پارا چنار سانحہ اور پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے مظاہرہ - فضل ہادی حسن

ایک دوست کے ذریعہ معلوم ہوا کہ پارا چنار کے حالیہ اندوہناک واقعات کے خلاف نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مجھے مزید تفصیلات کا علم نہیں کہ وہاں مطالبہ کیا تھا اور نعرے کیا لگے؟ لیکن جس مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا، اس حوالے سے چند گزارشات پیش کروں گا۔

اول:
بیرون ملک اپنے وطن کے حوالے سے ایسے مظاہروں (بالخصوص جب مذہب، عقیدہ سے متعلق ہوں) کا منفی پہلو زیادہ جبکہ مثبت بہت کم ہوتا ہے۔ انھیں مستقبل میں پروپیگنڈے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ جب پاکستانی شہری اس طرز کے مظاہرے کریں گے تو اسے انٹرنیشنل میڈیا اور بھارتی سفارتی حلقے اپنے مؤقف کی تائید میں عالمی برادری کے سامنے پیش کریں گے. اس قسم کی سرگرمی جس سے براہ راست ایک ایسے دشمن کو فائدہ ہو جو اپنے عزائم بلوچستان، کراچی، فاٹا اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے بارے میں ظاہر کر چکا ہے اور وہاں تفریق پھیلانے میں ملوث بھی ہے، اس تناظر میں یہ ریاست مخالف سرگرمی سمجھی جائے گی۔

دوم:
ایک ایشو، جس پر ریاست تقسیم بھی نہیں ہے، حکومت اور سیکورٹی اداروں سمیت تمام پارٹیوں اور سیاستدانوں نے آواز بھی اٹھائی ہو اور دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت بھی کی ہو، آرمی چیف نے خود جا کر شکایات کا ازالہ کیا ہو، نیز پوری قوم نے افسوس کا اظہار بھی کیا ہو، ایسی صورت میں سفارت خانہ کے سامنے مظاہرہ اور وہ بھی اپنے ہی ملک کے خلاف، سمجھ سے بالاتر ہے۔ مطالبات کیا تھے اور کیا نہیں، لیکن میرے خیال میں مجموعی طور پر اس اقدام کو منفی اور ریاست سے ’شاکی‘ لوگوں کا مظاہرہ سمجھا جائے گا۔ اگر بالفرض یہ پہلے سے طے تھا، پھر بھی کوئی مناسب صورت نکالی جاسکتی تھی اور کوئی مناسب انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

سوم:
اگر بات نہیں سنی جاتی، زخموں کا مداوا نہیں ہوتا، تب بھی ملک کے اندر کافی فورمز موجود ہیں، ادارے موجود ہیں۔ لیکن بیرون ملک اور وہ بھی امریکہ (جہاں اقوام متحدہ کے صدر دفاترموجود ہیں) میں ایسے مظاہروں سے بیرون دنیا حد درجہ ’منفی‘ پیغام جاتا ہے، جو یقینا افسوسناک امر ہے۔ میڈیا کے ذریعہ ملک کے اندر کی صورتحال سے آگاہی اور ملک سے باہر پاکستانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ ایسے ملک مخالف مظاہرے میں نے اسٹاک ہوم (سویڈن)، پیرس (فرانس) میں ایران کے خلاف ایرانیوں (بقیہ یورپ اور امریکہ کے علاوہ) کے دیکھے ہیں، جبکہ کینیڈا وغیرہ میں بھارت کے خلاف ہندوستانیوں کے دیکھے ہیں، جو اپنے اپنے ملکوں سے جلاوطن اور سیاسی طور پر پناہ لیے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ بین الاقوامی ادارے اور ممالک ایسے مظاہروں کو اہمیت بھی دیتے ہیں۔ نیز انڈیا نے مشرقی پاکستان میں اکہتر میں سفارتی سطح پر انسانی بنیادوں پو مداخلت کا حق مانگنے کی مہم شروع کی تھی، اور اس قسم کے مظاہرے سفارتی دباؤ کے لیے کروائے تھے۔

چہارم:
بیرون ملک اور بالخصوص مغربی ممالک میں مظاہروں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ جب کسی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ ہو تو وہاں حکومتی ادارے بھی حرکت میں آجاتے ہیں۔ حالیہ مظاہرے سے پاکستان میں شیعہ سنی تقسیم کو ایک گہری خلیج کے طور پر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر لینا بعید از قیاس نہیں۔ کوئی چار سال پہلے دوستوں سے ملنے سویڈن کے ایک شہر گیا تھا، وہاں منجمد سمندر کا نظارہ کرنے گئے، وہاں بیٹھے دو سویڈیش نے ہاتھ میں ’کین‘ لیے مختصر گفتگو کے دوران جب پوچھا، ’’سنی مسلم آر شیعہ مسلم؟‘‘ تو مجھے بہت ناگوار گزرا اور میں نے جواب دیا ’’آئی ایم شیعہ اینڈ آئی ایم سنی‘‘۔

پاکستانی معاشرے کو شیعہ سنی کے طور پر تقسیم اور ایک دوسرے سے باہم لڑانے کی ایسی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستانی شیعہ پر حملوں کو ایران سمیت دیگر ممالک میں موجود اہل تشیع کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ (باقی ایران، شام سمیت عراق میں اہل سنت کے حوالے سے تصویر تقریبا واضح ہوچکی ہے). پاکستان اس وقت ایک ’’ہاٹ لائن‘‘ پر واقع ہے، حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملک کو مزید ایسے سانحات سے دوچار نہ کیا جائے، جس کا وہ متحمل نہ ہو سکے۔