پرخطر رواج - درّ صدف ایمان

نکاح اور شادی کے حوالے سے دور حاضر میں ان گنت مسائل پیدا ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے ایک مسئلہ ناسور کی صورت اختیار کر چکا ہے، اس کا سدباب موجود بھی ہے لیکن کوئی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ اکثریت بس اس اس میں الجھی ہوئی ہے۔ یہ لعنت ہے جہیز کی۔

جہیز دراصل عربی زبان کے لفظ "جھاز" سے نکلا ہے۔ عرف ِ عام میں جہیز کے معنی ہیں وہ سازو سامان اور زیورات جو بوقت نکاح یعنی رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد، لڑ کی کے گھر والے بوقت رخصتی دیتے ہیں۔ یعنی وہ سامان جو دلہن کی ساتھ اس کے شوہر کے گھر جاتا ہے۔ جہیز کے اصطلاحی معنیٰ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں یوں لکھے ہیں: جھاز اس سامان کو کہا جاتا ہے جو (کسی کے لئے) تیار کیا جاتا ہے اور اسی سے تجہیز ہے جس کے معنی ہیں اس سامان کو اٹھانا یا بھیجنا۔ (راغب اصفهانی، امام مفردات، القرآن)

جہیز کا رواج کیسے ہوا؟

ہندوستان میں زیادہ تر مغل فرمان روا شہنشاہ اکبر اور دکن میں سلطان محمد قلبی قطب شاہ نے مسلمانوں اورہندوؤں کو آپس میں ملانے، اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے اور یگانگت کی فضاء قائم کرنے کے لیے بہت سی ہندوانہ رسومات کو آپس میں ملالیا تھا۔ یکجہتی پیدا کرنے کی خاطر کئی رسومات اختیار کرلیں۔ نکاح اور شادی کے موقع پر رسم مہندی رت جگاہ، مایوں، مہندی، بری، چوتھی وغیرہ جن کا اسلامی تہذیب یا مسلمانوں سے کہیں وجود نہ تھا۔

انہی رسومات میں سے ایک رسم جہیز کی تھی چونکہ لڑکیوں کو اپنی جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتے تھے۔ اس لیے شادی کے وقت اکٹھا ہی جو میسر ہوسکا جہیز کے نام سے لڑکی کے حوالے کردیا۔ ہندوؤں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی آہستہ آہستہ اس رسم کو اپنالیا حتی کہ جہیز شادی کا جزو لاینفک بن گیا اور غریب والدین کے لیے مستقل درد سر۔ جس نے اب آسان دین کے آسان احکام میں اتنی تنگی پیدا کردی کہ بظاہر چھٹکارے کی کوئی صورت ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔

مقام عورت

رب تبارک و تعالی قرآن ِ کریم فرقان ِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے کہ

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اﷲُ بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ

"مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ " (النساء، 4: 34)

اس آیت کی تفسیر میں امام رازی لکھتے ہیں:

"یعنی مرد عورت سے افضل ہے کیونکہ وہ اس کو مہر دیتا ہے اور اس کا نفقہ ادا کرتا ہے۔"

دیگر مفسرین نے مال خرچ کرنے سے مراد عموماً دو باتیں ہی بیان کی ہیں کہ اس سے مراد مہر اور نفقہ ہے۔ اسلوب کلام اور الفاظ کی عمومیت کے لحاظ سے اس میں تمام قسم کے مالی اخراجات خواہ وہ نکاح سے متعلق ہوں یا گھریلو خریدو فروخت سے جو عموماً جہیز کے دائرہ میں آتے ہیں وہ سب کے سب "انفاق اموال" مال خرچ کرنے میں شامل و داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ نفقہ کے ساتھ عورت کے لیے جائے رہائش فراہم کرنا بھی مرد پر واجب ہے۔ مکان کے ساتھ لوازم مکان کی فراہمی بھی شوہر کے ذمہ واجب ہے ان چیزوں کی فراہمی پر دلہن یا اس کے سرپرستوں کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا مرد کی ذمہ داری ہے کہ گھر کا سامان تیار کرے۔

جہیز بنیادی طور پر ہندو قوم کا رواج ہے اور اس کی وجہ اس قوم کا بے ضابطہ رواج کہ وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ جہیز ہی ان کی وراثت ہے، یہ صرف اسلام کی خوبی ہے کہ عورت کو ہر ہر مقام پر عزت سے نوازا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں کہیں سے اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے لڑکی والوں سے فرمائشی جہیز مانگا ہو یا اپنا فرضی حق سمجھ کر قبول کیا ہو، یا اس کو ضروری سمجھا ہو۔

امام غزالی نے لکھا ہے جس کا تذکرہ مشکور شریف میں ہے: "حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ایک قبیلے کے پاس آئے اور انہیں پیغام نکاح دیا۔ انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ ان دونوں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا کہ ہم گمراہ تھے اللہ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی، ہم مملوک تھے اللہ نے ہمیں آزاد فرمایا اور ہم مفلوک الحال تھے اللہ نے ہمیں غنی بنایا اگر تم ہم سے اپنی لڑیوں کی شادی کرو تو الحمدللہ اور اگر نہ کرو تو سبحان اللہ۔ ان لوگوں نے کہا کہ (گھبرائو نہیں) تمہاری شادی کردی جائے گی۔ امام غزالی اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کسی نے بھی جہیز کا ذکر نہیں کیا۔ نہ مردوں نے اور نہ ہی لڑکیوں کے اولیاء نے۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جہیز یعنی گھر کے ضروری سازو سامان کا مہیا کرنا خاوند کی ذمہ داری ہے۔ " (احیاء العلوم )

طبقات ابن سعد میں صرف ایک ہار کا ذکر ملتا ہے جو رخصتی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیا:

"روایت ہے کہ ابوالعاص جنگ بدر میں مشرکوں کے ساتھ تھے ان کو عبداللہ بن نعمان انصاری نے گرفتار کیا پھر جب مکہ کے لوگوں نے اپنے قیدیوں کے فدیہ کے سلسلے میں وفد بھیجا تو ابوالعاص کے فدیہ کے لیے ان کا بھائی عمرو بن ربیع آیا۔ اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں ہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے عمرو کے ہاتھ اپنا مہروں کا ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو رخصتی کے وقت دیا تھا۔ جب آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو اسے پہچان گئے آپ کا دل پسیج گیا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا یاد آئیں اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص کو بلا فدیہ چھوڑ دیا اور زینب رضی اللہ عنہا کا ہار انہیں واپس کردیا"(الطبقات الکبریٰ،)

سنن نسائی شریف میں ہے:

"حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کیا ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ، جس میں اذخر گھاس بھرا ہوا تھا۔"

آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار صاحبزادیوں کی شادیاں کیں اور کسی کو بھی جہیز نہیں دیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دی ہوئی مہر معجل کی رقم میں سے تھا۔ اسی سے چند چیزوں کا انتظام فرمادیا، ایک چادر، ایک مشک اور ایک تکیہ اور بعض کتابوں میں ایک بستر کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مزید برآں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سرور کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچپن ہی سے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اور وہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی بھی تھے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے ان کی کفالت کرتے آئے تھے۔ اس لیے قدرتی بات تھی کہ نیا گھر بسانے کے لیے بطور سرپرست سامان کا انتظام کرتے سو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی زرہ سے یہ سامان فراہم کیا۔

یہ بات واضح ہے کہ قرآن پاک، صحاح ستہ اور معروف کتب احادیث اور چاروں فقہاء کی امہات الکتب میں باب الجہیز کے عنوان سے کوئی باب نہیں اگر کوئی شرعی حکم ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ جہاں نکاح سے متعلق دیگر احکامات تفصیلاً بیان ہوئے وہاں جہیز کا بیان نہ ہوتا۔ لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ اسلام کا دائرہ کار وسیع ہوجانے سے اور مسلمانوں کے مختلف ممالک میں پھیل جانے ور غیر مسلم اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنے کی وجہ سے بعض رسومات ان میں دانستہ یا نادانستہ پیدا ہوگئی تھیں۔ جن میں سے ایک جہیز ہے۔ اس کے مسلمانوں میں آجانے کی وجہ سے بعض متاخرین فقہاء کے فتاویٰ میں جہیز کے سلسلے میں چند جزوی احکامات ملتے ہیں۔

عند الاحناف جہیز کی بابت رائے

"حنفی فقہاء کی رائے یہ ہے کہ گھر (اور گھریلو سامان) کی تیاری خاوند کے ذمہ ہے کیونکہ ہر قسم کا خرچہ مثلاً کھانا، لباس اور رہائش کی جگہ دینا اس پر واجب ہے۔ اور گھریلو سازو سامان (جسے عرف عام میں جہیز کہا جاتا ہے) رہائش کے مکان میں داخل ہے۔ پس اس اعتبار سے گھریلو سازو سامان کی تیاری خاوند پر واجب ہوئی۔ حق مہر جہیز کا عوض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ صرف اور صرف عطیہ ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس کا نام نحلۃ (عطیہ) رکھا۔ وہ خالصتاً بیوی کی ملکیت ہے اور خاوند پر اس کا حق ہے۔ مصادر شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر گھریلو سازو سامان کی تیاری عورت کا حق قرار دیا جاسکے اور بغیر دلیل کے کبھی کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔"

عند المالکی جہیز کی بانت رائے

مالکی فقہاء کے نزدیک اگرچہ جہیز کے سامان کی تیاری عورت کے ذمہ ہے تاہم اس میں بھی یہ وضاحت ہے کہ یہ سازو سامان پیشگی رقم مہر سے بنائے گی نہ کہ اپنے ذاتی مال یا والدین کے مال سے۔ اگر خاوند کی طرف سے پیشگی کوئی رقم اس کے پاس نہ بھیجی جائے تو اس پر سامان جہیز لازم نہیں ہے۔

ہدایہ میں ہے کہ بیوی ہوتے ہوئے اس کو سکنیٰ (رہائش کے لیے مکان) کا دینا واجب ہے۔ بعد از طلاق بھی عدت کے دوران بیوی کے لیے سکنیٰ مہیا کرنا لازم ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَسْکِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ

"تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو ۔" (الطلاق، 65: 6)

ظاہر ہے جب رہنے کا مکان خاوند کے ذمہ ہے تو ایک مکان میں رہنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوسکتی ہے اور اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور سونے کے لیے جن اشیاء کا استعمال میں لانا ضروری ہے اور جن کو ہماری اصطلاح میں جہیز کہا جاتا ہے وہ بھی خاوند ہی کے ذمہ واجب ہوں گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے "صحیح یہ ہے کہ خاوند بیوی کے باپ سے کسی شے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ مال نکاح میں مقصود نہیں۔ "

الغرض جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنادینا کہیں سے بھی درست نہیں، اس سے نجات کے لیے کوشش کریں اور اس رسم کو توڑدیں، ورنہ جو نقصان ہورہا ہے اس سے ہم سب ہی واقف ہیں۔