نسخہ درکار ہے - راؤ عبد الصمد

میں روحانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہونے کا دعویدار ہوں اور نہ ہی نیک سیرت ہونے کا۔ لیکن اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ اللہ کا کلام شفاء للناس ہے۔ اسی لیے میں دم بھی کردیتا ہوں اور کہنے پر تعویز بھی لکھ دیتا ہوں۔ کیونکہ جس ماحول میں ہم رہتے ہیں اس میں اکثریت کا دین سے تعلق دم درود تک ہی رہ گیا ہے۔ تو اس نیت سے کہ دین سے جو اتنا سا تعلق ہے وہ بحال رہے پوری نیک نیتی سے یہ خدمت کی جاتی ہے۔

دم اور تعویز کے طلبگاروں میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے اور ان میں اکثر کو صرف وہم ہوتا ہے کہ ان کو کوئی مرض یا مسئلہ ہے۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ اگر ایک خاتون کسی چیز کا تعویز لے کر گئی ہےتو آپ دیکھیں گے اسی چیز کے لیے بہت سی خواتین آپ سے ان دنوں تعویز طلب کریں گی۔ یعنی کہ پہلی خاتون نے اپنا مسئلہ اور آپ سے تعویز کا ذکر کسی اور خاتون سے کیا۔ چنانچہ اس سننے والی کو وہی مسئلہ اپنے ساتھ بھی محسوس ہوا اور وہ بھی پہلی فررصت میں آپ سے تعویز منگوائے گی اور جہاں تک یہ قصہ روایت ہوگا وہان تک وہ مسئلہ اور آپ کا تعویز چلتا رہےگا۔

میں تعویز دیتے وقت سانٹیفک طریقہ بھی مد نظر رکھتا ہوں، جس سے تعویز کا اثر دوآتشہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً سردیوں میں اک بچی آغی کہ میری امی کے سر میں درد ہے، تعویز لکھ دیں۔ چونکہ ہمارے ہاں خواتین سرڈھانپنے کی مشقت کم ہی برداشت کرتی ہیں تو اس لیے سردیوں میں ٹھنڈ کے اثر سے سردرد عموماً رہتا ہے۔ میں نے تعویز لکھا اور ہدایت کی کہ اسے کسی گرم ٹوپے میں رکھ کر سر پر پہن لیں۔ الحمد للہ نسخہ کامیاب ہوا۔ حسب سابق اس پورے محلے کی خواتین نے تعویز طلب کیے اور مجھے بہت سی خواتین کے سر ڈھنکوانے کا ثواب اور مسیحائی کا اجر پانے کا موقع ملا۔ اس طرح کے اور بہت سے مسائل ہیں جن میں ہمارے تعویز پلس نسخے کامیاب رہے۔

اس ساری تمہید کےبعد عرض یہ کرنا ہے کہ کل مسجد کے باہر اک بچی چینی لیے کھڑی تھی مجھے مسجد سے نکلتا دیکھ کے میری طرف لپکی اور اک ہی سانس میں کہا کہ امی کہہ رہی ہیں کہ ہمارے گھر کا دودھ خراب ہو گیا ہے، چینی دم کر دیں۔ بچی نےمدعا بیان کر کے لمبا سانس لیا اور میرا سانس گلے میں اٹک گیا۔ سانس اٹکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں اپنی خواتین کے طرز فکر پر فکر مند تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ اسے کیا دم و نسخہ دوں کہ میری ولایت کا بھرم باقی رہے۔ اگر آپ کے پاس کوی نسخہ ہو کہ دودھ شدید گرمی اور شدیدلوڈ شیڈنگ میں بھی خراب نہ ہو تو ضرور مطلع فرمائیں۔

نوٹ: یہ تحریر صرف لکھنے کی مشق کے لیے لکھی ہی۔ کوی صاحب خود کو اس کی زد میں نہ سمجھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */