سوشل میڈیا استعمال کیجیے لیکن تہذیب کا دامن نہ چھوڑیے - مفتی توصیف احمد

تاریخ انسانی میں انسانیت نام کی ناؤ نے کافی نشیب و فراز دیکھے ہوں گے اس کے انحطاط اور اخلاقی گراوٹ کے بہت سے زمانے گزرے ہوں گے، جس میں انسان، انسانیت تہذیب، اقدار اور سماجیات سبھی تنزلی کا شکار ہوئی ہوں گی، لیکن دور حاضر میں سوشل میڈیا کی تیز دہاری تلوار نے جس انداز میں اخلاقیات کا قلع قمع کیا، اخلاقیات کے جنازے اٹھے، اقدار کو پامال کیا گیا، دشنام طرازی کو وطیرہ بنایا گیا، اس کی مثال شاید ہی کبھی تاریخ انسانی میں ملتی ہو۔ اب سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بجائے اس کا منفی استعمال غالب آرہا ہے، چھوٹے بڑے کی تمیز اور لحاظ بالکل ناپید ہوچکا ہے۔ دو ٹکے کے لوگ یوں فلسفہ جھاڑتے ہیں گویا ان سا کوئی حکیم و دانا اس کارخانہ دنیا میں نہیں، اپنی رائے حتمی، حرف آخر اور گویا وحی کے الفاظ جبکہ فریق مخالف جاہل، اس کی رائے عبوری سطحی اور تردید کے قابل۔ فیس بک صارفین کی کثیر تعداد عقل ودانش سے پیدل،جن کا مقصد صرف اور صرف سیلفی کی اپلوڈنگ اور کمنٹس میں بلّے بلّے، جی حضوری اور خوشامدی کے سوا کچھ نہیں۔ گاہے تو کسی کی بات کو بلا تحقیق آگے شیئر کرنا اور گاہے انسانوں کی شکلیں مسخ کرکے انسانوں اور جانوروں کا موازنہ کرنا، سیاسی مخالفین کی پوسٹ پر تذلیل کرنا، دوسرے کو لتاڑنا اور عزت کی تمام حدود پامال کرنا ان لوگوں کا شیوہ ہے۔ ان کے ہاں کوئی عزت دار ہے، نہ انہیں کسی کی عزت کا خیال۔ ان کا مقصد اپنے من پسند لیڈر کے شملہ کو ہر حال میں اونچا رکھنا ہے۔ ایسے لوگ کمنٹس میں آپے باہر ہو جاتے ہیں۔ تہذیب اخلاق، اقدار سبھی تو ان کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اچھا اخلاق اچھے خون کی ضمانت ہے۔ آپ فیس بک پر موجود اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اپنی اور اپنی خاندان کی نمائندگی کررہے ہیں۔ آپ کے اخلاق اورکردارکی خوشبو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرے گی۔

ایک سیاسی پوسٹ پر کمنٹس میں دشنام طرازی کا عجیب نمونہ دیکھا، ایک صاحب مسلسل اپنے لیڈر کے بارے میں بو لے جا رہے تھے۔ یاد رہے آپ کی آزادی کی ایک حد ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوجائے وہاں آپ کی حد ختم ہے۔ آپ کسی کو اپنا قائد تسلیم کرتے ہیں تو دوسرا بھی کسی کو لیڈر مانتا ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ آپ کا لیڈر دودھ کا دھلا ہو جبکہ مخالف کے لیے گالم گلوچ کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہ ہو۔ اختلاف کیجیے آپ کا حق ہے لیکن اس کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کھل جا سم سم - نصرت یوسف

اعداد وشمار کے مطابق ملک میں 58 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے ان میں اکثریت سوشل میڈیا کے استعمال میں ایسی مگن ہے کہ دنیا و مافیہا سے بے خبرہے۔ ہسپتالوں کی گیلریوں، مسافر گاڑیوں، تفریح گاہوں، تعلیمی درس گا ہوں، مقامی ہوٹلوں حتیٰ کہ گھر میں موجود افراد کے بیچ سوشل میڈیا سر چڑھ کر بولتا آپ کو دکھائی دے گا، اس طرح کہ پاس بیٹھے آدمی کی کوئی حیثیت نہیں، فیس بک پر موجود دوست کی اہمیت ہے۔ ساتھ پیدا ہونے والی بہن شفقت و ہمدردی کو ترس رہی اور جوان اپنے تئیں فیس بک پر بنائی گئی بہن سے محو گفتگو ہوگا۔گھر میں بد اخلاق اور سیرت شکستہ اور فیس بک پر افلاطون اور لقمان حکیم کا فرزند بنا ہوگا۔ پڑوس میں موجود مستحق افراد سے صرف نظرہے اور سوشل میڈیا پرانسانیت کا مسیحااور ان کے حقوق کا علمبردار، یونیورسٹی میں ٹیچر کے لیکچر سے غافل جبکہ نیٹ پر امام گوگل کی مدد سے موضوع سے متعلق موادتلاش کرنے میں مگن۔ یہ سب اس معاشرے کا المیہ ہیں، اپنوں سے دوری بے گانوں سے یاری، فیس بک کی کرشمہ سازی، ان سب حالات میں دو رخ نوجوان کے سامنے ہیں مثبت اور منفی۔

آپ کا فیس بک اکاؤنٹ، آپ کی پروفائل آپ کی شخصیت کی آئینہ دار ہے، کوئی بھی وزٹر جب آپ کے اکاؤنٹ کا دورہ کرتا ہے تو آپ کی شخصیت اس کے سامنے آشکارا ہو جاتی ہے بجائے اس کے وہ آپ کی وال پر "آج ناشتہ دوستوں کے ساتھ "،"می اینڈ مائی فرینڈ" جیسے جملوں کو دیکھے، آپ کی وال علم و دانش کا مینارہ ہو، دوستوں کے ساتھ انفارمیشن کی شیئرنگ ہو، علمی مباحث ہوں، دلیل ہو، اخلاقیات ہوں، برداشت ہو، عدم تشددکا فلسفہ ہو، محبت وآتشی کا پیغام، اتحاداوریکجہتی کا مظہر، فرقوں و فرقہ پرستی سے کوسوں دور، اشتعال انگیزی و دل آزاری سے اجتناب جیسی محاسن اور خوبیوں سے مالا مال آپ کی پروفائل پھولوں کا گلدستہ ہو نہ کہ نفرت انگیزی،فرقہ واریت، قومیت، عصبیت، لسانیت اور علاقائیت کے بدبودار کھوکھلے نعروں کا مجموعہ۔ یہ آپ پر منحصر ہے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کو دوست بنائیے، ان سے استفادہ کیجیے، بے ہودہ اور غلیظ گفتگو اور کمنٹس کرنے والوں کو سلام وداع کہیے، بلاک اور ان فرینڈ کیجیے، دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے پاس اچھے لوگوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل پائے گا، جن میں اختلاف کرنے کا ڈھنگ اوراپنی بات منوانے کا طریقہ مثالی ہوگا جسے دیکھ کرآپ عش عش کر اٹھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا پر ہمارا عمومی رویہ - بشارت حمید

سری نواسن کولمبیا یونیورسٹی میں گریجویٹ سکول آف جرنلزم کے پروفیسر اور ڈین ہیں جو ڈیجیٹل میڈیا پروگرام پڑھاتے ہیں، جن کے ٹویٹر پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور جن کا شمارجنوبی ایشیا ء کے ٹاپ 20 با اثرلوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ؟اس پر ایک نظر ڈالیے۔ :’’حقیقی زندگی میں ہم جس چیز کو عقل سلیم سے تعبیر کرتے ہیں فیس بک اور ٹویٹر پر بھی وہی چیز عقل سلیم ہوتی ہے اس لیے فیس بک اور ٹویٹر پر زیادہ چیزیں شیئر نہ کریں۔ اس میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، سوشل میڈیا کو محفوظ طریقے سے آپ اپنے خیالات کی ترسیل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، بجائے اس کے کہ آپ لکھیں کہ ناشتے میں کیا کھایا ہے .احمقانہ پوسٹوں اور گیمز کھیل کر اپنا وقت ضائع نہ کریں، یہ طویل مدتی تعلقات بنانے اور ربط بڑھانے کا ذریعہ ہے تاکہ جب کوئی آپ کی پروفائل دیکھے تو اچھا تاثر قائم کرے۔ یہ نہ کہے کہ یہ شخص اپنا ڈھیر سارا وقت ضائع کرتا ہے۔ ــ‘‘

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ہمارا مذہب اسلام ہے۔ اور اسلام نا محرم مردوں اور عورتوں کے اختلاط،میل ملاپ اور بات چیت کی ممانعت کرتا ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر روزانہ لاکھوں مرد اور عورتیں باہمی ربط کو بڑھاتے ہیں۔ غیر اخلاقی اور فحش مواد نوجوان طبقے کے لیے زہر قاتل ہے۔ یہاں لڑکے لڑکیوں کو دام تزویر میں پھانستے اور بعد میں بلیک میلنگ کرتے نظرآتے ہیں ہیں جس کی وجہ سے بہت سی بچیوں کی زندگی ویران ہوچکی اور کئی موت کو گلے لگا بیٹھی ہیں۔ نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتا ہے لیکن ہم اپنے ہاتھوں اپنا مستقبل اندھے قاتل کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کر رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان اپنے آباء سے باغی اور سماجی قدروں کو روند رہے ہیں جن کی مناسب تربیت کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا کا استعمال کیجیے اور ضرور کیجیے، لیکن تہذیب اخلاق اور اسلامی دائرہ کار میں رہتے ہوئے، اپنے بچوں کو اس ناسور سے بچائیے، ان پر نظر رکھیے۔