چین اک پل نہیں - فرح رضوان

"اللہ اکبر! یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں ارم؟ تو تو تیس سال کی بھی نہیں لگ رہی، اور مجھے دیکھ ذرا! چار بچوں کی چالیس سال کی اماں لگنے لگی ہوں."
شانی ارم کو دیکھتے ہی بول اٹھی، جس پر ارم کچھ جھینپ سی گئی، پھر اپنی بچپن کی دوست سے زور سےگلے مل کر اس کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب لے جاتے ہوئے بولی
"شانی کی بچی! تم کہاں بزی رہتی ہو، نہ فون نہ ملاقات."
شانی بیڈ کے ساتھ ہی رکھے صوفے پر اپنے پھیلے ہوئے وجود کے ساتھ دھنستے ہوئے، بڑے اداس لہجے میں بولی،
"ہاں! جب آنٹی کے انتقال کا پتہ چلا تھا تو تڑپ کر رہ گئی تھی میں کہ، اب تیرا کیا ہوگا ارم! پر ڈیڈی کی بیماری نے مہلت ہی نہ دی کہ دوسرے شہر سے تیرے پاس آسکتی، جاتے جاتے بھی بس ان کو میری شادی ہی کی فکر تھی."
کچھ دیر دونوں طرف نمناک سی خاموشی طاری رہی، پھر شانی ہی گویا ہوئی،
"کیا ستم ہے نا! کہ ہم غیر شادی شدہ بیٹیوں کے دولہے کے انتظار میں، بوڑھے ماں باپ کی آنکھیں رو رو سوکھ جاتی ہیں، اور ان کے جانے کے بعد بھابھیاں ہمیں آنکھ کا کانٹا سمجھ کر اپنے ہی گھر میں در بدر کر ڈالتی ہیں. بہنوں کے گھر رہنے کی سوچو تو اکثر اپنے ہی بہنوئی کی آنکھ میں شرافت نہیں رہ جاتی، اوپر سے رشتہ داروں، پڑوسیوں کی آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال نہ جانے کب اور کس طرح، ہماری خود اعتمادی چھین لیتے ہیں کہ کسی سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی ہمت ہی نہیں رہ جاتی، شادی بیاہ پر خالہ پھوپھو سب گھسیٹ گھسیٹ کر، تیار کروا کروا کر لے جاتی ہیں کہ کسی کو پسند آجائیں، پر آہ! کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا. ملنے والیوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنی آنکھوں میں خوردبین نصب کر کے ہماری عمر، جسامت اور ان تمام خرابیوں کا بیک وقت اندازہ نہ لگا لیں، جس کی وجہ سے آج تک شادی نہ ہو سکی.''
ارم نے ماحول المناک ہوتا دیکھ کر باتوں کا رخ موڑنے کی غرض سے کچن کی جانب چھلانگ لگائی، اور جھٹ پٹ کچھ سنیکس لیے واپس آگئی. شانی بھی تب تک خود کو سنبھال چکی تھی، اس نے پھر ارم کو سراہتے ہوئے پوچھا،
"میڈم! یہ چپکے چپکے کیا چل رہا ہے کیا راز ہے آخر؟ جناب کا تو کبھی بچپن میں بھی، چہرہ ایسا کھلا کھلا نہیں دیکھا تھا ہم نے! اتنا وزن کیسے کم کر لیا؟ ہممم کچھ تو ہے نا؟
ارم نے ہنستے ہوئے کہا،
''کچھ نہیں بہت کچھ ہے، طویل قصہ ہے. اور ہے یہ واقعی راز ہی کی بات. پر تمھیں بتاتی ہوں سب.''
"ٹھہر جا ٹھہر جا" شانی نے لپک کر دو سموسے اور کچھ نمکو اپنی پلیٹ میں رکھے، شربت کا ٹھنڈا گلاس دوسرے ہاتھ میں تھاما، اور دونوں پیر صوفے پر رکھتے ہوئے بولی،
"چل اب بتا تیری لو سٹوری".

ارم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے، لیکن اللہ کا نام لے کر اس نے بات شروع کی،
"زندگی واقعی اتنی ہی تلخ جا رہی تھی جیسا تم نے کہا، لیکن ایک شام پڑوس والی خالہ کےگھر بڑی دعوت تھی تو ہم سے، کچھ فرنیچر لے گئیں، اور واپسی پر پتہ چلا کہ اس میں ان کے گھر سے جھینگر اور کاکروچ چھپ کر آچکے ہیں، جن کے بچے اب ہمارے گھر میں دندناتے پھرنے لگے تھے، مجھے اور بھابھی کو بڑا غصہ آیا کہ جا کر پڑوسیوں کو اچھی طرح سنا کر آتے ہیں تو، ابا جی نے، دلیلیں دے دے کر روک لیا. اس کے بعد ہم نےگویا عہد کر لیا کہ آئندہ کبھی کسی کو کوئی چیز نہیں دینی بس! مگر امی بول پڑیں کہ جب بھی کوئی عاریتا چیز مانگے، اسے کبھی انکار نہ کرنا، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ورنہ سورہ ماعون میں یوں تاکید سے ذکر نہ ہوتا، اور اوپر سے ماموں بھی آگئے، ہاں میں ہاں ملانے اور حدیث کا حوالہ دے کر اچھی طرح سمجھایا کہ، جس طرح کوئی شخص پال پوس کر اپنی بکری کسی کو دودھ حاصل کرنے کےلیے صدقہ کردے اور وہ شخص بکری کا خیال بھی نہ کرے اور فائدہ اٹھا کر واپس کردے، اور صدقہ کرنے والا اس پر خاموشی سے معاملہ جانے دے، نہ اس سے شکوہ کرے نہ کسی سے شکایت، بلکہ غیبت، اور ایسا تو خواہ کسی بھی معاملے میں ہو، جیسے کہ ہمارے ساتھ ہوگیا تھا تو اللہ سے بےحد اجر کی امید رکھیں. تمھیں تو پتہ ہی ہے میری عادت کا، میں بار بار اس گندگی پر سیخ پا ہوتی، اور ابا جی ہر بار کہتے، بیٹا اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے، اور صبر پر اجر تو ہے ہی.''

یہ بھی پڑھیں:   حقوق نسواں؛ حقیقت یا فراڈ - رانا اورنگزیب رنگا

"ہمم آگئی مجھے ساری بات سمجھ " شانی نے شربت کاگھونٹ بھرتے ہوئے جلدی سے کہا، آگے کی سٹوری میں تم لوگوں نے فیومیگیشن والوں کو کال کیا، وہاں سے ایک ینگ ڈیشنگ سا بندہ کام کرنے آیا، اس نے تجھے دیکھا، تو نے اسے، اور ہوگئی لو سٹوری شروع، ہے نا! یہی بات؟ شادی کب ہے، سسرال میں کون کون ہے؟"
ارم نے ہنستے ہوئے شانی کو ڈانٹا،
''اف خدایا! شانی مت دیکھا کرو اتنی فلمیں، ایک جگہ پر فکس ہوگیا ہے دماغ تمہارا، کچھ اور سوجھتا ہی نہیں! اب اپنی قیاس آرائیاں بند کرو اور چپ کر کے میری بات سننی ہے تو سنو!"
شانی سسپنس میں پڑ چکی تھی، فورا منہ پر انگلی رکھ کر بیٹھ گئی. ارم اس حرکت کو نظرانداز کر کے دور خلا میں گھورتی دوبارہ گویا ہوئی،
''ان جھینگروں نے ہمیں بہت عرصے تک تنگ اور عاجز کر ڈالا. رات کو ان کی آوازیں سونے نہ دیتیں، اٹھ کر واش روم جاؤ یا کچن میں پانی پینے تو کراہیت اور غصے سے نیند اڑ جاتی، سب سپرے سارے ٹوٹکے بیکار تو کیا، بلکہ ان کی نشوونما میں اضافہ ہی کر رہے تھے، یہاں تک کہ مہنگی اور تھکا دینے والی فیومیگیشن کا عمل بھی بیکار ثابت ہوا. ہاں! یہ ضرور تھا کہ دن میں یہ کہیں جا چھپتے، مطلب موجود تو تھے لیکن ہم ان کے شر سے محفوظ رہتے، اور رات کو بھی جب ہم میں سے کوئی لائٹ جلاتا یہ تتر بتر ہو کر ادھر ادھر جا دبکتے. پھر کسی نے ہمیں ایک ٹیوب کا بتایا کہ اس کا ایک ایک ڈراپ کچھ کچھ فاصلے سے لگا دو، اور لگا رہنے دو، تو کام بن جائے گا اور یہ بات سو فیصد درست ثابت ہوئی، کب، کہاں، کیسے سب بڑے چھوٹے جھینگر گئے، پتہ ہی نہ چلا! دوا تھی، جادو، یا معجزہ، سمجھ ہی نہ آیا."

شانی سے رہا نہ گیا، غصے سےگھورتی ہوئی بولی، ارم! میں نے پوچھا کیا تھا اور تو مجھے الجھا کہاں رہی ہے، نہیں بتانا اپنی شادی کا تو نہ بتا، میں نے کون سا حسد کرنا ہے تجھ سے!"
ارم ہنستے ہوئے اس کا بازو سہلا کر بولی، شانی تمہیں سب سے زیادہ ان لوگوں سے چڑ ہے جو تم سے، کسی بھی طرح یہ سوال کریں کہ شادی کب ہوگی؟ اب تک کیوں نہیں ہوئی؟ لیکن تم خود پوری کی پوری ویسی ہی بن گئی ہو، اس کے سوا کوئی اور بات نہیں، سوال نہیں، حل بھی نہیں!
شانی نے پلٹ کر انتہائی غمزدہ لہجے میں اس سے پوچھا "تیرے پاس ہے اس کا حل؟''
ارم نے نرم لیکن پختہ لہجے میں جواب دیا، ہاں! بہت سے مشورے ہیں جن پر دوسرے عمل کریں تب بات بن سکتی ہے، لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا ناں کہ جب تک دوسروں کو سمجھ آئے، ہم اپنی زندگی برباد کر تے رہیں؟ جو میرے حصے کا کام تھا، مجھے سمجھ آچکا تھا، والدین کی وفات کے بعد جس طرح، میرے بارے میں پوری دنیا کو فکر کھائے جا رہی تھی، اور کچھ قریبی کزنز اور، کچھ دور کے "بزرگوں" کی نگاہیں مجھے کھائے جا رہی تھیں، ناقابل برداشت اور ناقابل معافی تھیں، راتوں کی نیند اڑ چکی تھی، صحت گر رہی تھی، عمر اور بیماریاں مسلسل ہر روز بڑھ ہی رہی تھیں، ان ناشائستہ لوگوں کی باتیں، سوال، مذاق، اشارے کنائے، تبصرے اتنے مکروہ تھے سب کے سب، اتنے کریہہ کہ مجھے وہ دور یاد آگیا جب ہر سمت جھینگر دیکھ کر کراہت رگ و پے میں سرایت کر جاتی، اور اسی لمحے مجھے یاد آیا کہ لائٹ جلاتے ہی، وہ رفو چکر ہو جاتے، دماغ کی بتی جل اٹھی. بابا کی بات کہ "اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہوگی"، یاد آگئی، بات سمجھ آگئی تو میں نے اپنی زندگی میں، اللہ کے ذکر کی روشنی جلانے کا انتظام کر لیا. میں نماز کی ایسی پابند نہ تھی، نہ ہی دل لگا کر کھڑی ہو پاتی نماز میں، لیکن یاد آیا کہ ٹیوب سے ایک ایک قطرہ ہی وقفے وقفے سے لگایا تھا تو سب مکروہ کیڑے رفع دفع ہوگئے تھے، میں نے وقفے وقفے سے ہونے والی نمازوں کو پکڑ لیا، اورگویا اللہ نے اپنی حفاظت کے حصار میں مجھے پناہ دے دی. پتا نہیں کیسے کب اور کیوں، ہر طرف سے تیر و نشتر کی برسات تھم سی گئی.

"شانی کچھ بولی نہیں، خاموشی سے دوپٹے کے کنارے سے اپنی آنکھوں کے کنارے خشک کرتی رہی. ارم ہی نے پھر سے بولنا شروع کیا،
"جب سکون ملنا شروع ہوا تو اس ذکر میں ہی لذت ملنے لگی، سوچا ذکر صرف زبان سے الفاظ ادا کرنا ہی تو نہیں ہے نا، کچھ اچھا کرنا، سننا، سمجھنا بھی شروع کر دیتی ہوں، ورنہ یکسانیت کی وجہ سے دل اچاٹ نہ ہو جائے، یونہی ایک دن، ترجمہ قرآن دیکھتے نظر پڑی (بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مؤمن مَرد اور مؤمن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں، اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لیے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے،)

یہ بھی پڑھیں:   توہماتی خیالات اور ہمارے عامل بابے - فارینہ الماس

میں نے سوچا،
کیا میں اس پورے اجر عظیم یعنی بڑے اور تسلسل سے ملنے والے اجر کو پانے کے لیے اس پورے معیار پر اترتی ہوں جن کے لیے یہ بتایا جا رہا ہے؟
صدقہ تو کبھی کبھی دے دیتی ہوں لیکن کیا قضا روزے پورے کر پائی ہوں؟،
کیا نفل روزے رکھ پاؤں گی کبھی؟،
کیا میں ہر وقت صادق رہ پاتی ہوں؟ یا راست باز؟
نہیں! میں اتنا راستی پر نہیں تھی، رشتوں کے حصول کے اصول عجیب ہیں، ہمارے، مخلوط تقاریب میں تو میں خوب سج دھج کر جاتی تھی، اور یہ "ہنر" میں سیکھتی کہاں سے تھی؟ دن رات رسالوں، ٹی وی اور ایسا ہی شوق رکھنے والی دوستوں سے جڑے رہ کر. ظاہر ہے کہ میں مکروہ وقت گزار رہی تھی تو پھر تمام مکروہ الفاظ، اشاروں تبصروں سے بچنا کیسے ممکن تھا؟ قصور سماج کا تھا یا میرا؟ سماج کا تو غلط تھا ہی، مگر کسی حد تک میرا بھی ہاتھ تھا، میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو جیسے ایک باؤنڈری کھینج دی گئی، دیوار بنا دی گئی ہو خزانے پر.''
شانی نے برجستہ کہا،
"دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی،
لوگوں نے مرے صحن میں رستے بنا لیے"
ارم نے اسی انداز میں بات مکمل کرتے ہوئے کہا
"اور اب... دور تک دنیا نظر آنے لگی، ایسی دیوار گری ہے مجھ میں. میری صحت، توانائی جو بھی تمھیں نظر آ رہی ہے، آج اس کی وجہ، کسی کا مل جانا نہیں، بلکہ کسی کے نہ ملنے کا کوئی افسوس، نہ رہ جانا ہے، میں نے، خود کو سمجھا لیا کہ
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا،
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا،
پھر خود کو ٹٹولا کہ کوئی تنہا لڑکی کس طرح مثبت رہ سکتی ہے، موٹیویشنل سپیکرز کو سنا، پڑھا،سمجھا، عمل کے راستے متعین کیے، شوق جو مر چکے تھے، پینٹنگ کے سوشل ورکنگ کے، سب کو جگایا، رستے پر لگایا، یہیں سے لوگوں کی حدود میری زندگی میں متعین کرنے کا حوصلہ بھی پایا. مگر ساتھ ہی میں نے شادی کا ارادہ، اس کے لیے دعا یا انتظار سرے سے ختم نہیں کر دیا، میں نے وسعت دے دی ہے اس کی عمر کو، اب بےشک کل ہی کوئی ''اچھا لڑکا'' مل جائے یا پچاس پچپن کی ہونے تک بھی نصیب میں نہ ہو، تو مجھے اعتراض نہ ہوگا، اب یہ میرا فوکس ہرگز بھی نہیں."

شانی گھٹی ہوئی آواز میں بس اتنا ہی پوچھ سکی "کیوں؟.. .کیسے؟"
ارم نے پانی کا گلاس اسے تھما کر زور سے ہنستے ہوئے کہا،
''ارے پاگل لڑکی! جن کی شادی ہو جاتی ہے، ان کے لیے اس رشتے کا نبھانا کیا آسان ہوتا ہے؟ کیا شادی شدہ زندگی میں صرف سکھ ہی سکھ ہیں؟ ہر موڑ پر، ہر روز، ہر لمحہ آزمائشیں نہیں؟
ہاں! مجھے اپنے بچوں کا جنون کی حد تک شوق تھا، مگر دیکھ لیا اپنے ہی بھانجے کو بھی، کہ بہن کی شدید محنت کے باوجود ان کے لیے آزمائش بنا ہوا ہے، بھائی نو عمر بیٹی کی بیماری کے صدمے سے تل تل مرتے ہیں، رہا صدقہ جاریہ تو میرے سٹوڈنٹس، اور بھائی بہن کے بچے، میرا سوشل ورک، اللہ تعالیٰ قبول فرما لے تو یہ سبھی بن سکتے ہیں، میں کافی مزے میں ہوں شانی، اس ایک کمی کے سبب کئی مسلسل، ان گنت رت جگوں اور اذیت ناک دکھوں سے مکمل محفوظ، کچھ ایسا برا سودا بھی نہیں کیا میں نے، عظمی بجو بیوہ ہو گئیں، ساجدہ آپی کی طلاق ہوگئی، ان کے مسائل مجھ سے کہیں زیادہ تھے، مگر اب وہ بھی تو سنبھل ہی رہی ہیں، تو میں کیوں اس غم میں فنا ہو جاؤں بھلا ؟اور ان شاءاللہ جنت میں تو جوڑ ملنا ہی ہے، جو خفا بھی نہ ہوگا، جفا بھی نہ کرے گا، اپنی انا اور ضد سے، جہالت، خودغرضی، لالچ سستی، شک، غیر ذمہ داری اور کنجوسی سے، زندگی کو مجھ پر تنگ بھی نہیں کر سکے گا، تو میں اس ہمیشہ جاری رہنے والی محبت، مہربانی، خلوص، عزت، چاہت، الفت و عنایت کے لیے محنت کیوں نہ جاری رکھوں؟

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں