عمر قید - عاصم محمود

کچھ لوگ قسمت کے بل بوتے پر کسی مقام تک پہنچ جاتے ہیں، کچھ اپنے بیک گراؤنڈ کی بدولت کہ جس کا سہارا مل جاتا ہے۔ کچھ اچھے بیک گراؤنڈ کے باوجود اسے خاطر میں نہیں لاتے اور میں انہی میں سے ہوں۔ میں اس کا کبھی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ آج جو کچھ بھی حاصل ہے اس کے لیے ہمیشہ بہت محنت کی۔ میں 'بائے لک' بندہ نہیں بلکہ ہمیشہ 'سیلف میڈ' رہا ہوں اور اللہ نے ساتھ دیا ہے۔

میرا شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے اور آج سے پانچ سال پہلے میرے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے بدل کر رکھ دیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ عاصم دوبارہ پیدا ہوا اور زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بطور کمپیوٹر سیکشن انچارج جاب کرتے ہوئے مجھے سات سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ میرا باس میرا پڑوسی بھی تھا، کالج فیلو بھی اور دوست بھی۔ چھ بندوں کا گروپ تھا، اور ہم سب دوست تھے اور اپنے اپنے شعبے کے انچارج بھی۔ زندگی خوب گزر رہی تھی۔

پانچ سال پہلے رمضان کے دوسرے عشرے میں مجھے کچھ گھریلو مصروفیات اور کچھ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے چھٹیاں لینا پڑیں۔ ایک شام عین افطار کے وقت میرے وہی دوست میرے گھر بن بلائے آئے۔ افطار کیا اور پھر باہر کھانے کا پروگرام بنایا۔ پھر فیصل آباد کے ایک مشہور ہوٹل میں اپنے پلان کے مطابق انہوں نے مجھے دھوکے سے گرفتار کروایا۔ تھانے لے جایا گیا اور فراڈ کے مقدمے میں بند کردیا گیا۔

اگلے روز گھر والے اور رشتہ دار اکٹھے ہوئے۔ بہت بھاگ دوڑ کی لیکن مجھے جیل بھیجنے کا آرڈر آ
چکا تھا۔ یہ سب کروانے والے دوست ہی تھے جنہوں نے کمپنی میں 80 لاکھ کا فراڈ کیا تھا اور مجھ پر 18 لاکھ روپے کے غبن کا الزام لگایا

یہ بھی پڑھیں:   کس جرم کی پائی ہے سزا - محمد جمیل اختر

تب والد صاحب نے صرف اتنا کہا کہ میں چاہوں تو تمہیں ابھی گھر لے جا سکتا ہوں لیکن یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، جس میں ہمیں صبر کرنا ہوگا۔ اللہ ہماری مدد فرمائے گا بس ہمت نہیں ہارنا۔ وقت مشکل ضرور ہے لیکن میں نہیں چاہوں گاکہ پیسے دے کر ثابت کروں کہ میرا بیٹا اس کام میں شامل تھا۔

یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ بیماری کی وجہ سے میں کچھ کھا بھی نہیں سکتا تھا اور اوپر سے قید و بند کی نئی دنیا۔ یہ میری زندگی کے تلخ ترین دن تھے جس میں ڈیڑھ مہینے تک میں نے صرف بسکٹوں پر گزارہ کیا۔ گھر سے آنے والا کھانا میں بانٹ دیتا تھا۔ عید آئی تو گھر والوں نے تسلی دی کہ عید ہمارے ساتھ گزرے گی لیکن میں نےبعد میں بڑی عید بھی جیل میں گزاری بلکہ 10 مہینے جیل میں رہا۔ پیشی پر جاتا تو ہاتھ میں ہتھکڑیاں ہوتیں۔ ابو، بھائی اور دیگر رشتہ دار بڑے حوصلے سے اپنے آنسو ضبط کرتے اور مجھے اپنا دل بہت بڑا کرکے کہنا پڑتا تھا کہ میں ٹھیک ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔

دس ماہ میں زندگی جینے کا ایک نیا رنگ اور ڈھنگ سیکھا۔ سیکھا مجبوریوں میں جینا اور صبر کرنا۔ اس دوران امی شدید بیمار ہوئیں، ان کے دماغ کی نسیں کمزور ہوگئی تھیں اور وہ سیریس حالت میں ہسپتال میں داخل تھیں اور مجھے کسی نے نہیں بتایا۔

پھر وہ وقت آیا جب ہائی کورٹ نے میرے حق میں فیصلہ دیا، مجھے بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا۔ میں گھر آ گیا لیکن وہ پرانا عاصم کہیں کھو چکا تھا۔ سب کچھ بدل چکا تھا لیکن اللہ نے ہمت دی اور باہر آ کر بھی کئی امتحانوں سے گزرا۔

آج الحمد للہ باعزت روزگار ہے، سب کچھ ہے، بس کچھ تلخ یادیں ساتھ رہتی ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وہ دوست جنہوں نے چند ٹکوں کے لیے یہ سب کچھ کیا،ان کے گھروں میں فساد ہیں۔ بھائی، بھائی کا دشمن ہے، کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جب مجھے پتہ چلا کہ ان کے یہ حالات ہیں تو عورتوں اور بچوں کا خیال رکھتے ہوئے کچھ مدد کی کیونکہ میں نے معاملے کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔ لیکن وہ آج بھی اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں اور ایک وقت کے کھانے کو ترس رہے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری ناجائز قید تو دس ماہ کی تھی، لیکن وہ کب اور بھگتیں گے؟ شاید عمر بھر!

ٹیگز