قدرت کی طرف آئیے - عبدالباسط ذوالفقار

ذرا سا بیمار ہو جائیں فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اس پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں صحت یاب کردےگا۔ اگرچہ وہ خود بھی امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ بہت سے چشم امراض کے ڈاکٹروں کو بچشمِ خود چشمہ پہنے دیکھا ہے۔ گردے، معدے کے سپیشلسٹ کو "ہاضمہ پھکی" کھاتے دیکھا ہے۔ پھر دوا فروش کے ہاں سے آنے والی دوا اگر ایکسپائر ہو، صحت پر منفی اثر ڈالنے والی ہو، بنانے والوں کی ذرا سی غلطی سے موت کے منہ میں دھکیل لینے والی ہو تب بھی ہم آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں اور صحت یاب بھی ہو جاتے ہیں۔ جب ڈاکٹر دواؤں کے نام اپنے لیٹر پیڈ پر شکستہ خط میں اور ایسی زبان میں لکھ کے دیتے ہیں جسے ہم موٹے عدسے والا چشمہ لگا کے بھی نہیں پڑھ سکتے تو ہمارا یقین و اعتماد موٹا ہو کے کُپّا ہو جاتا ہے۔ ہم وہ دواؤں کی گٹھڑی بڑے وقار سے لا کر یقین کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹر خود اپنی دی ہوئی اینٹی بایوٹکس کے مضر اثرات سے باخبر ہیں۔ اور خود اقرار کرتے ہیں کہ تمام پین کلر میڈیسن (درد کش ادویات) معدے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک تازہ ریسرچ سے معلوم ہوتا ہے کہ اینٹی بایوٹکس کے زیادہ استعمال سے کینسر ہو سکتا ہے۔ سائنسی جریدے "گٹ" کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو طویل عرصہ سے اینٹی بایوٹکس لیتے رہے ہیں، ان کی بڑی آنت میں رسولیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنتوں میں پائے جانے والی رسولیوں کی نشوونما میں جراثیم کا ہاتھ ہوتا ہے۔

اس کے باوجود جب دوا ساز دوا بنا کے دیتا ہے اور ساتھ میں بتاتا ہے کہ ان اشیاء کا استعمال کرنا اور ان میں احتیاط برتنا ہے۔ ہم مکمل یقین لے آتے ہیں اور پورے خشوع و خضوع سے ان سب باتوں کی پابندی کرتے ہیں۔ مگر ہم ان سب کے پالنہار سے ڈرتے نہیں۔ اس کی قدرت پر بھروسہ نہیں کرتے، جس کے ذرائع ہوا، پانی، روشنی، اندھیرا، اجالا، گرمی، سردی ہیں۔ جن سے دنیا بنی اور چل بھی رہی ہے۔ وہ ذات تو جانوروں تک کا بھلا چاہتی ہے۔ اس لیے جب تک انسان قدرتی راستے پر رہا، قدرت کی گود میں خوشی خوشی کھیلتا رہا۔ جب قدرتی راستے کو چھوڑ کر مصنوعی ڈگر پر چلا، قدرت سے دور ہوا تو طرح طرح کے آلام نے گھیر لیا۔

فرمایا: کھاؤ اور پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو۔ بسم اللہ سے شروع تو الحمد للہ پر اختتام کرو، خوب سیر ہو کے نہ کھاؤ۔ بھوک نہ ہو تو نہ کھاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک صدیقوں کا طعام ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پیٹ بھر کے گیہوں کی روٹی نہیں کھائی۔

اسوہ رسول صلی اللہ علیہِ وسلم پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی غذا سادہ ہوا کرتی تھی۔ ہم اپنی غذا پر غور کرسکتے ہیں۔ جبکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹخارے دار اشیاء سے مسلمان کو اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے کیونکہ یہ چیزیں صحت کے لیے مضر ہیں اور جو چیزیں صحت کے لیے مضر ہوں وہ ایمان کے لیے مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔

"راجسٹ بورن" کینیڈا کا مشہور ماہر غذائیات ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ: سادہ اور تندرست کھانا صحت و تازگی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ انسانی جسم کا نظام اس کھانے کے موافق ہے جبکہ مصنوعی لذت اور لطافت کے لیے مرچ مصالحوں والی غذائیں اور مصنوعی اشیاء قطعی صحت کے لیے مفید نہیں۔

اگر انسان بیماری سے نجات اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتا ہے تو قرآن وحدیث کے ذریعے قدرت خداوندی نے غذا اور دیگر معمولات کے متعلق ہدایات دیں ان پر عمل پیرا ہو جائے تو عوارض سے بچ کر صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ حفظ صحت کے لیے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ سب سے اعلیٰ و افضل دوا یہ تجویز فرماتے ہیں کہ غموم و ہموم کو دل سے دور کیا جائے کیونکہ غم دل کا دشمن ہے تو زسنج دل کا عدو ہے۔

اگر غم کے ہوتے ہوئے تمام ڈاکٹروں معالجوں حکیموں سے بھی علاج کروایا جاتا رہے تو فائدہ نہ ہوگا۔ لیکن اگر دل خوش ہو تو بداحتیاطیاں بھی نقصان نہ دیں گی۔ حفظ صحت کےسب سے اعلیٰ اصول کو پلے باندھ لیں۔ وہ دل کی قوت اور خوشی کا محفوظ کرنا ہے اور غم ہلکا کرنے کی دوا فرمانِ نبویہ سے ملتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اپنے رفقاء کی ملاقات سے غم کو دور کرو"۔ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ رہو، اسی پر بھروسہ کرو۔ کیونکہ رضا بالقضاء قربت و بقا کی کنجی ہے۔ شہد میں شفا ہے، کلونجی 99 بیماریوں کی دوا ہے۔ عجوہ کجھور اور اس کی گھٹلی میں شفا ہے۔ اسی طرح قدرتی اشیاء کا استعمال بیماریوں سے نجات کا سبب ہے۔