مغرب زدہ مظلوم مشرقی عورت - مومنہ خان

دیکھا جائے تو مغربی تہذیب کی یلغار کا جتنا بڑا شکار عورت بنی ہے، مرد اس کا عشر عشیر بھی متاثر نہیں ہوئے۔ لباس کی مثال ہی لے لیجیے۔ وضع قطع میں گو کہ فرق آیا ہے مگر اس سے نہ تو مرد کا ستر کھلا ہے، نہ ہی وہ حدوداللہ کی خلاف ورزی میں شامل ہوا۔ البتہ عورت کے معاملےمیں ظلمِ عظیم ہوا۔ مسکین آزادی اور روشن خیالی کے نام پر خود اپنے ہاتھوں ہی کھیل تماشہ بن گئی ہے اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ یاد رہے یہاں تباہی سے میری مراد اُخروی خسارہ نہیں کہ وہ " مریں گے تب دیکھا جائے گا" تک محدود ہے۔ ہمارااصل غم توبس یہی دنیا ہے۔

مغرب نے ہماری عورت کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا۔ اخلاق و آدابِ معاشرت سے بے بہرہ مغرب نے، جو خود کسی مسیحا کا محتاج تھا، بڑی چالاکی سے بجائے اپنی اصلاح کے خود صحتمند قوم کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ آخر ان کے صحتمندہونے کا کیا جواز؟ مشرقی اور اسلامی اقدار کی حامل خاتون جو کل تک حیا کو زیور سمجھتی تھی اب یکایک خود کو قیدی سمجھنے لگے۔ کامیابی کا معیار وہ طے پایا جہاں غرب کا آنکھوں کو خیرہ کرنے والا معاشرہ کھڑا تھا۔ جب ، بقول ان کے، چاند پر کمند ڈالنے والے اس آزادی اور روشن خیالی کے نام پرعریانی اور کم لباسی کے مرض میں مبتلا ہیں تو ہمارا اس سے بچا رہنا باعثِ عار ہے، باعثِ ذلت ہے۔

پھر ہوا کچھ یوں کہ مسلمان عورت اپنے مالک کی عطا کردہ پہچان پر شرمندہ شرمندہ رہنے لگی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ فوجی اپنی خاص وردی پہننے پر شرمندہ ہو یا ڈاکٹر کے لیے اپنا علامتی اوورکوٹ پہننا باعثِ عار۔ اس کا ایک آسان حل موجود ہے وہ یہ کہ خود کو اس شعبے سے دور کر لیا جائے جس کی پہچان ہی سے آپ کوعار محسوس ہوتی ہے۔ اب اگر یہی حل مسلمان عورت پر اپلائی کروں تو متشدد کہلائی جاؤں گی کہ بہن آپ خود کومسلمان کہلانا ہی چھوڑ دیں۔ خیر جلباب کی جگہ دوپٹے نے لے لی کہ کم ازکم چہرہ دکھانے کی اجازت دی جائے کہ دنیا کو دکھا سکوں کہ میں کس قدر حسین ہوں۔ پھر رفتہ رفتہ بنتِ حوا کا لباس اس حد کو پہنچا کہ مردتو دور ایک عورت کا بھی دوسری عورت کو دیکھ کر نظر جھکانا واجب ہوا، بخدا واجب ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا بھی خیال رکھیں - عبداللہ ابنِ علی

وائے ندامت! حسن عطا کرنے والے کی اطاعت کی حدود سے نکل کر جب داد وتحسین سمیٹناچاہی تو کامیاب ہونا ایک لطیفے سے زیادہ اور کیا ہو سکتا تھا۔

تو امت کی بیٹی نے بہت بھاری قیمت ادا کی

کیا؟؟؟

مرد کی ہولناک ہوس، درندگی، آوارگی اور معاشرتی استحصال کا شکار ہوئی۔ بنت حوا شکوہ کرتی ہے کہ مرد کی نظر با حیا نہیں رہی۔ معاشرے میں میرا نکلنا دوبھر ہو گیا۔ کوئی پوچھےذمہ دارکون ہے؟ سبب کون بنا؟ مرد بیچارہ تو بس نیوٹن کے قانونِ قدرت کے تحت ری ایکشن دیتا ہے جس سے گریز ایک عام انسان کے لیے ناممکن ہے البتہ جو تقویٰ کے ساتھ ریزسٹنس پیدا کر سکے۔ یا پھر عورت کی باہمی جیلسی اور "تفاخر و تسابق بینھم" اور بس!

نہیں! بنتِ حوا کا اصل نقصان یہ ہوا کہ وہ اپنی قدر کھو بیٹھی۔ غیرمرد کے لیے تسکین کا سامان بنی۔ وہ جو سیپ کےاندر چھپا موتی تھااس نے ہر خاص و عام کی ہوس ناک نظروں سے خود کو میلا کیا اور چند سطحی ستائشی لفظوں کےعوض خود کو دھوکہ دیتی رہی اور بھول گئی کہ رب العزت کا ایک قانونِ اخلاق بھی کارفرما ہےجس کے تحت غلط کا انجام غلط ہی ہو کر رہتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ حسن کے قصیدے پڑھنے والے، دنیا میں جنت کے خواب دکھانے والے کے تیور بدل گئے۔ عام طور پر شکوہ کیا جاتا ہے دل بھر گیا، نہیں عزیزم! دل ایسے ہی نہیں بھر جاتا بلکہ یہ تو خدائی قانون حرکت میں آتا ہے جس عظیم رب کا حکم پسِ پشت ڈال کر آپ دنیا کو فتح کرنے، اپنے حسن کے بل بوتے پر محبوب کو قدموں میں کرنے نکلی تھیں، اللہ نے ٹھیک اسی کے ہاتھوں آپ کو ہزیمت میں ڈالا۔ پھر ابنِ آدم پارسائی کا علمبردار بن کے فرمان جاری کرتا ہے ، ایسی لڑکی گرل فرینڈ تو ہو سکتی ہےبیوی نہیں۔ بیوی تو بس ایسی ہو، جسے میرے سوا کسی نے نہ دیکھا ہو۔