بچپن کی تفریح کے قومی مزاج پر اثرات - بشارت حمید

انسان کی تربیت میں سب سے اہم وقت بچپن کا ہوتا ہے اگر اس وقت والدین اور ماحول کردار سازی کے لئے صحیح رخ مہیا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو شخصیت سازی کا رخ بھی عمومی طور پر درست رہتا ہے۔ لیکن ہمارے بچپن میں ان باتوں پر توجہ دینے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ گلی محلوں میں گھوم پھر کر کھیلنے والے بچے کھیل ہی کھیل میں غلط باتوں کو بھی صحیح خیال کرتے ہوئے اپنا لیتے ہیں اورپھر ساری عمر اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔

مثال کے طور پر پتنگ بازی کے کھیل میں کٹی ہوئی پتنگ کو "لوٹنا" اس کا حق سمجھا جاتا ہے جو اس کو پہلے گانٹی ڈال لے۔یہ حق کہیں لکھا ہوا نہیں ہے لیکن معاشرے میں یہ غیر اعلانیہ طور پر نافذ شدہ حقیقت ہے۔ بظاہر تو یہ ایک تفریحی کھیل لگتا ہے لیکن غور کریں تو اس کے ذریعے بچپن سے ہی کیا ذہن سازی ہو رہی ہے کہ جو مال گرا پڑا ہے سب سے پہلے بھاگ کر اسے جھپٹ لو تو وہ تمہارا ہی ہے۔

اسی طرح سڑک سے گزرنے والی گنے کی ٹرالیوں کے پیچھے بھاگ کر چوری گنے کھینچنا بھی اسی خود ساختہ حق کے تحت جائز سمجھا جاتا ہے۔ اگر کہیں گنے کی ٹرالی خراب کھڑی ہو یا راستے میں کہیں الٹ جائے تو لوٹ مار کرنے والے بمعہ اہل و عیال وہاں کارروائی ڈالنے پہنچ جاتے ہیں۔ جس طرح ہمارے مال سے اس طرح کوئی تھوڑی سی بھی چوری کرے تو ہم برداشت نہیں کرتے اسی طرح یہ گنا بھی کاشتکار کی خون پسینے کی کمائی ہے اور اس کی اجازت کے بغیر اس میں سے تھوڑا سا بھی کچھ اٹھانا حرام اور ناجائز ہے۔

اپنے بچوں کو سکھانے کی چیز یہ ہے کہ اگر کوئی شے تم نے خود نہیں خریدی یا تمہیں کسی نے تحفے میں نہیں دی تو وہ تمہاری نہیں بنتی۔ اسے اصل مالک تک پہنچاؤ یا پھر اسی جگہ پڑی رہنے دو۔

یہ بھی پڑھیں:   جنگل کا پھول - ام محمد سلمان

بچپن کے بظاہر بے ضرر نظر آنے والے کھیل شخصیت سازی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہی بعد میں ہمارا قومی مزاج بنتا ہے اس لئے والدین کو بچوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے ورنہ بڑے ہو کر بھی ہر گری پڑی اور لاوارث شے دیکھ کر اسےلوٹنا اپنا حق سمجھیں گے اور انہی میں سے پھر جو صاحب اقتدار نکلیں گے وہ قومی خزانے کو بھی لاوارث سمجھ کر وہی سلوک کریں گے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں