اٹھو نا! مجھے تمھاری ضرورت ہے (7) - اسری غوری

اس کی آنکھ کھلی تو سر میں درد کی ٹیس سی اٹھ رہی تھی، اس نے آس پاس دیکھا تو سب ہی اس کے گرد موجود تھے۔ بابا، سارا، رمزا اور بخاری انکل کے ساتھ حیدر مجتبیٰ (رضا کے بابا) بھی۔
رضا کیا کبھی تم بھی واپس آؤگے، میں تمہیں پھر کبھی دیکھ پاؤں گی۔ اس کی آنکھوں کے کناروں سے درد بہنے لگا تھا، اس نے درد سے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
وہ سب ہی فکرمند تھے کہ اس طرح شازینہ کو بار بار چکر آنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی بھی اس کا سر کسی چیز سے ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے سر پر زخم کا نشان تھا۔

بخاری انکل اس کو آنکھیں کھولتے دیکھ کر اک دم اٹھ کر قریب آئے، خوش ہو کر کہا، الحمدللہ ولک الحمد، ہماری بیٹی ہوش میں آگئی، کیا حال ہیں شازی بٹیا آپ کے؟
شازینہ نے آنکھیں کھول کر مسکرانے کی کوشش کی، جی الحمدللہ، ٹھیک ہوں انکل۔
شاباش بیٹا! تم بہت ہمت والی ہو، تم نے تو ابھی بہت بڑے بڑے کام کرنے ہیں، اللہ نے تمھیں یونہی تو نہیں بھیجا نا دنیا میں، وہ تم سے بڑا کام لے گا، جن سے بڑے کام لینے ہوتے، ان کو بھٹیوں سے تو گزرنا پڑتا ہے نا، اسی لیے تمھیں بس ذرا کندن بنایا جا رہا ہے، حوصلہ نہیں ہارنا بس، وہ اسے حوصلہ دلاتے رہے۔

سب اس کے قریب آچکے تھے، بابا نے اس کے ماتھے پر پیار کیا، مگر وہ کچھ بھی نہ کہہ پائے، آنکھوں میں تیرتا پانی اور چہرے پر چھایا درد کسی سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اپنی اس اکلوتی جان جگر کے ہر درد کو ختم کر ڈالیں مگر وہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور تھے۔
رضا کے بابا نے آگے بڑھ کر سر پر ہاتھ پھیرا اور طبیعت پوچھی، وہ خود شرمندہ تھے، اپنے بیٹے کی اس ضد کی وجہ وہ خود بھی بہت پریشان تھے، اکثر شازینہ کی خیریت پوچھنے وہ خود آجایا کرتے۔ انہوں نے کئی بار رضا کو فون کیے، کئی بار سمجھایا تھا مگر رضا خود بھی اذیت میں ہونے کے باوجود اپنی ضد میں اڑا ہوا تھا۔
سب ہی شازینہ کی وجہ سے پریشان تھے، سارا نے رات وہیں رکنے کا کہا کہ وہ یہیں رکے گی، باقی لوگ گھر چلے جائیں، رمزا نے بھی خواہش کی کہ وہ بھی سارا کے ساتھ رک جائے گی۔ بخاری انکل نے بھی اسے کہا کہ ہاں! وہ یہی رک جائے۔
رات شازینہ کو نیند کی دوا دی تھی، وہ سو چکی تھی۔ سارا نے رمزا کو دن میں پیش آنے والی ساری صورتحال بتائی اور یہ بھی کہا کہ بخاری انکل سے ضرور اس کو ڈسکس کرے، ورنہ شازینہ کے ذہن پر جو بوجھ ہے، وہ کبھی نہیں ہٹ سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج چوتھا دن تھا، شازینہ اب گھر آگئی تھی۔ بابا نے اس سے پوچھا تھا کہ بخاری انکل آنا چاہ رہے ہیں، رمزا کے ساتھ، شازینہ نے کہا کہ بلالیں، اب وہ بہتر ہے۔
شام میں شازینہ ابھی نہا کر نکلی تھی، بال خشک کرنے لگی تھی، کہ بابا نے کہلوایا تھا کہ رمزا اور بخاری آچکے ہیں، وہ اوپر ہی رہے، وہ ان کو یہیں لا رہے ہیں۔
اس نے اپنا روم ٹھیک کیا، ابھی بال گیلے ہی تھے، اس نے دوپٹے سے سر ڈھانک لیا۔
بابا، بخاری انکل اور رمزا کو لیکر اسی کے روم میں آگئے تھے۔
دونوں اس کی خیریت پوچھنے لگے تھے۔
رمزا نے اچانک ہی اس کے گیلے ہوتے دوپٹے سے اندازہ لگایا کہ اس کے بال بڑھ کر کمر تک آچکے۔ اس نے ہنس کر پوچھا، ارے شازینہ! تم نے بال کب بڑھا لیے، تمھارے بال تو میں نے ہمیشہ شولڈر کٹ ہی دیکھے ہیں۔
شازینہ کے منہ سے اک دم نکلا ”وہ رضا کو چھوٹے بال نہیں پسند تھے، بس تب سے ہی کبھی نہیں کاٹے۔“ پھر اک دم ہی وہ خاموش ہوگئی ۔
رمزا نے بھی اس کی کیفیت بھانپ کر ایک دم موضوع بدل دیا۔

تمہارے کمرے کی تھیم بہت لائٹ سی اور خوبصورت ہے، کھڑکیوں پر ہلکے گلابی رنگ کے کرٹن جس میں سفید رنگ کی آمیزش ہو رہی تھی، کمرے کو روشن کر رہے تھے۔ بیڈ کے ساتھ رکھی سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ شیڈز پر بھی وہی رنگ جھلک رہا تھا۔ صوفے بھی اسی رنگ کے، زمین پر بچھا میٹ بھی اسی تھیم کا، اس نے بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔
ہاں! یہ رضا کا فیورٹ کلر ہے۔
شازینہ نے کہیں کھوئے ہوئے دھیرے سے جواب دیا تھا۔
رمزا کو اک دم سے ہی خیال آیا کہ اس نے جب بھی شازینہ کو دیکھا، اس کے کپڑوں میں بھی یہی کلر اسکیم ہوا کرتی ہے۔
رمزا کو سمجھ نہ آئی کہ اب وہ کیا بات کرے، جس موضوع سے وہ ہٹانا چاہ رہی تھی، اس میں تو کامیابی نہیں مل سکی۔

کیسا محسوس کر رہی ہو بیٹا؟
بخاری انکل جو کافی دیر سے ان کی باتیں سن رہے تھے، رمزا کی مشکل کو سمجھ کر سوال کیا۔
جی انکل بہتر ہوں الحمدللہ۔ اس نے جواب دیا۔
اور تمہاری تعداد کہاں تک پہنچی بھلا۔ انہوں نے اس سے ایک اور سوال کر دیا تھا۔
شازینہ اک دم خاموش سی ہوگئی تھی، اپنی انگلیوں سے جھگڑتی جیسے کسی بات پر شرمندہ ہو۔
کوئی مشکل پیش آ رہی ہے؟ انکل نے اس کی پریشانی کا سمجھتے ہوئے اگلا سوال کیا۔
اب وہ خود پر کنٹرول نہیں رکھ پائی، اک دم سسک کر بولی۔
انکل وہ میری نگاہوں سے، میری سوچوں سے نہیں نکلتا انکل، میں کچھ بھی پڑھوں، جب بھی دعا کو ہاتھ اٹھاتی ہوں، میری دعاؤں میں وہی ہوتا ہے۔
میں خود سے لڑ لڑ کر تھک چکی ہوں انکل۔ شازینہ ایک ہارے ہوئے شخص کی طرح بکھری ہوئی تھی جو اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوتا ہے۔
دیکھو شازی بیٹا! خود کو سنبھالنا ہوگا، یوں اپنی جان ہلکان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، تمھارا رونا تمھاری سسکیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تم بےفکر رہو، اک دن اسے احساس ہوگا، وہ اس کی سزا ضرور پائے گا۔
نہیں نہیں۔ ایسا نہ کہیں انکل! خدا کے لیے کبھی بھی نہیں، خدا نہ کرے کہ وہ کبھی کوئی سزا پائے، کبھی کوئی دکھ دیکھے، خدا نہ کرے کبھی نہ کرے، کبھی میرے آنسو اس کے لیے سزا کا باعث بنیں، خدا نہ کرے، خدا اسے جہاں رکھے ہمیشہ خوش رکھے، سکون میں رکھے۔ انکل یہ سزائیں بہت طویل ہوتی ہیں، قبر تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں، شازینہ اک دم تڑپ گئی تھی جیسے کسی نے اس کی روح میں کوئی زخم کر ڈالا ہو۔
ہاں! ٹھیک کہا تم نے، دل دکھانے کی سزائیں بہت طویل ہوا کرتی ہیں، مگر ہم ان سزاؤں سے اس وقت بچ سکتے ہیں، جب وہ شخص ہمیں دل سے معاف کر دے، جس کا ہم نے دل دکھایا ہو، اسی لیے رشتوں میں تعلقات میں رب نے بار بار معافی اور درگزر کی تلقین کی۔ بخاری انکل نے اس کی بات کا جواب دیا۔ مگر وہ اس دھان پان سی لڑکی کی ایسی شدید محبت پر حیران تھے، جو زندگی سے لڑتے لڑتے موت کی دہلیز پر آن کھڑی ہوئی تھی، مگر اب بھی وہ اس سب کا جو ذمہ دار تھا، اس کے لیے اپنے دل میں محبت کے سوا کوئی اور جذبہ، کوئی انتقام نہیں رکھتی تھی۔ کیسی محبت تھی یہ، اور کیسا بدنصیب ہے وہ شخص جسے اس خزانے کی قدر نہیں۔
بس اللہ سے کہیں میرا بن جائے، وہ میرا نہیں بنتا انکل، وہ میری ہر دعا کو سنتا تھا، میری ہر کہی کو پورا کرتا تھا مگر پھر وہ مجھ سے دور ہوگیا، وہ مجھ سے خفا ہے کیا انکل۔
شازینہ نے ایک اور دکھ سامنے رکھ دیا تھا، جسے وہ بہت دنوں سے اپنے دل میں رکھے ہوئے تھی کہ اللہ اس سے خفا ہے، اسی لیے وہ اس کی دعائیں نہیں سنتا۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی سرگوشیاں - سائرہ ممتاز

”جانتی ہو، اللہ کن لوگوں کا بنتا ہے؟“
شازینہ نے سوجی ہوئی آنکھوں میں سوال لیے بخاری انکل کی جانب دیکھا۔
جو خود اللہ کے بن جاتے ہیں، اللہ کو اپنا بنانے کے لیے پہلے خود کو اس کا بنانا پڑتا ہے، ہم صرف اسی کے ہیں، یہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ جو اللہ کو چھوڑ جاتے ہیں، وہ ان کا نہیں بنتا۔
مگر میں نے کب اللہ کو چھوڑا تھا؟ وہ پھر تڑپ کر بولی۔
دیکھو شازی بیٹے!
اللہ کو شرک سے سخت نفرت ہے، وہ کہتا ہے، میں اک شرک ہی کو نہیں معاف کروں گا، آخرت میں بھی اور ہر گناہ جس کو چاہوں گا معاف کردوں گا۔
انسان کا دل اللہ کا گھر ہے اور وہی اس کا حقیقی مکین بھی ہے، وہ اس گھر میں بہت سارے رشتوں کے رہنے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے، کبھی انہیں نہیں نکالتا، برسوں لوگ اس کے ساتھ اس گھر میں رہتے ہیں۔
ہاں! مگر جب صاحب دل اس رب کی جگہ پر کسی اور کو بٹھانے لگتا ہے تو پھر یا خود وہ جگہ چھوڑ کر چلا جاتا یا پھر اس مکیں کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے۔
اور جس دل سے اسے بہت امید، بہت آس اور بہت محبت ہو، وہاں سے وہ خود بھی چلا جاتا ہے اور اس قابض مکیں کو بھی نہیں رہنے دیتا۔
جانتی ہو وہ یہ سب کیوں کرتا ہے؟
شازینہ نے بس گردن نفی میں ہلا دی۔
اس لیے کہ وہ اس دل میں پھر سے آنا چاہتا ہے، مگر تب جب وہ صاحب دل اس کی جگہ کو بس اسی کے لیے مختص رکھے، کسی اور کو اس جگہ پر قابض ہونے نہ دے۔
مگر انکل وہ محبتوں سے منع تو نہیں کرتا نا، وہ تو خود محبتوں کا درس دیتا ہے، وہ تو خود کہتا ہے کہ اس نے ان رشتوں کو سکون کا باعث بنایا ہے، پھر وہ کیسے اس بات پر خفا ہوسکتا ہے، کیسے بھلا؟
شازینہ نے اپنی پریشانی کھول کر رکھ دی تھی۔
شازی بیٹا! انسان بڑا کمزور ہے، لمحوں میں بدل جاتا ہے، اپنے ہی مالک کو بھول جاتا ہے۔ جب وہ کسی سے شدید محبت کرنے لگتا ہے تو اس سے بس محبت ہی نہیں کرتا بلکہ اسے پوجنے لگتا ہے، اس کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ وہ اسے محبت ہی کا نام دیتا ہے مگر اسے اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ اب اس کی ساری تگ و دو بس اس ایک شخص کی رضا، اس کی پسند ناپسند، اسی کی خوشی اسی کی ناراضگی کی فکر۔
تم نے برسوں سے اپنے کندھوں تک رکھے بالوں پر قینچی کب حرام کی؟ جس دن سے تمھیں اس شخص کی ناپسندیدگی کا احساس ہوگیا۔
تم نے اپنے کمرے کی ہر ہر چیز کو اس کی پسند کے رنگ سے سجا دیا۔
تم نے خود کو سراپا اس کی پسند میں ڈھال لیا۔
تم اتنی اذیت کے باوجود اس کے لیے وہ تکلیف نہیں پسند کرتیں جس کی دی ہوئی اذیت میں تم خود مبتلا ہو۔
اتنی فکر اور اتنی محبت رب سے کرتی، اس کی ناراضگی کی اتنی فکر کرتی، تو یقین جانو کہ وہ تمھارے لیے جنت لکھ دیتا۔

یہ بھی پڑھیں:   شادہ شدہ لڑکی جاب کیوں نہ کرے؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جانتی ہو ایسی محبت کا حق دار صرف اور صرف رب ہے وہ کہتا ہے۔ صبغت اللہ، اس کے رنگ میں خود کو رنگو۔
جانتی ہو اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے لیے، خود کو مسلم بنانے کے لیے، پہلے کلمات کون سے ادا کرنے ہوتے ہیں؟
لا ۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں
الہ ۔۔۔اللہ۔۔ خدا ۔۔۔ معبود ۔۔۔ وہ جس کی پسند نا پسند کا اپنایا جائے۔ جس کے کہے پر چلا جائے، جس کے روک دینے پر رک جایا جاتا ہے۔
الاللہ ۔۔۔۔ سوائے اللہ کے ۔۔ بس ایک وہی ہے ۔۔۔
بس وہی ایک اللہ۔
نفی کرواتا ہے وہ ہر اک غیر کی۔
وفا کی پہلی شرط نفی ہوا کرتی ہے، محبوب کے سوا ہر اک کی نفی۔
رب نے بھی اپنا کلمہ پڑھایا تو پہلے نفی کا اقرار مانگا، ہر اک کی نفی کروگے تو مجھ کو پاسکوگے، اور جب مجھ کو پالوگے تو سب کچھ نواز دوں گا۔
مگر وہ یہ سب کے ساتھ نہیں کرتا، وہ بس ان کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے جو اس کی محبت کے دعویدار ہوتے ہیں۔ تم بھی یاد کرو، تم نے بھی اس سے محبت کے دعوے کیے ہوں گے، اسی لیے وہ تمھارے اس دعوے کے خلاف ہوتا دیکھ کر خود بھی چلا گیا اور قابض مکین کو بھی نکال ڈالا۔ یہی اس کی سنت ہے۔ لاکھوں لوگ ہیں جو بغیر دعووں کے اپنے دلوں میں غیر اللہ کو بسائے ہوئے ہیں، وہ ان کو کچھ نہیں کہتا، ان کی رسی دراز کرتا چلا جاتا ہے، ہاں مگر جو دعویدار ہوں، تو پھر بس وہ ان کو آزماتا ہے، کٹھن راہوں سے گزارتا ہے، ان کی آزمائش کرتا ہے۔
کیا ابراہیم ؑکو خلیل اللہ کا لقب یونہی مل گیا تھا؟ نوے سال کی عمر میں صاحب اولاد ہونا اور پھر اس شیر خوار ننھے سے بچے کو تنہا ماں سمیت صحرا کے بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کا حکم دے دینا۔ پھر اسی پر اکتفا نہیں۔ جب وہ ننھا سا بیٹا بھاگ دوڑ کرنے کے قابل ہوا تو پھر باپ کے دل میں اس کی محبت ذرا زیادہ محسوس ہوگئی تو اک اور آزمائش کہ اچھا بیٹے کی محبت ہماری محبت پر حاوی ہونے لگی ہے۔ دعوی ہم سے محبت کا اور محبت بیٹے سے۔ پھر حکم ہوا اسی بیٹے کو قربان کردو ہماری راہ میں۔ کیا آسان تھی یہ آزمائش؟ ہرگز نہیں، مگر اللہ کی محبت پر پورا اترنا تھا سو بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی۔ رب نے آزما لیا تھا، بس وہیں روک دیا گیا اور جنت سے قربانی کا بدل بھیج دیا کیونکہ جب وہ آزماتا ہے تو کامیاب ہوجانے والوں کو اپنی رحمت سےنوازتا بھی ہے۔
مگر بس اسے اپنی جگہ کسی اور کو دینا نہیں گوارا۔
جب ہم اس رب کی ان سب شرائط پر پورے اتر جاتے ہیں تو وہ ہمیں سب کچھ سے نواز دیتا ہے۔

تم بھی یہی کہتی ہو نا کہ وہ تمھاری ساری دعائیں سنتا تھا، تمھارے دل میں رہتا تھا، پھر کچھ تو ہوا نا ایسا کہ وہ چھوڑ کر چلا گیا۔
خود کو کھنگالو ذرا کہ کیا جتنی فکر اور دکھ تمھیں رضا کے جانے کا ہے، اتنا ہی دکھ کیا تمھیں اللہ کے چھوڑ جانے کا بھی ہے؟
کیا اس کے چھوڑ جانے کے غم میں بھی تم نے اپنی ایسی حالت بنائی؟
کیا اس کے واپس لوٹنے کے لیے بھی تم راتوں کو جاگی؟
کبھی تڑپ کر اس سے اسی کو مانگا؟
خود کو دریافت کرنا آسان نہیں، اس کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔
اپنے اندر ان سب سوالوں کے جواب تلاش کرو۔
اور جب جواب مل جائے، اور تم چاہو کہ وہ تمھاری دعائیں پھر سے سننے لگے تو اپنے دل کو اس کے لیے، بس صرف اسی کے لیے مختص کردو، یقین رکھو وہ تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔
اور جانتی ہو انسانوں کو راضی کرنے کے لیے ان کی خدمت کی جاتی ہے، ان کی خوشی کا خیال رکھا جاتا ہے، مگر پتہ ہے وہ رب کیسے راضی ہوتا ہے؟
اس کو راضی کرنے کے لیے اس کی مخلوق کو راضی کرنا شروع کر دو، اس کی مخلوق کے دکھوں کا مداوا کرنا شروع کر دو، وہ تمہارے دکھوں کو خود سنبھال لے گا اور تمھیں ہر خوشی سے نواز دے گا۔

(جاری ہے)

پہلی قسط یہاں پڑھیے
دوسری قسط یہاں پڑھیے
تیسری قسط یہاں پڑھیے
چوتھی قسط یہاں پڑھیے
پانچویں قسط یہاں پڑھیے
چھٹی قسط یہاں پڑھیے

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • اللّٰہ کو شرک سے نفرت ہے اور ہم اس سے محبت کا دعویٰ کرنے والے جانے انجانے میں طرح طرح سے شرک مرتکب ہوتے ہیں۔
    آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے۔ اللّٰہ ہمیں شرک سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔
    توجہ دلانے کا شکریہ اسری' صاحبہ !