دستور کی دفعات 62-63 پر بےجا تنقید - ڈاکتر محمد مشتاق احمد

جاوید ہاشمی اور ان کے ہم نوا غلط کہتے ہیں.
ہر شخص دستور کی دفعات 62-63 میں مذکور شرائط پر پورا اترتا ہے جب تک اس کے خلاف عدالت میں یہ ثابت نہ کیا جائے کہ وہ ان میں سے کسی شق پر پورا نہیں اترتا. سیدھی سی بات ہے. پتہ نہیں کیوں دوستوں کی سمجھ میں نہیں آتی.

اس تنقید کے دو پہلو ہیں:
ایک یہ کہ ان دفعات میں مذکورہ معیارات پر کسی کی صداقت یا امانت کا جانچنا ممکن نہیں ہے؛
دوسرا یہ کہ یہ دفعات ایک جرنیل نے سیاست دانوں کو مطعون کرنے کے لیے دستور میں داخل کرائی تھیں۔

پہلا دعوی تو محض مبالغہ ہے اور اس کی لغویت ہم ایک اور مقام پر واضح کرچکے ہیں۔ فی الوقت اس پر تبصرے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
دوسرے دعوے کی حقیقت جانچنے کے لیے اس حقیقت پر غور کریں کہ جس جرنیل نے یہ دفعات دستور میں داخل کرائی تھیں اسے مرحوم ہوئے آج ٹھیک 28 سال اور 11 ماہ پورے ہوگئے ہیں۔ اگر اتنے طویل عرصے میں سیاست دان ان دفعات کو ختم یا تبدیل نہیں کراسکے تو پھر دوسروں سے گلہ کاہے کا؟

یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کسی نے سیاست دانوں کو ایسا کرنے نہیں دیا۔
1997ء میں جب میاں محمد نواز شریف صاحب بھاری مینڈیٹ کے ساتھ آئے (وہ بھاری مینڈیٹ جو کچھ ہی عرصے میں metamorphosis کے نتیجے میں "بھاری مینڈک" بن گیا) تو انھوں نے اسی سال دستور میں دو ترامیم کیں:
تیرھویں ترمیم کے ذریعے دفعہ 58، ذیلی دفعہ 2 کی شق بی کا خاتمہ ، جس کے ذریعے صدر سے یہ اختیار چھین لیا گیا کہ وہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیر قومی اسمبلی تحلیل کراسکے؛
اور چودھویں ترمیم کرکے انھوں نے دفعہ 63 میں، جی ہاں دفعہ 63 میں ہی، یہ اضافہ کیا کہ پارٹی وفاداری تبدیل کرنے والا ایم این اے نااہل ہوجائے گا۔
میں فی الوقت اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ ان دونوں ترامیم کا "جامع نتیجہ" کیسے نواز شریف صاحب کی ڈکٹیٹرشپ کی صورت میں نکلا۔
میں صرف یہ بتا رہا ہوں کہ ان دو دستوری ترامیم کے منظور کرانے میں پارلیمنٹ نے چند ہی لمحے لگائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   تمثیلی کالم نگاری - مفتی منیب الرحمن

دوسری دفعہ سیاست دانوں کے پاس یہ موقع 2010ء میں اٹھارھویں ترمیم کے وقت آیا جب انھوں نے پورے دستور کی overhauling کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ اس دوران میں جنرل مشرف نے ایل ایف او کے ذریعے دفعہ 62 میں یہ اضافہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے بی اے کی شرط ہوگی اور اس ایل ایف او کو سترھویں ترمیم کے ذریعے دستور میں داخل کیا گیا تھا۔ جی ہاں ، یہ بھی یاد کیجیے کہ سترھویں ترمیم کو امامِ سیاست سمیت کئی سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کی آشیرباد سے ہی منظور کیا گیا تھا!
بہرحال، اٹھارھویں ترمیم کے وقت بی اے کی شرط والی شق ختم کردی گئی لیکن "صادق و امین" والی شقیں رہنے دی گئیں۔
اب فریاد کے لیے کیا گنجائش رہ گئی ہے؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں