میاں صاحب! طیب اردگان سے سیکھیں - فیض اللہ خان

قطع نظر اس کے کہ آج کل لفظ "عالمی سازش" کی گردان ویسے ہی ہو رہی ہے جیسا کہ بھائی وقار کے خود ساختہ ترجمان میاں زید زمان کبھی کیا کرتے تھے، مگر پھر بھی سوال یہ ہے کہ اگر کمانڈو کی طرح کسی وقار نے نواز شریف کو برطرف کرکے اقتدار پہ قبضہ جما لیا (گو کہ اب یہ ناممکن کی حد تک مشکل ہے) تو کیا تیس برس میں مختلف مواقع پر حکومت کرنے والی شریف فیملی کے لیے لوگ ویسے ہی نکلیں گے جیسا کہ گزشتہ برس ترک طیب اردگان کے واسطے نکلے؟
طنز ایک طرف، لیکن اس کا جواب میاں صاحب اور ان کے حواری سوچیں ضرور۔

جن مسلم اکثریتی ممالک میں جمہوری بادشاہت قائم ہے، ان کے لیے اردگان ماڈل بہترین ہے کہ آخر کیسے طاقتور ترین فوج کو بیرکس تک محدود کیا؟
اردگان سے قبل جو بھی وزیراعظم فوج کی لائن سے ذرا ہٹتا یا اس سے ٹکراتا، طاقتور فوج اسے گھر روانہ کر دیتی، عدنان میندرس کو اذان کی اجازت پر پھانسی ملی، خود اردگان کے استاد اور سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کی حکومت اسی فوج کے ہاتھوں کسی واضح ٹکراؤ کے بغیر گھر گئی، پارٹی پہ پابندی لگی، کالعدم قرار پائی۔

اس ساری صورتحال سے اردگان کو اچھی طرح سمجھ آ گئی کہ یہ معاملہ مزاحمت سے نہیں، حکمت سے طے ہوگا اور اس نے وہی کیا۔
ٹھنڈے دماغ سے لمبی منصوبہ بندی کی اور محض پندرہ بیس سال میں پاکستان سے کئی گنا طاقتور اور جمہوریت پر شب خون مارنے والی فوج کو بیرکس تک محدود کر دیا۔ سابق آرمی چیف اور جرنیلوں کو گرفتار کیا اور جیلوں میں ڈالا.

آخر اردگان نے یہ سب کیا کیسے ؟ کیا اس کی مشکلات نواز شریف سے کم تھیں؟ کیا اس پر آمرانہ طرز عمل اور کرپشن کے الزامات نہیں؟
ہیں اور ممکن ہے کہ الزامات میں صداقت بھی ہو، لیکن ملین ڈالر سوال پھر بھی یہی ہے کہ آخر عوام اور اس کی بدترین مخالف یعنی حزب اختلاف اس کے دفاع میں کیوں نکلے؟
اس کی وجہ سیدھی اور صاف ہے۔ اردگان نے استنبول کے میئر کے طور پہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
صدر یا وزیراعظم بننے کے بعد فوج سے ٹکرایا نہیں، بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے آفاقی نعرے روٹی کپڑا اور مکان کو اختیار کیا۔
وہ لیرا جو بوریوں میں بھر کر جاتا تھا، آج ڈالر کو چیلنج کرنے کی پوزیشن کے قریب ہے.
سیاحت کے شعبے پہ غیر معمولی توجہ دی، صفائی ستھرائی کے نئے معیار قائم کیے۔ ملکی معیشت کو بھرپور ذہانت اور منصوبہ بندی سے اپنے پیروں پر کھڑا کیا. آج ترکی آئی ایم ایف کے شیطانی چُنگل سے آزاد ریاست ہے۔ یادش بخیر، وہاں سی پیک کا بھی کوئی منجن یا انجکشن نہیں، اس نے جو کیا، ملکی وسائل کے بھرپور استعمال سے کیا۔
اردگان نے فوج کو اس کی مرضی کی چیزیں دیں اور اپنی مرضی کے میدان یعنی لوگوں کے دل جیتنے میں لگا رہا۔
اس نے بمشکل بیس سال کے اقتدار والے کیرئیر میں صرف سڑکیں نہیں بنائیں بلکہ عالمی معیار کے شفاء خانے، تعلیمی ادارے‌، پولیس اور دیگر سرکاری ادارے بنائے، اس نے اپنی ٹیم خوشامد نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پہ منتخب کی، اور فقط بیس برس میں مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے۔

میاں صاحب! خود کو بھٹو یا حالیہ معاملے کو ترکی کے حالات سے نہ جوڑیں بلکہ وہ کریں جو آپ کو تیس برس میں کرنا چاہیے تھا اور آپ کر نہیں سکے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ، یہاں اردگان کو خدا کا خلیفہ یا کائنات کا بہترین حکمران ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ محض کارکردگی کی وجہ سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ و عدلیہ پر سول بالادستی قائم کرنے کے طریق کار کا ذکر ہے۔ باقی بطور حکمران اس کی اچھی یا غلط پالیسی ہوسکتی ہے، وہ تنقید سے قطعی ماوراء نہیں، بلکہ میری رائے میں وہ ایک درد دل رکھنے والا ایسا مسلم حکمران ہے جو اس نظام کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ ہے. اس سے بہت سے امور پر شدید اختلاف کے باوجود اس واسطے محبت ہے کہ یہ واحد حکمران ہے جو کسی نہ کسی درجے میں امت کی بات اور عملی طور پہ دل جوئی کرتا ہے، لیکن مطلوبہ طاقت نہ ہونے کی وجہ سے کمزور ہے، اس لٹی پٹی کٹی پھٹی امت کے لیے اور کوئی مبینہ مسلم حکمران تو دو لفظ تک بولنا گوارہ نہیں کرتا، ایسے میں وہ غنیمت نہیں تو کیا ہے؟

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */