جے آئی ٹی رپورٹ اور شرافت کی صحافت - آصف محمود

شرافت کی سیاست کے سائے غروب ہوتے جا رہے ہیں اور شرافت کی صحافت بیوگی کے خوف سے بد حواس ہو چکی۔ جے آئی ٹی نے سارے لبادے اتار پھینکے، جیسے کوئی تیز چھری سے پیاز کی پرتیں کاٹ ڈالے۔ شرافت کی صحافت اب تلوار سونت کر میدان میں اتر آئی ہے اور داد شجاعت دے رہی ہے کہ کسی طریقے سے تاجدار پاکستان، عالم پناہ کو مظلومیت کی خلعت فاخرہ پہنا دی جائے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ بلاشبہ کسی آسمانی صحیفے کا نام نہیں، یہ ایک انسانی کاوش ہے جس میں غلطی کا امکان بھی موجود ہے۔ تاہم تنقید اگر دلیل کی قوت سے محروم ہو تو علم کی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ تو کیا جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اہلِ دربار کی تنقید میں دلیل کا عنصر موجود ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔

اعتراض ہوا کہ چند لوگوں نے محض دو ماہ کی قلیل مدت میں دس والیم کیسے لکھ لیے۔ کسی نے اس میں سے سازش برآمد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کا کام ہی نہیں، یہ تو کچھ اداروں کی برسوں کی محنت معلوم ہوتی ہے تو ایک صاحب نے جنھیں ابھی فون اور فونٹ کے فرق کا بھی علم نہیں، مونچھوں کو تاؤ دیا اور گرہ لگائی کہ اتنے کم وقت میں جس نے اتنے زیادہ صفحات لکھ لیے، وہ جے آئی ٹی نہیں ’جن‘ آئی ٹی ہے۔ یہ اعتراض معترضین کی قانون سے ناواقفیت کے اعلانِ عام کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ایک وکیل ہائی کورٹ میں چند گھنٹوں کے نوٹس پر جب پیٹیشن داخل کرتا ہے تو وہ مکمل ایک والیم کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے اور اگر کیس تھوڑا پیچیدہ ہو اور اسے دائر کرنے کے لیے دو روز بھی مل جائیں تو والیم کا سائز بھی خاصا بڑھ جاتا ہے۔ جے آئی ٹی نے بھی جو والیمز جمع کرائے ہیں، ان میں صرف ان اراکین کے ہاتھ سے لکھی رائے نہیں ہے۔ ان میں گواہوں اور ملزمان کے ارشاداتِ گرامی بھی ہیں۔ مختلف ذرائع سے اکٹھے کیے گئے ڈاکومنٹس بھی اس کا حصہ ہیں۔ یہ والیمز جب سپریم کورٹ میں پیش کیے جا رہے تھے تو ٹویٹ فرمایا گیا کہ یہ دیکھیے یہ ہیں وہ ثبوتوں کی ٹرالیاں جو ہم نے دی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ثبوتوں کی ٹرالیاں آپ نے دے ہی دی تھیں تو ان ٹرالیوں سے آٹھ دس والیم بن گئے تو شورِ قیامت کیسا؟ ویسے بھی یہ جدید دور ہے، ایسے نابغے اب خال خال ہی ملتے ہیں جو ہاتھوں میں پرچیاں تھامے بغیر بات ہی نہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تسی وی بڑے مذاقیے ہو خان صاحب - ثمینہ رشید

ایک طعنہ یہ دیا گیا کہ مشرف کا احتساب کیوں نہیں ہو رہا۔ یہ بات یاد رکھیے کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ تو ابھی نہیں ہوا لیکن مشرف تو نااہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ وہ پاکستان الیکشن لڑنے آئے تھے اور الیکشن ٹربیونل نے انہیں تاحیات نااہل قرار دے دیا۔گویا ایسا بھی نہیں کہ قانون ان کا بال بیکا نہیں کر سکا۔ ان کی سیاست کے سارے خواب قانون نے دفن کر دیے۔ مشرف کا نام لے کر آپ مظلوم نہیں بن سکتے۔ مشرف کے بارے یہ سوال ہم خاک نشیں کریں تو تو کوئی بات بھی ہے لیکن اہلِ اقتدار یہ سوال کس سے کر رہے ہیں؟برہانِ تازہ تو یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے وہ مرد نہیں، تو پھر مشرف چلا کیسے گیا؟کیا حکومت میں کوئی مرد نہ تھا؟

یاروں نے سازشی تھیوری بھی ڈھونڈ نکالی۔ ’جونیئر تجزیہ کار‘ تو وطن عزیز میں پیدا ہی نہیں ہوتے، ہر طرف سینئر تجزیہ کاروں کا اتوار بازار لگا رہا۔ چنانچہ سینئر تجزیہ کاروں نے جاسوسی فرمائی کہ یہ تو نواز شریف کے خلاف سازش ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سازش کس نے کی؟ اس کے جواب میں یاروں نے خواہش کو تجزیے کا عنوان بنا دیا۔ کسی نے بین السطور فوج کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ انصاف نہیں ہو رہا، یہ تو وہی کچھ ہو رہا ہے جو پہلے ہوتا آیا ہے۔ یہ اصل میں جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ کسی نے کہا یہ سب کچھ ایرانی لابی کروا رہی ہے اور عمران خان ان کا مہرہ بن چکا، کسی نے منادی دی کہ یہ تو نواز شریف کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ اس نے امریکہ کے بجائے روس اور چین کی طرف رجوع کیا ہے، اور سی پیک بنانے کا جرم کیا ہے۔ ان جاسوسوں کی جاسوسی صحیفہ جہالت اور تضادات کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پراگر نوازشریف امریکہ مخالف ہے تو ایرانی لابی اس کے خلاف کیوں کام کر رہی ہے؟ اگر نواز شریف چین اور روس کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے تو ایران اس کے خلاف کیوں ہوگا، جبکہ خطے میں امریکی مفادات کو جو بلاک چیلنج کرنے جا رہا ہے، اس میں روس اور چین نمایاں ہیں اور ایران ان کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ سعودی عرب امریکی کیمپ میں کھڑا ہے۔ اس نون غنہ بیانیے کے مطابق عمران خان جرنیلوں اور چند اداروں کا ایجنٹ ہے جو جمہوریت کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ وہ امریکہ اور برطانیہ کا ایجنٹ بھی ہے اور ان کے کہنے پر نواز شریف کو چین اور روس کی طرف جھکاؤ پر سبق سکھانا چاہتا ہے، وہ ایرانی ایجنٹ بھی ہے، وہ طالبان خان بھی ہے اور دہشت گردوں کا حامی بھی ہے، حتی کہ وہ یہودی ایجنٹ بھی ہے۔ اب یہ راز کی بات، جو ہے، خواجہ آصف ہی بتا سکتے ہیں کہ عمران خان، جو ہے، وہ ان سب میں سے، جو ہے، کس کا ایجنٹ ہے۔ اور جن کا یہ ایجنٹ ہے کیا ان کا آپس میں بھی کوئی، جو ہے،گٹھ جوڑ ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   خود سے دھاندلی - انیس اکرم

اہلِ دربار غزل سرا تو ہیں لیکن مقطع نہیں کہہ رہے۔ جے آئی ٹے نے تجربہ کاروں کی جن وارداتوں کا ذکر کیا ہے کوئی ایک آدھ شعر اس پر بھی ہو جاتا۔ کم مدت میں تیار ہونے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر تو شور اٹھتا ہے کہ کیا جنات نے یہ رپورٹ تیار کی لیکن ان ’جنات‘ پر بات نہیں ہوتی جن کے کاروباروں کی ترقی نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ اتنے ہی عالی دماغ تھے تو قومی اداروں کو بھی بہتر کر دیتے۔ قومی ادارے تباہ ہو رہے ہیں، ان کے کاروبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ داماد جی سسرالیوں سے پاکٹ منی لیتے ہیں اور اس سے جائیداد بنا لیتے ہیں۔ سسر جی وزیر اعظم بھی ہیں اور ایک ملک کا اقامہ بھی رکھتے ہیں۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔

ماحول یہ بنایا جا رہا ہے کہ نواز شریف اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں اور ان پر اگر بدترین الزامات بھی ثابت ہو جائیں تب بھی ان پر آنچ نہ آنے پائے۔ اور وہ خالص قانون کی گرفت میں آنے لگیں تو فوج اور عدلیہ سمیت سب کو سینگوں پر لے لو۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ لوگوں پر چند خاندان مسلط کر دیے جائیں۔ جمہوریت کے نام پر یہ ایک واردات ہے۔ جمہوریت اگر کسی حد تک ہے تو صرف دو جماعتوں میں ہے۔ ایک تحریک انصاف اور دوسری جماعت اسلامی، عمران کے بعد سلمان یا قاسم نہیں آئیں گے اور سراج الحق چاہیں بھی تو اس جماعت کو وراثت بنا کر اپنے بچوں میں تقسیم نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف تو شہزادے اور شہزادیاں تیار ہیں کہ خااندانی بادشاہت کو آگے بڑھائیں۔ بلاول زرداری اور حمزہ شہباز ہماری نسلوں کے قائد بنیں گے؟ ملا نصیر الدین زندہ ہوتا تو ہنس ہنس کر مر جاتا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں