کے دعوے کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی صفات کا ذکر کیا جائے جن سے آپ ﷺ نے خود روکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جن باتوں کا حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے اور جس سے روکا ہے ان سے رکا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ اور جو تمہیں رسول ﷺ دیں اس کو تھام لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ ‘‘ ( الحشر۔ ۷)

اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ نبی ﷺ نے ہمارے لیے ہمیشہ دعا کی ہے اور ہمیں ان کی سفارش کی ضرورت تا حیات تا قیامت رہے گی جس طرح زندگی میں اکثر اوقات عہدہ حاصل کرنے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح آخرت میں مقام حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے لیے ہمیں رسول اللہ ﷺکی سفارش کی ضرورت ہے اور رہے گی۔