میاں صاحب، فکر کرو چھ سوالوں کی - نجیب ایوبی

شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی جان وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف جے آئی ٹی میں جو بیانات دیے اور کہا جارہا ہے کہ ان کے نتیجہ میں کرپشن کی پوری داستان سامنے کمیٹی کے سامنے آئی ۔ J.I.T رپورٹ کے پیراگراف 5اور6میں لکھا گیا ہے کہ گلف اسٹیل ملز کے 1978ء سے1980ء تک معاملات شہباز شریف نے چلائے تھے۔

J.I.T میں طارق شفیع نے اقراری بیان میں کہا کہ شہباز شریف والد کی ہدایت پر معاملات چلاتے تھے جس کو بعد میں فروخت کر کے جدہ میں فیکٹری خریدی گئی تھی۔ طارق شفیع اور دیگر مجرموں نے کہا کہ دبئی کی فیکٹری کی فروخت کے معاملات بھی شہباز شریف نے طے کیے تھے جب J.I.T نے شہباز شریف سے پوچھا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کا تعلق دبئی کی گلف فیکٹری سے کبھی نہیں رہا۔ نہ انہوں نے 1980ء میں اس فیکٹری کے معاملات دیکھے تھے اور نہ کوئی فروخت میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ جے آئی ٹی نے شہباز شریف کے بیانات کی روشنی میں گلف اسٹیل مل بارے نواز شریف کے جھوٹ پکڑے اور مجرم قرار دیا ہے۔

اس رپورٹ کے پبلک ہوجانے کے بعد وفاقی دارالحکومت سمیت پورا ملک غیریقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے سرکاری ذرائع کہہ رہے ہیں کہ وزراء حکومت معمول کے کاموں میں دلچسپی لینا چھوڑ چکے ہیں ۔ جبکہ اہم وزراء صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وزراء کی دوڑیں ہوئیں ہیں اور سرکاری کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں - نسبتا پڑھے لکھے اور معقول وفاقی وزیر احسن اقبال نےحکومت کا دفاع کرتے ہوئے آئین کی شق 58- ، 2بی کا ذکرکیا اور کہا کہ پہلے اس آئین شق کے ذریعے پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے جاتے تھے اور اب عدالتی ٹو بی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام آباد کے ذرائع رپورٹ کررھے ہیں کہ وزراء کی زبانوں تسبیحات ہیں یا جے آئی ٹی کی رپورٹ - جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اس رپورٹ نے وزیراعظم ہی نہیں بلکہ حکومتی دیگر شخصیات کی نیندیں اڑادی ہیں۔ پیر کے روز سندھ اسمبلی میں بھی وزیراعظم سے استعفی ٰ کے مطالبے کی قرارداد جمع کرائی گئی یہ قرارداد تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت نے بھی وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاناما کیس اور ووٹ کی حرمت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ حکومت اور جے آئی ٹی کا کام ملی بھگت لگتا ہے، حکومت اورجے آئی ٹی کا کام اسکرپٹڈ اور میچ فکس لگتا ہے- وہ پیر کو اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کررہے تھے -اس گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اندر چاہے جے آئی ٹی کے ساتھ چائے پیتے رہے ہوں لیکن طے تھا کہ باہر نکل کر شور کریں گے -اور کہیں گے کہ ہمارا قصور کیا تھا۔ اعتزازاحسن نے کہاکہ جے آئی ٹی نواز شریف کومحفوظ راستہ دینے کے لیے تھی، نوازشریف، اسحاق ڈار، حسین نواز، حسن نواز اور مریم نے جے آئی ٹی سے باہر آکر ایک جیسی باتیں کیں۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی سازشیں تیار کی گئیں تھیں ۔انہوں نے کراچی الیکشن میں کامیابی پر پارٹی قیادت کو مبارکباد دی اور کہا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی مزید کامیابیاں سمیٹے گی۔ اس سارے معاملے میں J.I.T کے چودہ سوال پراب تک خوب باتیں اور پیشیاں بھگتائیں گئیں - سوال جواب - پریس بریفنگز اور اخباری بیانات سے لیکر تبری بازی - رونا دھونا -سب ہی کچھ چلتا رہا - مگر یہ فقیر کہتا ہے کہ J.I.T کے چودہ سوال پر میاں صاحب کی یہ حالت ہو گئی ہے - ذرا سوچیں کہ جب میاں صاحب اللہ کے حضور ہوں گے اور پہلے مرحلے پر فرشتوں پر مشتمل ٹیم ان سے اللہ کے چھ سوالات کی بابت پوچھے گی - تمہارا رب کون ؟ تمہارا دین کیا ؟ تم نے جوانی (عمر) کن کاموں میں کھپائی ؟ جو علم دیا گیا اس پر کتنا عمل کیا ؟ مال کہاں سے کمایا کہاں لگایا ؟ میاں صاحب جیسے تیسے گزر ہی جانی ہے J.I.T فکر کرو چھ سوالوں کی -