”داغ دل ہم کو یاد آنے لگے“ نصرت جاوید

ساون کے مہینے میں آپ کے جسم پر جوانی کے دنوں میں لگے ہوئے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ 1992ءکی سردیوں میں رات گئے The Nationاسلام آباد کے دفتر سے گھر لوٹ رہا تھا تو چند ”نامعلوم افراد“ نے ویران سڑک پر مجھے اپنی گاڑی روکنے پر مجبورکردیا۔ گاڑی رُکتے ہی نجانے مجھے گاڑی سے کیسے باہر نکال کر زبردست ”پھینٹی“لگائی گئی۔ ہوش آیا تو خود کو پمزہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک بستر پر لیٹے ہوئے پایا۔
زخموں اور مسلسل خون بہنے سے بے ہوش ہوگیا تھا۔ میری خوش نصیبی کہ چند راہگیروں نے دیکھ لیا۔ زخم تو مندمل ہوگئے مگر بائیں کندھے کی ہڈی میں عمر بھر کے لئے کریک آگئے۔ ساون آتا ہے تو یہ زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ درد کی شدت سے زبان سوکھنا شروع ہوجاتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا ہے۔ ماتھے پر مسلسل پسینہ۔ درد کی شدت سے اُکتا کر نیم حکیم بنا Pain Killersلیتا ہوں تو پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔دہی سے گزارہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔ بالآخر اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہتا کہ فزیوتھراپیسٹ کے پاس جاکر تین سے چار سیشنزکے ذریعے خود کو زندگی گزارنے کے لئے بحال کیا جائے۔
ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے بچپن ہی سے وحشت رہی ہے۔ دُعا میری مسلسل ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ میرے چلتے پھرتے ہی موت کا فرشتہ وقتِ معین پر آئے اور اپنا کام کرجائے۔ کسی طویل بیماری میں مبتلاہوکر ہسپتال کے بستر پر تڑپ تڑپ کر جان دینے سے بہت خوف آتا ہے۔
میرے صحافی دوستوں کا ابھی تک اصرار ہے کہ میرے ساتھ ”حادثہ“ نہیں ہوا تھا۔ ”نامعلوم افراد“ کسی ”ایجنسی“ کے تھے اور میں نے نواز شریف کی پہلی حکومت کے بارے میں مسلسل منفی باتیں لکھتے ہوئے انہیں اشتعال دلایا تھا۔ میرا اصرار اگرچہ ہمیشہ یہ رہا کہ میرے ساتھی مجھے آزادی¿ صحافت کا ”ہیرو“ بنانے کے لئے افسانے گھڑتے ہیں۔ دو ٹکے کا رپورٹر ہونے کے ساتھ زندگی سے پیار کرنے والا پیدائشی بزدل بھی ہوں۔ مجھے ”شہید صحافت“ کہلانے کا ہرگز کوئی شوق نہیں۔
خود کو ”ہیرو“ تصور کرنے کے لئے اس وقت مگر دل بہت مائل ہوا جب ہمارے ملک کے ایک بہت ہی تجربہ کار افسر جو بالآخر ایوانِ صدر میں بٹھائے گئے تھے،جی ہاں غلام اسحاق خان صاحب نے میری صحت یابی کے بعد مجھے اپنے دفتر بلایا اور میرے ساتھ ہوئے ”واقعہ“ پر دُکھ کا اظہار کیا۔ میرے سسر مرحوم نے ان کے ساتھ طویل عرصے تک وزارتِ منصوبہ بندی میں کام کیا تھا۔ اسی تعلق کی وجہ سے غلام اسحاق خان صاحب نے میری شادی کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔ میں اگرچہ دل سے اس ”بابے“ کو اقتدار کے کھیل کا بہت ہوشیار شاطر سمجھتا تھا۔ سرجھکائے ان کی شفقت کو وصول کیا مگر ان کے دفتر سے گھر لوٹتے ہوئے دل میں یہ بھی طے کرلیا کہ اس وقت کا صدر جس کے پاس ایک وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا آئینی اختیار بھی تھا محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے بعد اب نواز شریف کی پہلی حکومت کو بھی گھر بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔
اسی ملاقات کی بدولت میں 1993کی ابتداءہی سے پہلی نواز حکومت کے بارے میں ”صبح گیا یا شام گیا“ والا تصور پھیلاتی کہانیاں اور کالم لکھنا شروع ہوگیا۔ ان تحریروں کی وجہ سے کافی جسمانی تو نہیں البتہ ذہنی اذیتیں برداشت کرنا پڑیں۔ بالآخر اس سال کے اپریل میں پہلی نواز حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے شدید الزامات لگاکر گھر بھیج دیا۔ ان کے خلاف مقدمات کی تیاری کے لئے روئیداد خان صاحب کو احتساب وغیرہ کی ذمہ داری ملی۔ میر بلخ شیرمزاری قائم مقام وزیراعظم بنائے گئے۔ اپنے عہد ے کا حلف اٹھانے کے لئے وہ مجھے اپنے ہمراہ گاڑی میں بٹھاکر ایوانِ صدر تشریف لے گئے تھے۔
اپنی حکومت کی برطرفی کے خلاف نواز شریف مگر سپریم کورٹ چلے گئے۔ خالد انور نام کے وکیل جن کا نام میں نے کبھی نہیں سنا تھا،ان کے وکیل تھے۔ تھوڑی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ موصوف ایک سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی کے بیٹے ہیں۔ بنیادی طورپر کارپوریٹ معاملات کے وکیل تصور کئے جاتے ہیں۔ آئینی معاملات کی انہیں خاص سمجھ نہیں۔ غلام اسحاق خان کا کیمپ اسی لئے بہت مطمئن نظر آتا تھا۔
ان کے اطمینان کا بنیادی سبب عدالت ہی کی بنائی وہ نظیر تھی جو اس نے غلام اسحاق خان کے ہاتھوں محترمہ بے نظیر کی پہلی حکومت کی برطرفی کو جائز ٹھہراکر بنائی تھی۔ دوسری وجہ شریف الدین پیرزادہ کی عطا کردہ”معاونت“ تھی جن کے ایک لائق وہونہار شاگرد، عزیز اے منشی،نواز حکومت کی برطرفی کا دفاع کررہے تھے۔ عدالت کا ماحول مگر یکسر مختلف نظر آتا تھا۔جسٹس نسیم حسن شاہ چیف جسٹس تھے۔ وہ خالد انور کو بہت جان دار لقمے دے کر اپنا کیس مزید زور داربنانے میں آسانیاں فراہم کرتے۔ خالد انور کی انگریزی پر گرفت اور فصاحت نے بھی عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرنے والوں کو ششدر کردیا۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہی ایک معزز جج صاحب کا بیٹا ایک حادثے میں فوت ہوگیا۔ وہ جج صاحب اپنے فرزند کو دفنانے کے فوری بعد بنچ پر واپس تشریف لے آئے۔ دورانِ سماعت ایک مرتبہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ:
"Corruption Charges are not Enough for Dismissing an Elected Government"
(محض کرپشن کے الزامات ایک منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے کافی نہیں)
بالآخر روزانہ کی بنیاد پر ہوئی تیز ترین سماعت کے بعد نواز حکومت کو بحال کردیا گیا۔سپریم کورٹ نے پہلی نواز حکومت کی بحالی کے لئے جو فیصلہ لکھا وہ آج بھی اس وقت کے سپیکر گوہر ایوب خان کے حکم پر پارلیمان کی راہداریوں میں نمایاں طورپر کندہ ہوا نظر آتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس فیصلے نے جسٹس منیر کے متعارف کروائے ”نظریہ ضرورت“ کو ہمیشہ کے لئے دفن کرکے تاریخ بنا دی ہے۔ عدالتیں اب سول اینڈ ملٹری Oligarchyکے احکامات کی تعمیل کی بجائے منتخب حکومتوں کو تحفظ فراہم کیا کریں گی۔
یہ الگ بات ہے کہ اس فیصلے کے صرف تین سال بعد ہی جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ان ہی کے بنائے صدر فاروق خان لغاری نے فارغ کیا تو یہ ”تاریخی“ فیصلہ برطرف حکومت کے کوئی کام نہیں آیا۔ سجاد علی شاہ کے سپریم کورٹ نے اس برطرفی کو جائز ٹھہرایا۔ بعدازاں ہمارے سپریم کورٹ نے اکتوبر1999ءفوجی ٹیک اوور کو جائز ٹھہراکر ”نظریہ ضرورت“ کو بھی زندہ کردیا۔
نظریہ ضرورت کا احیاءکرنے والے ”مسیحاﺅں“ میں افتخار چودھری بھی شامل تھے۔ بعدازاں انہیں جب جنرل مشرف نے کرپشن کے الزامات کے تحت فارغ کرنا چاہا تو عدلیہ بحالی کی تحریک پھوٹ پڑی۔ میں بدنصیب بھی اس تحریک میں اپنا حصہ ڈالنے پر مجبور ہوا۔ اس فیصلے کی سزا بھی بھگتی۔
جنرل مشرف نے افتخار چودھری سے نجات پانے کے لئے نومبر2007میں ایک اور مارشل لاءلگادیا۔ انتخابات کے بعد وہ تو ایوانِ صدر سے رخصت ہوگئے مگر ان کی جگہ آنے والے آصف علی زرداری موصوف کی بحالی کو تیار نہ ہوئے۔ بالآخر نواز شریف نے لاہور سے نکل کر راولپنڈی جانے کافیصلہ کیا۔ وہ ابھی گوجرانوالہ پہنچے تھے کہ چودھری اعتزاز احسن کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کا فون آگیا۔ افتخار چودھری کی بحالی کا فیصلہ ہوگیا۔ میاں صاحب لاہور واپس چلے گئے۔
ان دنوں ہمارے سپریم کورٹ میں ایک بار پھر”تاریخ“ بنائی جارہی ہے۔ میری بدقسمتی کہ یہ تاریخ ساون کے مہینے میں بن رہی ہے جس میں پرانے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ اپنے جسم پر لگے زخموں کی تکلیف نے ”داغ دل ہم کو یاد آنے لگے“جیسا کالم لکھنے پر مجبور کیا ہے اور اب وقت ہوا چاہتا ہے میرے فزیوتھراپی سیشن کا۔ آپ سے رخصت لینا ہوگی۔