خوشامدی کہیں نیّا نہ ڈبو دیں - شاہد یوسف خان

حکومتی کشتی کا پس منظر تو یہ ہے کہ پچھلے چار برس کے دوران حکومت ایک کے بعد ایک بحران سے گزر رہی ہے۔دہشت گردی، دھرنے، افغانستان، بھارت، بلوچستان، کراچی، سول ملٹری تعلقات کا ٹھنڈا گرم، نجکاری و کرپشن اسکینڈلز، احتساب، معاشی اتار چڑھاؤ وغیرہ وغیرہ اور پھر ان بحرانوں کے بعد فائنلائزیشن ہوتی ہے تو پانامہ جیسے مہا کرپشن سکینڈل سے، جس پر گزشتہ ایک سال سے صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن حلقے بھی ڈگمگا رہے ہیں۔ کچھ حکومت گرانے کی تگ و دو میں اور کچھ بچانے کی تگ و دو میں سب سے زیادہ چاندی خوشامدیوں کی ہوتی ہے جنہوں نے ہر دور میں اپنا قبلہ رخ تبدیل کرتے رہنا ہے۔ خود موازنہ کرلیجیے کہ میاں صاحب کی کابینہ ہو یا عمران خان کی ٹیم دونوں پاسے مشرف باقیات سے بھرے پڑے ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے میاں صاحب کو اپنی مجلس مشاورت میں اب تو باور کرادیا ہے کہ ان کو خطرہ ضرور ہے لہذا خوشامدیوں سے بچ کر رہیں۔ لیکن میاں صاحب اب خوشامدیوں کے چکر میں کہیں مغلیہ خاندان کی طرح ہمیشہ کے لیے اقتدار سے محروم نہ ہوجائیں خیر اب وہ دور نہیں لیکن میاں صاحب پھر بھی بچ کر رہیں تو اچھا ہے۔

خبر کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ کے منعقدہ اجلاس میں میاں صاحب کو فرمایا کہ ان کی لیگل ٹیم درست کام نہیں کر رہی اور اب اس مقدمے میں ان کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے اور خوشامدیوں سے بچنے کی تنبیہہ بھی کی جس پر میاں نواز شریف نے چودھری نثار کو فرمایا کہ یہ بات اکیلے میں بھی ہوسکتی تھی، یہاں ضرورت نہیں تھی۔ چودھری صاحب اجلاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ "موجودہ صورتحال میں آپ کے لیے دعاگو ہیں۔"

بزرگوں سے سنا ہے اور تاریخ کی کتابوں میں بھی ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ گزشتہ صدیوں میں بادشاہوں کے بے شمار خوشامدی ہوتے تھے جو بعد میں یا تو حکمرانوں کے ساتھ تختہ دار پر لٹک جاتے تھے یا پھر موقع کو غنیمت سمجھ کر اگلے دور میں مل جاتے تھے ان خوشامدیوں میں اس وقت کے مطابق وزیر،مشیر، مذہبی رہنما، شاعر، نثر نگار، مختلف فنکار ہوتے تھے۔ اب زمانہ تبدیل ہوچکا ہے، اب وزیر، مشیر، قانون دان اور صحافی اس وقت کی بہترین مثالیں ہیں جو اس وقت میاں صاحب کو حوصلہ دیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ جمہوری حکومت میں جتنے خوشامدی رہے ہیں انہوں نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر مال کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے کی کوشش کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ بھاری اکثریت سے جیتنے والی پیپلز پارٹی 2013ء کے الیکشن میں دونوں شانیں چت ہو کر شکست سے دو چار ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

حکومت کلّی نہیں مگر جزوی طور پر ہی وہ وعدے پورے کرلیتی جو 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے یا بعد میں حقیقت پسندی کے ساتھ یا جوشِ خطابت میں بہتے ہوئے کر لیے گئے۔ زرداری کو گھسیٹنا، لاہور کو پیرس بنانا، بجلی دوسرے ملکوں کو دینا تو قوم نے بھی ازراہ مزاح سمجھا تھا لیکن ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، بے روزگاروں کو کام جو عنایت کردیتے قوم تو راضی رہتی۔ عدلیہ کا فیصلہ نہیں آیا لیکن حالات یہی بتا رہے ہیں کہ اب گھر چلے جانے میں عزت و عافیت ہے اور جمہوری طرز عمل بھی یہی ہے کہ وہ نشست بحال رکھنے کی بجائے مضبوط ہوتی جمہوریت کو بچائیں خوشامدی تو نیّا ڈبوا کر بھی درباری بن جانے میں مہارت رکھتے ہیں۔۔