نواز شریف لڑنا جانتا ہے، آپ کھانا کھائیے! حافظ یوسف سراج

میاں نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کیس کے کچھ پہلو تو وہ ہیں، جن پر مخالفین اور حامیوں کےٹی وی ٹاک شوز کی رونق اور سوشل میڈیا کی رنگا رنگی قائم ہے۔ افسوس تعصب اور وابستگیاں انسانوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اور آگے بڑھنے کے امکانات کھا جاتی ہیں، ورنہ اس کیس میں اتنا کچھ ہے کہ جسے نظرانداز کرنا، اچھائی، امید اور بہتری کو نظرانداز کر دینے کے مترادف ہے۔ پارٹی بازی کا بدترین پہلو یہ ہے کہ ایک آزاد انسان بھی آزاد نہیں رہتا، وہ اپنی سوچ و فکر اور اپنا وجود لاشعوری طور پر اپنے لیڈر کو بےقیمت بیچ ڈالتا ہے۔ ایسا انسان اپنی عقل اور صاف نظر آتے دلائل کا تجزیہ کرتے ہوئے درست بات تک پہنچنے اوراسے قبول کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ آنکھیں بند کر کے اپنے لیڈر کی ہر بات پر ایمان لانا اور اپنے لیڈر کے مخالفین کی ہر بات رد کرنا اپنا معمول بنا لیتا ہے۔ یوں اچھے خاصے انسان فواد چودھری، دانیال عزیر اور طلال چودھری بن کے رہ جاتے ہیں۔ اسی بےدام بندگی کے تحت لوگوں کا یہ عقیدہ بن چکا ہے کہ ان کے لیڈر دیوتا یا ولی اللہ ہیں، کہ جن سے کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اور ان کے مخالفوں سے کبھی کوئی اچھائی واقع نہیں ہوتی۔ اسی اندھی عقیدت اور پارٹی بازی میں سچائی ہمیشہ گم اور حقیقت ہمیشہ قتل ہو کے رہ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لیڈر پورے اعتماد سے عوام کو بے عقل بھیڑ بکریاں گردانتے ہوئے جو جی میں آتا ہے کہتا اور کرتا چلاجاتا ہے، کیونکہ اس کے ہر عمل کے دفاع پر اس کے لاکھوں ووٹرز اورنوازے گئے سینکڑوں صحافی موجود و مقرر رہتے ہیں۔

اس عام روش سے ہٹ کر دیکھنا ویسے تو گناہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر ہم یہ گناہ کرسکیں، اور یہ سب کچھ پیچھے دھکیل کر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو میاں صاحب کا کیس دونوں اعتبار سے ایک مضبوط کیس ہے۔ اس کیس کی مضبوطی یہ ہے کہ یہ واحد کیس ہے جو حکومت میں موجود ایک وزیراعظم کیخلاف عدالت میں دائر کیاگیا ہے اور وزیراعظم نے ملک کا سربراہ رہتے ہوئے جس کا دفاع کرنا ہے۔ یہ ایسی آئیڈیل صورتحال ہے، جو آج سے پہلے کسی پاکستانی کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے جتنے بھی ایسے کیس دائر ہوئے، وہ اولاً تو عام عدالتوں کے بجائے، حکومتوں کے بنائے خصوصی احتساب کمیشنوں وغیرہ میں دائر ہوئے، یا ثانیاً وہ ڈکٹیٹروں نے احتساب کے نام پر سیاستدانوں کو اپنی حمایت پر مجبور کرنے کے لیے دائر کیے، یا پھر حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بدنیتی سے قائم کیے۔ ہر صورت میں یہ طاقت ور فریق کے کمزور فریق کے خلاف انتقامی مقدمات ہوتے تھے۔ لیکن خوش قسمتی سے نواز شریف کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

دوسری بات یہ کہ یہ کیس ملک میں بنائے ہی نہیں گئے، پانامہ نامی ملک میں دنیا بھر کے دولت مندوں کے خفیہ اکاؤنٹس یا بےنام سمندر پار کمپنیوں کے اکاؤنٹس ہیں۔ وہاں کے کسی کارندے نے ان بےنام کمپنیوں کے مالکان کے ناموں پر مشتمل کاغذات عالمی صحافیوں کی ایک تنظیم کو دے دیے، اس تنظیم نے دنیا بھر سے رضاکارانہ کام کرنے والے متعدد صحافی اکٹھے کر کے کئی سال ان کاغذات پر تحقیق کی، یہ کاغذات سچے نکلے۔ چنانچہ صحافتی تنظیم نے شائع کر دیے۔ دنیا بھر کے متعدد دولت مندوں کے ساتھ ساتھ اس میں میاں صاحبان کی اولاد کے بھی نام آگئے۔ میاں صاحب اس سے پہلے ایسی چیزوں کا انکار کرتے رہے تھے۔ یہ مگر غیر ملکی سطح کا انکشاف تھا۔ پوری دنیا اسے مان چکی تھی۔ اس سے انکار ممکن نہ تھا۔ اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ میاں صاحب نے کمیشن بنانے کی تجویز دی۔ جماعتِ اسلامی اس کیس کو عدالت میں لے گئی۔ کیس چلنا شروع ہوگیا۔ فیصلے کے دن میاں صاحبان اور پوری قوم سانس روکے فیصلے کا انتظار کر رہی تھی۔ خدشہ تھا، میاں صاحب نااہل ہو جائیں گے۔ دو ججوں نے ایسا لکھا بھی مگر تین ججز نے مزید تحقیقات کی ضرورت سمجھتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔ جے آئی ٹی اس لیے ضروری تھی کہ اپنے دائرۂ کار اور ضابطے کے تحت سپریم کورٹ خود تحقیقات نہیں کر سکتی تھی۔ اپوزیشن اس پر مایوس ہوگئی، حکمرانوں نے مٹھائی بانٹی۔ جے آئی ٹی بنی، نواز شریف خود بھی پیش ہوئے، ان کی اولاد اور رشتے دار بھی پیش ہوئے۔ تفتیش تفتیش ہی ہوتی ہے، کوئی بھی ملزم یا مجرم اس سے خوش نہیں ہو سکتا، نہ اس کی ناخوشی سے کوئی تفتیش روکی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حلقہ این اے 120؛ چند انکشافات - صاحبزادہ محمد امانت رسول

بہرحال اب رپورٹ عدالت میں پیش ہوچکی۔ اب اس پر بحث ہوگی۔ یہ خالصتاً ایک قانونی معاملہ ہے۔ رسولِ رحمت نے فرمایا، جب معاملہ عدالت میں آجائے تو پھر عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دلائل مضبوط اور آدمی صاف ہو تو وہ عدالت سے بھاگتا نہیں، عدالت جاتاہے۔ اگر عدالت ٹھیک نہیں تو بھی یہ وزیراعظم کا قصور ہے، ملک کے ہزاروں لوگوں کو روزانہ انھی عدالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ چنانچہ بطور وزیراعظم ادارے ٹھیک کرنا انھی کا کام تھا۔ بہرحال نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ وہ دنیا کے طاقتور ترین ملزم ہیں۔ وہ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ وہ انتہائی دولت مند شخص ہیں۔ انھیں دنیا کے بہترین وکیلوں کی مشاورت اور خدمات حاصل ہیں۔ ملک اور بیرون ملک ان کے بہترین تعلقات ہیں۔ وہ اتنے معصوم نہیں کہ سیاسی یا عدالتی داؤ پیچ نہ جانتے ہوں۔ وہ ایک بھٹی کے کاروبار سے اٹھ کر دنیا کے بہترین کاروباری بنے ہیں۔ وہ پاکستان جیسے ملک کے تین دفعہ وزیراعظم بن چکے ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے، جہاں ابھی تک الیکشن کا شفاف نظام موجود نہیں، یہاں قانون کی حکمرانی نہیں۔ یعنی یہاں کا وزیراعظم بننے کے لیے بڑی خاص صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تین دفعہ وزیراعظم بن کے میاں صاحب نے ثابت کیا کہ ان میں یہ صلاحیتیں کسی بھی دوسر ے پاکستانی سے زیادہ موجود ہیں۔ سو انھیں سیدنا حسینؓ کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا مظلوم اورایک بے بس معصوم نہیں سمجھنا چاہیے۔ نہ وہ اتنے شریف ہی ہیں کہ اپنا حق دے دیں۔ آپ دیکھیے گا، نواز شریف لڑے گا، زیادہ امید ہے، وہ صورتحال کو سنبھال لے گا، اگر نہیں بھی سنبھالتا اور اگر آج اسے جانا بھی پڑتا ہے تو میاں شریف کا وہ بیٹا نہیں جائے گا جو کبھی کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے سیاست میں آیا تھا۔ وہ بہت کچھ کما چکا ہے۔ دولت، شہرت، سیاست، تعلقات اور کہیں زیادہ کچھ۔ اتنا کہ اس کی حکومت میں کسی غریب کا بیٹا اس سے آدھا بھی نہیں کما سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   عوامی سوچ - حماد احمد

قاسمی صاحب نے اپنے کالم میں لکھا کہ نوازشریف کے ایک متوالے نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا۔ ایسے لوگ بہت بھولے ہیں۔ یہاں دن رات بےگناہوں پر مقدمے ہوتے ہیں۔ عورتوں سمیت پولیس پورے پورے خاندان کو اٹھا کر لے جاتی ہے۔ عزت داروں کی عزت اور جائیداد نیلام ہو جاتی ہے۔ نظام ایسا ہے کہ غریب اور کمزور کو ہر روز مرنا اور ہر روز جینا پڑتا ہے۔ تھانیدار ناجائز پرچے کاٹ دیتا ہے۔ پٹواری رشوت لیے بغیر کام نہیں کرتا۔ اصلی پیسوں کے عوض مارکیٹ سے اصلی چیز نہیں ملتی۔ بغیر رشوت یا طاقت کے اپنا حق نہیں ملتا۔ دن دیہاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات قوم کو میسر نہیں۔ یہ سارا کرپٹ اور عوام دشمن سسٹم میاں صاحب کے نیچے کام کرتا ہے۔ اسے ٹھیک کرنے یا ٹھیک نہ کرنے کے ذمے دار کوئی اور نہیں، خود میاں صاحب ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عوام پر ٹوٹتے نت نئے مظالم پر میاں صاحب یا ان کے کسی متوالے نے کبھی آنسو نہیں بہائے، کبھی کھانا نہیں چھوڑا۔ یہاں بچیوں کا جہیز نہ ہونے پر والدین خود کشیاں کر لیتے ہیں، میاں صاحب نے کبھی کھانا نہیں چھوڑا۔ یہاں غریب لوگوں کی بجلی کٹ جاتی ہے اور وہ گرمی میں تڑپتے رہتے ہیں، میاں صاحب نے کبھی کھانا نہیں چھوڑا۔ پچھلے دنوں رد الفساد کے تحت کتنے بےگناہ علماء بھی عدالتوں کے دھکے کھاتے رہے۔ میاں صاحب نے ایک بیان تک نہیں دیا۔ ہاں درست ہے کہ میاں صاحب نے موٹروے بنایا مگر اس پر غریب کی کھوتی ریڑھی، رکشے یا موٹر سائیکل کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس لیے اے بھولے عوام! آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ تسلی رکھیے، میاں صاحب پر آپ کی ہمدردی پر نہیں، کرپشن پر کیس بنا ہے۔ آپ کھانا کھائیے ، میاں صاحب! اپنا کیس لڑنا جانتے ہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں