بوجھو تو جانیں- عطا ء الحق قاسمی

کئی دفعہ یہ اتفاق ہوا کہ کسی دوست کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اس کے جواب میں گھر کے آخری کمرے سے کسی آواز نے سفر کا آغاز کیا اور مختلف کمروں سے ہوتی ہوتی یہ آواز باہر دروازے تک پہنچتے پہنچتے بالکل نحیف ہو گئی، اتنی نحیف کہ پتا نہیں چلتا یہ نحیف سی آواز کون ہے کیونکہ یہ ون ورڈ پر مبنی ہوتی ہے۔ اس مبہم سی ’’کون‘‘ کے جواب میں میں بھی اپنی آواز آخری کمرے تک پہنچانے کے لئے حلق کی پوری قوت سے اتنا ہی مبہم جواب دیتا ہوں اور کہتا ہوں ’’میں‘‘۔ اس پر ایک بار پھر گھر کے دوسرے کونے سے ایک آواز سفر کرتے کرتے پہنچتی ہے’’میں کون‘‘ جواباً عرض کرتے ہیں’’میں اسلم کا دوست‘‘ اس پر پھر پوچھا جاتا ہے ’’اسلم کا دوست کون؟‘‘ اور پھر میں باامر مجبوری اپنا نام بتاتا ہوں حالانکہ ان تمام مراحل سے گزرنے کی بجائے دروازے پر دستک ہونے پر دروازے تک جایا جا سکتا ہے اور جھانک کر دیکھا جا سکتا ہے کہ باہر کون ہے۔ لیکن ایک تو یہ طریقہ سہل بہت ہے دوسرے اس پر وقت بہت خرچ ہوتا ہے۔ تیسرے اس میں فریقین کے لئے جھنجھلاہٹ کی گنجائش نہیں رہتی اور یوں یہ طریقہ ہماری قوم کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ہم لوگ بنیادی طور پر مشکل پسند واقع ہوئے ہیں لہٰذا ہم لوگ اس کی بجائے
کون؟
میں۔
میں کون؟
اسلم کا دوست؟
اسلم کا دوست کون؟
والا پروسیجر ہی اختیار کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ طریقہ طویل ہے لیکن ایک دفعہ دانتوں تلے پسینہ تو آ جاتا ہے۔ یہ معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ہم لوگ جب کسی کو ٹیلی فون کرتے ہیں تو اس کے لئے بھی کچھ ایسے ہی ’’مرحلہ وار پروگرام‘‘ پر عمل کیا جاتا ہے یعنی ادھورا نام بتایا جاتا ہے تاکہ ایک تو ذہن پر زور ڈالنے کا موقع مل سکے اور دوسرے نہ پہچاننے کی صورت میں مخاطب کا یہ فقرہ سنا جا سکے کہ ’’اچھا ہن پہچاندے وی نئیں‘‘ میرے ساتھ ایسے کئی دفعہ ہوا کہ میں سفر سے واپس آیا تو بیگم نے ایک فہرست تھمائی کہ ان لوگوں کے فون آئے تھے۔ یہ فہرست لوگوں کے ناموں کی بجائے ناموں کے مخفف پر مبنی ہوتی ہے۔ روحی، زیبا، شریف وغیرہ سو کچھ پتا نہیں چلتا کہ روحی کون ہے جناب روحی کنجاہی ہیں یا روحی بانو ہیں؟ حضرت زیبا ناروی ہیں یا زیبا محمد علی ہیں؟ چنانچہ میں احتیاطاً ان سب کو جوابی فون کرتا اور لیڈیز فرسٹ کے اصول کے مطابق پہلے لیڈیز سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے تو یاد نہیں فرمایا تھا؟
ذہنی آزمائش کے یہ سلسلے یہیں ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ان کی رسی بہت دراز ہے یعنی مجھے جو خطوط ملتے ہیں ان میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن میں بہت اپنائیت کا اظہار ہوتا ہے اس پر میں فوراً خط کے آخری حصے تک جا پہنچتا ہوں تاکہ پتا تو چلے کہ یہ کون دوست ہے جو اس زمانے میں اتنی محبت کا اظہار کر رہا ہے لیکن نیچے اس دوست نے اپنا نام لکھنے کی بجائے اپنے دستخط کئے ہوتے ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں دستخط ہمیشہ ’’عبرانی‘‘ زبان میں کئے جاتے ہیں سو کچھ پتا نہیں چلتا کہ یہ مہربان کون ہے جو اس قدر نامہربان ہے کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے بھنبھل بوسے میں ڈال دیا ہے؟ سو اس ذہنی خلفشار سے نجات پانے کے لئے موصوف کو خط لکھنا پڑتا ہے جس کے لفافے پر ان کا صرف ایڈریس لکھا جاتا ہے۔ نام نہیں کیونکہ نام معلوم کرنے کے لئے تو خط لکھا گیا ہوتا ہے......
گزشتہ دنوں ایک بزرگ میرے دفتر آئے، کام کرتے ہوئے میری نظر ان پر پڑی تو دیکھا کہ وہ سیدھے کھڑے ہیں اور گردن کو ذرا خم دے کر نظریں مجھ پر جمائے زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ یوں دیکھ رہے ہیں جیسے آزما رہے ہوں کہ دیکھیں ہمیں پہچانتا ہے کہ نہیں؟ میں نے انہیں غور سے دیکھا، ذہن پر زور دیا مگر کچھ یاد نہ آیا۔ اس پر ان کی مسکراہٹ میں اضافہ ہو گیا لیکن اب اس مسکراہٹ میں تھوڑا سا شرمندگی کا عنصر بھی تھا جو کہ ایسے مواقع پر فطری طور پر محسوس ہوتی ہے بالآخر انہوں نے اپنے ہونٹ کھولے اور کہا ’’آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟‘‘ میں نے ندامت سے جواب دیا، ’’نہیں‘‘۔ بولے ’’میں 1933ء میں ایم اے او کالج امرتسر میں آپ کے والد صاحب کا شاگرد تھا‘‘۔ یہ سن کر میری شرمندگی میں اضافہ ہو گیا اور میں نے جی ہی جی میں اپنے حافظے کو کوسا کہ میری پیدائش سے بھی بیس برس پہلے جو صاحب ہمارے والد کے شاگرد تھے افسوس میں انہیں پہچان نہ سکا۔ اس طرح کی مثالیں اور بھی بہت ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کہ پہچاننا کتنا مشکل ہے۔ ایک اور بات کا بھی پتا چلتا ہے اور وہ یہ کہ ہم لوگ پہچان کے بحران کا شکار ہیں اور اس حد تک شکار ہیں کہ بسا اوقات اپنی پہچان کرانے کے لئے اپنی عقل گم کر بیٹھتے ہیں ۔سو گزشتہ کئی برسوں سے دوستوں دشمنوں کے چہرے پہچاننے مشکل ہو گئے ہیں، آپ افراد کو تو چھوڑیں اب تو قوم کی شکل بھی نہیں پہچانی جاتی....!