اعصاب کی جنگ - محمد عامر خاکوانی

جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعدایک نئی جنگ شروع ہوچکی۔ یہ لڑائی اعصاب کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنا دباؤ برداشت کرتا ہے اور کس سے ان نازک لمحات میں غلطیاں سرزد ہوتی ہیں؟ پریشر صرف حکومت ہی پر نہیں بلکہ اپوزیشن خاص کر تحریک انصاف بھی توقعات کے بھاری بوجھ تلے دبی ہے۔ عمران خان کواحتیاط سے قدم اٹھانا ہوگا، کوئی ایک غلطی انھیں تاریخ کی نظروں میں مجرم بنا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے قائد ہمیشہ تاریخ ساز کردار ادا کرنے کے متمنی رہے ہیں، ایک خاص انداز کے احساس عظمت سے بھی وہ سرشار ہیں۔ تاریخ مگر بلند مقام ہر ایک کو نہیں دیتی۔ اس کے لیےگاہے ایثار اور غیر معمولی ضبط درکار ہے۔ کیا عمران خان اور ان کے نووارد شہسواروں میں مطلوبہ تحمل، برداشت اور انتظار کی سکت ہے؟ اس پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے حکومتی آپشنز پر نظر ڈالتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی قیادت اور حکومت اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کے مطالبہ میں تقویت آ رہی ہے۔ تحریک انصاف کے علاوہ پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور کئی دوسری جماعتیں بھی اب میاں صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حامیوں سے معذرت، مگر حقیقت یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ قانونی محاذ پر جنگ کا پہلا اہم فیز بری طرح ہار چکے ہیں۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو انہوں نے ایزی لیا یا ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے اس خالصتاً قانونی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔ مریم نواز شریف نے اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ذریعے جے آئی ٹی اور عدلیہ پرالزامات کی بوچھاڑ کی۔ مقصد شاید یہ تھا کہ دباؤ بڑھا کر جے آئی ٹی کو متنازع بنایا جائے، تاکہ اس کی رپورٹ بےتوقیر ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کو بھی استعمال کیا گیا۔ اس گروپ کے رپورٹروں نے من گھڑت خبریں دیں، جنھیں غیرمعمولی کوریج دی گئی۔ یہ خبریں جھوٹ نکلیں اور بعد میں شرمندگی کے ساتھ معذرت چھاپنی پڑی۔ جس رپورٹرنے دو دن پہلے اپنی جھوٹی خبر پر قارئین سے معذرت کی، گزشتہ روز اس نے پھر لمبی چوڑی خبر دی، جسے صفحہ اول پر بہت زیادہ سپیس دے کر شائع کیا گیا۔ موصوف رپورٹر سے زیادہ حسین نواز کے ترجمان لگے۔ پورا زور جے آئی ٹی کے الزامات کو رد کرنے میں لگا دیا، دلائل انتہائی کمزور اور بودے۔ پڑھ کر سخت کوفت ہوئی۔ پانامہ سکینڈل کے دوران جہاں شریف خاندان بعض حوالوں سے ایکسپوز ہوا، وہاں میڈیا کا ایک حلقہ اور بعض ممتاز اخبارنویس بھی بے نقاب ہوئے ہیں۔ جو اپنے اوپر اعتدال، غیر جانبداری کا نقاب اوڑھے ہوئے تھے، پانامہ کی ہواؤں نے وہ پردہ اڑا دیا۔ قدرت شاید ایسے واقعات کے ذریعے ہی کھرے، کھوٹے کو الگ کرتی ہے۔

شریف خاندان کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ جے آئی ٹی میں اچھے طریقے سے اپنا کیس پیش کرتے، ٹھوس شواہد دیتے تاکہ ان پر عائد الزامات غلط ثابت ہوں۔ ایسا کرنے میں میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ ناکام ہوئے۔ جے آئی ٹی کے پیش کردہ شواہد پر عدالت عظمیٰ ہی حتمی رائے دے گی، مگر بادی النظر میں کئی الزامات اہم اور ٹھوس لگ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی کے بعض ممتاز صحافیوں نے میاں صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان جیسے اخبار نے جو ہرگز وزیراعظم مخالف نہیں، اداریہ لکھا کہ میاں صاحب وزارت عظمیٰ چھوڑ کر اپنے اوپر لگا ئے گئے الزامات کلیئر کرائیں اور پھر دوبارہ وزیراعظم بن جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کرسی اور آیت الکرسی - رعایت اللہ فاروقی

مسلم لیگ ن کے حامی حلقے بار بار اسے سول ملٹری کشمکش کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست نہیں۔ پانامہ سکینڈل ایک عالمی سکینڈل تھا، اس کا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ پانامہ کے بعد چلنے والے معاملات میں بگاڑ وزیراعظم نوازشریف کی اپنی غلطیوں سے پیدا ہوا، اس میں کسی خفیہ ادارے یا عسکری قیادت کا عمل دخل نہیں۔ پانامہ لیکس، سپریم کورٹ میں کیس اور جے آئی ٹی کہیں سے بھی سویلین بالادستی کا معاملہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زاہد حسین اور ان جیسے کئی سخت گیر اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافی بھی وزیراعظم کے استعفے کی بات کر رہے ہیں۔ ایک سیدھا سادہ قانونی ایشو ہے، جسے بلاوجہ پیچیدہ بنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر غیر ضروری اعتراضات کیے جاتے رہے، اب پہلے سے بھی زیادہ کمزور الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ جے آئی ٹی کیا کر لے گی، اس کی تحقیقات کی کوئی حیثیت نہیں، یہ کچھ نہیں کر پائے گی، وغیرہ وغیرہ۔ اب جبکہ جے آئی ٹی نے ٹھیک ٹھاک ثبوت جمع کر لیے، تو اب کہا جا رہا ہے کہ اتنی ساری چیزیں دو ماہ میں کیسے جمع ہوسکتی ہیں؟ ہوسکتی ہیں، جناب والا! اگر نیت صاف ہو، کام جذبے سے کیا جائے اور مناسب سٹاف مہیا کیا جائے تو یہ سب کچھ ممکن ہے۔ ہماری سیاسی حکومتیں اپنے مخالفین کو چونکہ کرپشن کے حوالے سے پکڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں، اس لیے دانستہ کیسز کو طویل کیا جاتا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ پر ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ اس میں جارحانہ زبان استعمال کی گئی اور ذاتی حملے ہوئے۔ یہ اعتراض سادگی کی وجہ سے لگایا گیا۔ جے آئی ٹی ارکان شواہد جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات بھی بیان کرتے ہیں۔ یہ فطری ہے اور ہر جے آئی ٹی رپورٹ میں اس کی جھلک ملے گی۔ اگر جے آئی ٹی کو رحمان ملک نے مایوس کیا اور انہیں لگا کہ موصوف ڈرامہ بازی کی نیت سے آئے ہیں تو یہ بات انہیں لکھنی چاہیے تھی۔ اگر کیپٹن صفدر ہر بات سے انکاری ہو جائیں اور معصوم کاکے والا رویہ اپنائیں، تنقید تو پھر ہوگی۔ جس بندے کو یہ بھی علم نہ ہو کہ اس کے بچے باہر کی یونیورسٹیوں میں کیسے پڑھ رہے ہیں؟ جو دعویٰ کرے کہ ایک درمیانے سے بھی کم درجے کی رقم جیب خرچ کے طور پر سسرال سے مل رہی ہے اور اس میں وہ گزارا کر رہا ہے تو پھر”ہاسا“ تو نکلے گا۔ ایسے میں یہی کہا جائے گا کہ یا تو یہ صاحب جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر ضرورت سے زیادہ لاعلم۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارےتین لیڈروں کے عدالتی رویے - عمران زاہد

وزیراعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی عدالتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وزیراعظم کے لیے بہتر تھا کہ وہ مستعفی ہوجاتے، ان الزامات کامقابلہ کرتے اور پھر انھیں غلط ثابت کرنے پر دوبارہ وزیراعظم بن جاتے۔ ان کے پاس وفادار ساتھیوں کی کمی نہیں، بڑی آسانی کے ساتھ وہ کسی کو بھی وزیراعظم بنوا کر باقی ماندہ مدت پوری کر سکتے ہیں۔ دوسری آپشن ان کے پاس نئے الیکشن کی ہے۔ وہ عوام میں جائیں اور تازہ مینڈیٹ لے کر واپس آئیں۔ عدالتی عمل تو پھر بھی چلتا رہے گا، مگر عوام سے دوبارہ ووٹ لینے کی صورت میں نواز شریف صاحب کے پاس زیادہ قوت، اختیار اور اعتماد آ جائے گا۔ یہ دونوں فیصلے مگر انہیں خود کرنے چاہییں۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور ریلیوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش قطعی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بالکل مناسب نہیں۔

عمران خان نے ایک بڑا معرکہ جیت لیا ہے۔ پانامہ کیس پر وہ تندہی سے لگے رہے۔ حکومتی وزراء اور ن لیگی اخبار نویس خان پر پھبتیاں کستے، مضحکہ اڑاتے رہے۔ سیاست سے ناشناسا کہتے رہے۔دس جولائی کو ان میں سے اکثر نے جھکی نظروں کے ساتھ عمران کے عزم صمیم کا اعتراف کیا۔ عمران خان کے لیے آزمائش مگر اب شروع ہوئی ہے۔ حکمران جماعت کا کیمپ پچھلے ایک سال سے یہ کہہ رہا ہے کہ پانامہ کا پورا ایشو دراصل اسٹیبلشمنٹ اور منتخب حکومت کے مابین رسہ کشی کی وجہ سے ہے۔ ن لیگی مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلنے، امپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے والا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عمران اور تحریک انصاف اس تاثر کو ہمیشہ کے لیے جھٹلا دے ۔ انھیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اس نظام میں ہزار خامیاں سہی، مگراس میں تبدیلی بتدریج اصلاحات سے آنی ہے۔ تحریک انصاف میاں نواز شریف کے احتساب کے عمل کو ضرور آگے بڑھائے، مگر اسے اس سسٹم کو لپیٹنے کا بہانہ نہ بننے دے۔ عمران خان کو اپنی جماعت میں نووارد سیاستدانوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ بابر اعوان جیسے زخم خوردہ سیاستدان اپنے غیر ضروری جارحانہ انداز سے تحریک انصاف کی سیاست کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے نادان دوست ہی مسلم لیگ ن کو سیاسی شہید عطا کریں گے۔ عمران خان کو معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنے چاہییں۔ حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنا ان کا حق ہے، مگر اس سے سسٹم ڈی ریل ہو نہ ہی کسی نادیدہ پلان کا راستہ ہموار ہونا چاہیے۔ نگران حکومت یا ”ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ“ جیسے چورن اب مزید نہیں بیچے جا سکتے ہیں۔ سیاست میں تطہیر سیاسی اصلاحات سے لائی جا سکتی ہے۔ مدت پوری کرنے کے بعد عوامی احتساب کے ذریعے پیپلزپارٹی کا صفایا ہوا، یہی انجام مسلم لیگ ن کے حصے میں بھی آ سکتا ہے۔ جنگ اعصاب کی ہے، عمران خان اگر تحمل سے یہ لمحات جھیل گئے، درست فیصلے کیے تو ان کے ثمرات سے محروم نہیں رہیں گے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں