جذبہ سرفروشی کا دن - محمد حسان

رات کی تاریکی کا آخری پہر، سڑکوں پر ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور فضا میں دوڑتے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کا شور، ماحول میں ایک عجیب پر اسراریت اور خوف طاری تھا۔ سوئے ہوئے لوگ ہڑ بڑا کر اٹھنے لگے۔ کمروں میں ٹیلی فون، موبائل کی گھنٹیاں بج رہی تھی۔ جاگنے والے سوئے ہوؤں کو اٹھانے میں مصروف۔گھروں میں لوگ حیران پریشان ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ انجانے اندیشوں سے دل کی دھڑکنیں مدھم پڑتی جارہی تھی۔ یہ اندیشے، وسوسے اور خوف ان کی اپنی ذات کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے ملک اور ریاستی نظم کے بارے میں تھے۔ ان کے پاس فیصلے کے لیے بہت سے گھنٹے یا دن نہیں بلکہ چند لمحے ہی تھے، اور پھر انہوں نے فیصلہ کرنے میں لمحوں کی دیر بھی نہ کی۔ پوری قوم چند ساعتوں میں فیصلہ کرچکی تھی، ایک بڑا اور تاریخ ساز فیصلہ۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی گھروں میں روشنیاں جلنے لگیں جیسے صبح بیداری کا وقت ہو، دروازے کھلنے لگے، اور ہر کوئی باہر گلیوں اور سڑکوں پر نکلنے کا عزم کر چکا تھا۔

انقرہ کی یونیورسٹی کا ڈین اپنے کمرے سے نکلا، وہ بھی فیصلہ کرچکا تھا کہ ساتھ والے کمرے سے بیٹی نکل آئی، بابا آپ کہاں جارہے ہیں؟ محبت کرنے والے والے باپ نے بیٹی سے نظریں پھیرتے ہوئے پرعزم لہجے میں کہا کہ مجھے ملک کی خاطر باہر نکلنا ہوگا، اور بیٹی جو خود پہلے ہی یہ عزم کرچکی تھی، مسکراتے ہوئے باپ کے ساتھ ہو لی۔ ساتھ والے گھر میں ایک نوجوان اپنے والدین سے نظرین بچا کر دبے پاؤں گھر کے صحن میں پہنچا تو تو اس کے ماں باپ دونوں ہی اس سے دو قدم آگے باہر نکلنے کے لیے دروازہ کھول رہے تھے۔ تقریباً ہر گھر میں ایسے ہی ملے جلے مناظر تھے۔ اسلامی پارٹی کے سربراہ بھی اکیلے سڑک پر نکل آئے، ان کے کارکنان انھیں دیکھ کر پر جوش ہو نے لگے۔ دوسری گلی میں سیکولر دانشور بھی چلے آرہے تھے۔ لوگ گلیوں میں ایک دوسرے کو دیکھتے مسکراتے ہاتھ لہراتے اور اثبات میں سر ہلاتے، گویا ایک دوسرے کے اس بروقت اور جرات مندانہ فیصلے کی تحسین کر رہے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’ترکوں کے دیس میں‘‘ (2) – احسان کوہاٹی

ان سب کی آنکھوں میں خواب تھے۔ ملک کے امن ترقی خوشحالی کے خواب۔ کسی نے جمہوریت کا اور کسی نے سیکولر ریاست کا خواب سجایا تھا۔ کوئی اسلامی اقدار کا محافظ اور اسلامی نشاط ثانیہ کا بہی خواہ تھا۔ خلافت عثمانیہ کی بحالی کا خواب۔ ان سب خوابوں کی تعبیر اس وقت باہر نکلنے میں تھی، اپنے محبوب صدر کی آواز پر لبیک کہنے اور فوجی آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے میں تھی۔ سب انھی خوابوں کو پلکوں میں سجائے اپنا ملک بچانے کے لیے اپنے جسم کی قربانی دینے چلے آئے تھے۔

صرف چند لمحوں میں ساری قوم سڑکوں کی طرف رواں دواں پر تھی۔ جبکہ سڑکوں پر ٹینک تھے اور فضا میں گن شن ہیلی کاپٹروں کی طرف سے فائرنگ ہونے لگی تھی۔ جمہوریت کی خاطر ٹینکوں کے آگے لیٹ جانے کا حیران کن منظر آج کی دنیا میں بالکل اچھوتاتھا، جذبہ عشق و مستی کا نہیں، انھیں رکنے نہیں دے رہا تھا، وہ دیوانہ وار مقتل گاہ کی طرف دوڑتے چلے جا رہے تھے۔ اچانک گولیاں برسنے لگیں۔ جسموں سے خون کے فوارے چھوٹے، مگر نہتے جسم سنگینوں سے ٹکرا گئے۔

کچھ ہی دیر بعد صبح کی سپیدی بھی نمودار ہو چکی تھی۔ سڑکوں پر بہتے گرم خون کی سرخی نمایاں دکھائی دینی لگی، مگراب گولیوں کی تڑٹڑاہٹ ختم ہوچکی تھی۔ کچھ لمحوں کے لیے گویا فضا میں گہرا سکوت سا ہو گیا ہو۔ ٹینکوں پر چڑھے پرجوش عوام جیت چکے تھے، سڑکوں پر فوجی بوٹ ہیلٹ اور وردیاں آمریت کی شکست کا ماتم کرتی عبرت کی تصویر بنی پڑی تھی۔ فلک شگاف فاتحانہ نعروں کے بیچ بچھڑنے والے شہدا کا غم لیے دبی سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھی۔
صبح نمودار ہو چکی تھی۔
خوابوں کو تعبیر مل چکی تھی۔!
یہ ترکی میں 15 جولائی 2016ء کا دن تھا۔
یہ جذبہ سرفروشی کی عظمت کا دن تھا۔!