جمہوریت کو لاحق خطرات: تشخیص و حل - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جمہوریت، بطور ایک سیاسی نظام اپنے وجود کا مقدمہ کم و بیش تین نکات پر استوار کرتی ہے:
1. قیادت میں جمود اور وراثتی تسلسل کا خاتمہ،
2. ملکی اقتدار کی منتقلی، اس کا کنٹرول اور دورانِ اقتدار کارکردگی کی جانچ میں عوام کی شمولیت.
3. کسی ایک فرد کے بجائے قانون و دستور کی بالادستی اور ادارہ جاتی طریقہ کار.

تاریخی تناظر میں یہ نظام 'بادشاہت' کے متبادل کے طور پر سامنے آیا اور عجب نہیں کہ جمہوری خدوخال بادشاہی نظام سے برعکس خصوصیات کے حامل ہیں۔

بادشاہی طرز حکومت میں ایک بادشاہ کے بعد اسی کا بیٹا اور پھر اس کے بعد اس کا بیٹا تخت پر براجمان ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے تاوقتیکہ کہ کوئی بیرونی یا محلاتی سازش اس سلسلہ کو انجام تک پہنچا دیتی ہے۔ یہاں سے ایک نیا موروثی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے. اس طرز حکومت میں عوام "رعایا" کا درجہ رکھتے ہیں اور بادشاہ حاکم کا۔ عوام کا یہ فرض ہوتا ہے کہ بادشاہ کی خوشنودی کے متلاشی رہیں اور اس کے آگے سر تسلیم خم رکھیں. جو کچھ بادشاہ ان کی بہبود کے لیے کرے اسے اپنا حق خیال کرنے کے بجائے بادشاہ کے التفات اور سخاوت کا نتیجہ جانیں۔ بادشاہ کے آنے، جانے اور رہنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تاہم انہیں یہ اطلاع ضرور دی جاتی ہے کہ (کسی بھی وجہ سے) پہلا بادشاہ اب نہیں رہا اور نیا فرمانروا تخت نشین ہو چکا.۔ یہ معلومات دینے کا مقصد عوام کو اعلی سطحی تبدیلی کے حوالہ سے اعتماد میں لینا نہیں ہوتا بلکہ محض یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ جان لیں کہ اب ان کی تقدیر کا مالک کون ہے اور انہیں کس کی کاسہ لیسی کرنا ہے.

بادشاہی نظام میں بادشاہ ہی قانون کا سر چشمہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرانس کے شہنشاہ لوئی چہار دہم سے منسوب ایک مشہور مقولہ ہے "میں ہی قوم ہوں" ۔ آئین و دستور کے بجائے ایک فرد کا حکم قوم کے لیے قانون ٹھہرتا ہے۔ جمہوریت اس صورتحال کو مختلف نظر سے دیکھتے ہوئے ایک معاہدہ عمرانی کی بات کرتی ہے جو دائمی ہے اور جس کا اطلاق سب پر یکساں اور مستقل ہے۔ ہم اسے اس ملک کا دستور یا آئین کہتے ہیں۔ مملکت کی تمام اشرافیہ اپنے اختیارات اس دایرہ کار میں رہتے ہوئے استعمال کرنے کے مجاز ہوتے ہیں جس کا تعین آئین میں ہو چکا۔ کسی فرد کی من مرضی کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ جن کمہوری ممالک میں ریاست (حکومت نہیں) کی سربراہی بادشاہ یا ملکہ کرتے ہیں وہاں ان کی یہ بادشاہی بھی آئینی حدود و قیود کی پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اعصاب کی جنگ - محمد عامر خاکوانی

جمہوریت میں دو باتیں بہت اہم ہیں؛ اقتدار میں فرد سے کچھ بڑھ کر نظام کی اہمیت، اور، عوام کی امور مملکت میں بالواسطہ اور بلاواسطہ شمولیت۔ ان دونوں کی وجہ سے جمہوریت کا دوام یقینی بن جاتا ہے۔ اب آپ کو رہنما تو درکار ہوتے ہیں لیکن مسیحا نہیں۔ فرد کی ناگزیریت حالات کے ساتھ تو کسی حد تک وابستہ ہو سکتی ہے لیکن فرد کی ذات کے ساتھ نہیں۔ سر ونسٹن چرچل سے بہتر "وار ٹائم" وزیر اعظم شاید برطانیہ کو کبھی نہ ملا ہو اور اگر نویل چیمبرلین کی جگہ وہ برطانیہ کی قیادت نہ سنبھالتے تو دوسری جنگ عظیم کے نتائج برطانہ کے حوالہ سے مہلک ہو سکتے تھے۔ لیکن یہی چرچل دور امن میں اپنے اقتدار کے لیے کوئی پذیرائی حاصل نہ کر پائے۔ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت جاپان میں ایک سال میں بھی کئی حکومتیں بدل جاتی ہیں لیکن اس کے ہاں سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ملکی ترقی کی سمت و رفتار متاثر ہوتے ہیں۔

جمہوری نظام کی یہ تمام خصوصیات دراصل ایک ادارے کی مرہون منت ہوتی ہیں اور اسی سے نمو پاتی ہیں۔ وہ ادارہ ہے سیاسی جماعتیں۔ سیاسی جماعت جمہوریت کی ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ عوام سے براہ راست تعلق رکھتی ہے کیونکہ ان ہی پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی سیاسی تربیت کرتی ہے، ان میں سیاسی شور اجاگر کرتی ہے پھر اپنے اندر ایسا جمہوری ماحول پیدا کرتی ہے جہاں ایک پراسیس کے ذریعہ نئی لیڈر شپ تشکیل پاتی ہے اور اس لیڈر شپ کے تحت قومی انتخآبات میں حصہ لیا جاتا ہے اور کامیابی کی صورت حکومت کی تشکیل ہوتی ہے۔ لیکن وہ لیڈر تب تک لیڈر ہے جب تک اس کی صلاحیتوں کی طفیل اس کی جماعت اور ملک کو فائدہ ہے۔ ورنہ وہ دوسروں کے لیے راستہ صاف کر دیتا ہے اور جماعت میں داخلی انتخابات کے ذریعہ نیا لیڈر سامنے آ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں جمہوریت اس لیے ہمہ وقت شاخ نازک پر دھری رہتی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعت کا ادارہ مفقود ہے۔ کم از کم ان معنوں میں جس کا تذکرہ اوپر ہوا۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں شخصیات / خاندانوں کی ملکیتی جاگیر ہوتی ہیں جہاں فطری طور پر اس کے مالک (لیڈر) کی اہمیت اٹل اور دائمی ہوتی ہے۔ اس سے بہت سے قبائح جنم لیتے ہیں۔ جمہوریت کے بیرونی خول کے باوصف یہ ایک بادشاہی نظام بن جاتا ہے ۔ مالک جب تک زندہ ہے وہ لیڈر ہے، اس کے بعد پھر اس کی اولاد اور علی ہذا القیاس۔ عام کارکن تو رہے ایک طرف، پارٹی کے دیگر لیڈر بھی پارٹی سربراہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ بدشاہ کی طرح پارٹی لیڈر کا حکم حرف آخر ہوتا ہے اور برسر اقتدار آنے کے بعد بیورو کریسی میں تقرریوں ترقیوں سے لے کر محکمانہ تعیناتیوں کی مدد سے ایک "وفادار و سپاس گزار" اشرافیہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں میرٹ سے زیادہ شخصی وفاداری اہم ہوتی ہے ۔ اس کا مقصد اپنے اقتدار کو دوام دینا اور ماورائے قانون احکامات کی بجا آوری کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ حواریوں کو ساتھ رکھنے کے لیے ان کی کرپشن اور جائز و ناجائز سے صرف نظر بھی کرنا پڑتا ہے۔ خود بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے جاتے ہیں کہ پارٹی کو بھی چلانا ہے اور الیکشن بھی لڑنا ہے۔ اس طرح سب نظام بگڑنا شروع ہو جاتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب انداز حکمرانی بادشاہی ہو جاتا ہے تو پھر محلاتی سازشیں بھی در آتی ہیں اور یوں طاقت کے مختلف مراکز تشکیل پاتے ہیں اور ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں کی ’محبت‘ میں - حافظ یوسف سراج

نتیجہ وہی جو ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے۔ جب آپ کا زور چلا ماڈل ٹاؤن واقعہ والی جے آئی ٹی بن گئی، اب نہیں چلا تو یہ والی بن گئی۔ تب وہ واقعہ سازش تھی اب جے آئی ٹی سازش ہے۔ یہی سلسلہ جاری رہتا ہے اور جمہوریت تواتر سے خطرے میں رہتی ہے۔

ہمارے ہاں جب تک فعال اور حقیقی سیاسی جماعتیں وجود میں نہیں آئیں گی، سیاسی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ فعال سیاسی جماعتوں کے لیے عوام کو سیاسی عمل میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، سیاسی جدوجہد کو وقت اور پیسہ دونوں دینا ہوں گے تاکہ سیاسی جماعتوں کو شخصی ملکیت کے گرداب سے نکالا جا سکے اور افراد پر نظام اور تسلسل کو فوقیت حاصل ہو۔ جب لیڈر کے لیے ذاتی بقا اہم نہ ہو اور ایک بعد ایک تیار ہو تو گورننس بھی بہتر ہو گی اور نکالنے والوں کو بھی بالآخر اپنی سعی کے لاحاصل رہنے کا یقین ہو جائے گا۔ ورنہ کرپشن اور بیڈ گوننس بھی موجود رہے گی اور کرپشن کے نام پر سیاسی عدم استحکام کا کھیل بھی اسی طرح جاری رہے گا۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں