ظلمت کدے کی روشن آنکھیں - اُمِ شافعہ

اس نے پاس پڑی پوٹلی اٹھائی اور آہستہ آہستہ وادی کی طرف جانے والے راستے کی طرف ہو لیا راستے میں جگہ جگہ جہاں ناکے لگے تھے، خوف و دہشت کی پرچھائی کسی پچھل پیری کی طرح منڈلاتی پھر رہی تھی. ناکوں پر، چوکور ڈبوں میں بنے چھوٹے چھوٹے خانوں سے جھانکتی خونخوار آنکھیں اور انہی خانوں سے نکلیں بندوقوں کی نالیں اس کے قدم ڈگمگانے کے لیے کافی تھیں...سراسیمہ ہوا اسے بار بار مڑ جانے کا کہنے لگی... سہمے تارے اس کے کانوں میں واپسی کی سرگوشی کرنے لگے... مگر وہ ان کو ڈانٹتا آگے بڑھنے لگا.

چاند بادلوں کی اوٹ میں ہے، واپس چلے جاؤ. چمگادڑ چلاتی بولی...اور خوفناک قہقہے لگاتی اس کے گرد چکر لگانے لگی. ظلمت کدے کی اس گونگی رات میں ہر شے اس کے خلاف بول رہی تھی...وہ ہچکچایا... اور رک گیا...پاس کھڑے گھپ اندھیرے نے قہقہہ لگایا...ظلم اونچے جھروکے میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا... قہقہہ سن کے نیچے جھانک کر دیکھا...
اسے کھڑے دیکھ کر مونچھوں کو تاو دیتا طنزیہ ہنسی ہنسنے لگا... جھروکے میں کھڑے ظلمت کے بغل بچوں نے اسے کشمکش میں کھڑے پا کر خوشی سے ناچنا شروع کر دیا... چاروں اطراف سے تمسخر اڑاتی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرانے لگیں... اس نے پوٹلی کے ساتھ بندھی لاٹھی سے خوف کو دور بھگایا. ہمت متجمع کی، بہتے آنسو صاف کیے اور دوبارہ سے چل پڑا.

چھپتا چھپاتا، ٹھوکریں کھاتا کسی نہ کسی طرح وادی کے وسط میں واقع چوک میں جا پہنچا... اطراف نظر دوڑاتے ہی اسے دھچکا لگا...چوک کے چاروں طرف بے نور آنکھیں لٹک رہی تھیں... جن سے نوچے گئے خواب پاس ہی نیچے مردہ حالت میں پڑے تھے. انہیں دیکھ کر اسے اپنا انجام واضح نظر آنے لگا... جلدی سے راستے کا تعین کرنے لگا کہ ٹھک ٹھک کی آواز نے اسے چونکنے پہ مجبور کر دیا...سامنے کی دیوار پہ پیلی لرزتی روشنی آہستہ آہستہ پھیلتی قریب آ رہی تھی... بھاگ کر پاس پڑے لکڑی کے تختے کی اوٹ میں چھپ گیا... گلی کی نکڑ سے ایک ہاتھ میں درانتی تھامے اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین پکڑے، لنگڑا شخص برآمد ہوا.... وحشت ناک گول گول آنکھوں کو تیزی سے گھماتے اردگرد دیکھنے لگا، جیسے شکار کا خون پینے کے لیے شدت سے بےتاب ہو...آسمان میں موجود چیلوں کے پروں کی پھڑپھراہٹ بتا رہی تھی کہ انہیں اس بستی میں ہوئے قتل و غارت کا علم ہو چکا ہے... لکڑی کے تختے کے پیچھے چھپے اس کی ہمت جواب دینے لگی...موت سے پہلے موت کا منظر اس نے دیکھ لیا تھا... لنگڑا شخص چوک میں موجود سراسیمگی و وحشت میں اضافہ کرتا، اپنی تسلی کرتا کہ سارے خواب مر چکے ہیں، واپس چلا گیا.

اس نے سکون کا سانس لیا... جھانک کر باہر دیکھا... ٹھنڈ اور خنکی آہستہ آہستہ ہر طرف چھا رہی تھی... حیرت اور خاموشی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کونوں میں دبکے سسک رہے تھے... آہستہ آہستہ چلتا وہ ایک گلی کی طرف مڑ گیا... اسے آتا دیکھ کر آمنے سامنے بنے ہر مکان کی بالکنی حسرت سے آہیں بھرنے لگی... وہ مکان جن کے مکین اب نہیں رہے تھے... وہ رنجیدہ نظریں جھکاتا آگے بڑھ گیا... بہت دیر چلتا رہا... راستے میں کھڑے، بندوقیں پکڑے درندوں سے خود کو بچاتے تھک گیا... اسے ابھی تک اپنا ٹھکانہ نہ مل سکا تھا...ایک چھوٹے سے مکان کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا...اس مکان کے درو دیوار سے حسرت کی بجائے امید ٹپک رہی تھی... وہ چونکا... دروازہ کھولتا اندر چلا گیا... اندر ایک نوجوان لڑکا بستر پہ لیٹا چھت کو تکے جا رہا تھا... اس کے پاس جا بیٹھا... بستی میں ابھی تک ملنے والی واحد سلامت آنکھیں اس کے سامنے تھیں... جھانک کر دیکھا... آنکھوں میں تاریکی تھی... لڑکا دیکھ نہیں سکتا تھا... اسے ساری صورتحال سمجھ آ گئی... وحشیوں نے، آنکھیں نوچنے کی بجائے،اس لڑکے کی آنکھیں چھروں والی بندوق سے ویران کر دی تھیں... اور اس خوش فہمی میں اسے زندہ چھوڑ گئے تھے کہ یہ تاریک آنکھوں والے خواب کیا دیکھیں گے... مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ خواب روشنی، تاریکی بھلا کب دیکھتے ہیں... انہیں تو بس آنکھیں چاہیے ہوتی ہیں... جن میں بس کر وہ امید کو قائم و دائم رکھے رہیں... تاریک آنکھوں میں تعبیر پاتے خوابوں کا رواج شاید ان درندوں کے ہاں نہیں تھا... وہ صرف آنکھیں نوچنا جانتے تھے...وہ جلدی سے پوٹلی اٹھائے کھڑا ہوا، لڑکے کی صحیح سلامت آنکھوں میں داخل ہوا، اور آلتی پالتی مارے سکون سے بیٹھ گیا...بڑی مشکلوں کے بعد اسے جائے پناہ ملی تھی...لڑکے کی آنکھیں چمکنے لگیں... اس کے آنکھوں میں روشنی بھلے نہیں تھی مگر خواب ضرور تھا... اور بستی کے چوک میں جگہ جگہ موجود ظلم و استبداد کے ہیولے مردہ خوابوں کے اردگرد ناچتے پھر رہے تھے اس بات سے بےخبر کہ اک خواب بستی کی سلامت آنکھوں میں پھر سے مزاحمت کے لیے پنپ رہا ہے... وہ خواب جس کا نام " آزادی" تھا

ٹیگز