مسلمان کی زندگی میں لطف اندوزی کا تصور - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 20-شوال - 1438 کا خطبہ جمعہ " مسلمان کی زندگی میں لطف اندوزی کا تصور" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ کائنات کی ہر چیز انسان کیلیے اللہ تعالی نے مسخر کر دی ہے، مقصد یہ ہے کہ انسان ان سے لطف اندوز ہو کر اپنے آپ کو پروردگار کی بندگی کیلیے ایک بار پھر چست و توانا کر لے، اسلام میں لطف اندوزی کا تصور دوسروں تک پہنچانے کی نبی ﷺ نے ترغیب بھی دلائی ہے، یہی وجہ ہے کہ سیدنا علی، ابو درداء اور عمر رضی اللہ عنہم سمیت دیگر سلف صالحین سے اس کے عملی نمونے بھی ملتے ہیں، یہاں یہ واضح رہے کہ مسلمان کی لطف اندوزی بھی شرعی حدود اور توازن پر مبنی ہوتی ہے، چنانچہ لطف اندوزی پر اسے ثواب بھی ملتا ہے، دنیاوی لطف نیک اعمال کا فوری ثواب بھی ہو سکتا ہے، جبکہ آخرت میں ملنے والا ثواب اس کے علاوہ ہے، لطف اندوزی کے اسباب میں : اللہ پر ایمان، تقدیر پر ایمان، کثرت سے استغفار، دوسروں کی مدد، غریبوں کا تعاون اور دیگر مثبت سرگرمیاں شامل ہیں، آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیاوی لطف اندوزی کو اس کی اوقات میں رکھنا چاہیے کہ گناہوں کے مزے مت لے کیونکہ یہ عارضی مزہ ہے، دائمی لطف تو اللہ کی جنتوں میں مسلمان کو ملے گا ، پھر سب سے آخر میں انہوں نے سب کیلیے جامع دعائیں کیں۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے جس نے قرآن مجید میں فرمایا: {وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ} آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی حقیر سا فائدہ ہے [الرعد: 26] ، سیراب ہونے تک نعمتیں ملنے پر میں اسی کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ کی جانب ایک بالشت قریب ہونے پر اللہ تعالی ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی حقوق کے اصول و ضوابط مزید پختہ فرمائے۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے جن کے ذریعے اللہ تعالی نے دین کو ضائع ہونے سے محفوظ فرمایا۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]
اللہ تعالی نے انسان کیلیے زمین کو ہموار فرش بنایا، پھر اسے انسان کیلیے مقررہ وقت تک ٹھہرنے اور لطف اٹھانے کی جگہ قرار دیا، اللہ تعالی نے اس میں برکت فرمائی اور لوگوں کیلیے رزق اس میں رکھ دیا، آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو مسخر فرمایا۔ رات، دن، سورج، چاند اور اپنی تمام تر مخلوقات کو لوگوں کے فائدے اور ان کی بہبود کیلیے مسخر فرما دیا۔
انسان کیلیے مفید چیزیں مسخر کرنے کی حکمتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ : مسلمان اللہ تعالی کی حلال کردہ چیزوں سے لطف اندوز ہو سکے، اور اپنے آپ کو زندگی سے لطف اندوز رکھے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے)

رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی دعوت بھی دی ہے کہ دینِ الہی میں زندگی سے لطف اندوزی کیلیے موجود وسعت اور فراخی کا اظہار کیا جائے

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ } آپ ان سے پوچھیں کہ : " اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے جو زینت اور کھانے کی پاکیزہ چیزیں پیدا کی ہیں انہیں کس نے حرام کر دیا ؟"آپ کہہ دیں: یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ایمان لائے اور قیامت کے دن تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔ ہم اسی طرح اپنی آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں [الأعراف: 32]

علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "دل بھی اسی طرح تھکتا ہے جیسے جسم تھک جاتا ہے، اس لیے دل کو چست کرنے کیلیے حکمت بھرے چٹکلے تلاش کرو"

بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی دعوت بھی دی ہے کہ دینِ الہی میں زندگی سے لطف اندوزی کیلیے موجود وسعت اور فراخی کا اظہار کیا جائے کہ جس سے دماغ ایک بار پھر تر و تازہ ہو جاتا ہے اور مزید حسن کارکردگی کیلیے رغبت ملتی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حبشہ کے لوگوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ([انہیں کھیلنے دو] تا کہ یہودیوں کو علم ہو جائے کہ ہمارے دین میں فراخی ہے)
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "دل بھی اسی طرح تھکتا ہے جیسے جسم تھک جاتا ہے، اس لیے دل کو چست کرنے کیلیے حکمت بھرے چٹکلے تلاش کرو"
ایک اور مقام پر کہتے ہیں: "دل کو وقتاً فوقتاً تسکین پہنچاتے رہو؛ کیونکہ جب دل پر زبردستی کی جائے تو اندھا ہو جاتا ہے"

ایسے ہی ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں دل کی تر و تازگی واپس لانے کیلیے جائز کھیل کھیلتا ہوں، تا کہ حق بات پر عمل میں میرا دل معاون ثابت ہو" اسی ہمارے پیارے رسول ﷺ کا فرمان ہے: (حنظلہ! یہ وقت وقت کی بات ہے)(1)

نیز عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے مضبوط ہوتا تھا" مطلب یہ ہے کہ ظریفانہ گفتگو ان کے ایمان کو کمزور نہیں کرتی تھی نہ ہی اس سے ان کے اخلاق میں گراوٹ آتی تھی، نمازوں کے اوقات ، ذکرِ الہی اور قرآن کریم کی تلاوت پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا تھا۔

 

انسان جس وقت شرعی دائرے میں رہتے ہوئے دینی اصولوں کے مطابق زندگی سے لطف اندوز ہو تو اسے اجر و ثواب بھی ملتا ہے

اللہ تعالی کی جانب سے مسخر کردہ نفع بخش اور مفید چیزوں سے مسلمان کی لطف اندوزی توازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے؛ اس طرح مسلمان فطری زندگی گزارتا ہے اور اللہ تعالی کی جانب سے حلال کردہ چیزوں سے خوب لطف اندوز ہوتا ہے، دوسروں میں خوشیاں اور مسکراہٹیں بانٹتا ہے ، خصوصی طور پر عید اور شادی بیاہ کے موقع پر خوشیاں بانٹنے کا اہتمام کرتا ہے۔
انسان جس وقت شرعی دائرے میں رہتے ہوئے دینی اصولوں کے مطابق زندگی سے لطف اندوز ہو تو اسے اجر و ثواب بھی ملتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (تمہیں شرمگاہ [کے صحیح استعمال] پر بھی ثواب ملتا ہے) صحابہ کرام نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو کیا اسے بھی ثواب ملے گا؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تم یہ بتلاؤ: اگر وہ حرام طریقہ اپنائے تو کیا اسے گناہ نہیں ہوگا!؟ تو اسی طرح اگر حلال طریقہ اپنائے تو اس کیلیے اجر بھی ہو گا) اسی طرح آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنایا گیا ہے، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے)

کثرت سے استغفار لطف اندوزی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے؛ کیونکہ استغفار کرنے سے خیر و برکت حاصل ہوتی ہے، آزمائشیں ٹلتی ہیں، رزق میں فراوانی آتی ہے، برکت بھری بارشیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں، پھر زمین بھی اپنی برکتیں نکال کر دکھاتی ہے، نیز ہمیں استغفار کی بدولت مال اور نرینہ اولاد بھی عطا کی جاتی ہے

خوشحال زندگی اور سامانِ لطف اندوزی حقیقت میں اللہ تعالی کی طرف سے مومنوں کیلیے جلدی ملنے والے ثواب کی شکلیں ہیں، جبکہ دائمی نعمتوں کی شکل میں آخرت کا اجر و ثواب ان کیلیے الگ سے تیار کیا گیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ} پھر کیا یونس کی قوم کے سوا کوئی ایسی مثال ہے کہ کوئی قوم (عذاب دیکھ کر) ایمان لائے تو اس کا ایمان اسے فائدہ دے ؟ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب دور کر دیا اور ایک مدت تک انہیں سامان زیست سے لطف اٹھانے کا موقع دیا ۔ [يونس: 98]
انسان جس قدر اپنے مولا کے قریب ہو اور تعلق بنائے تو وہ اتنا ہی اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے ، جبکہ اللہ کے پاس ملنے والا اجر و ثواب تو اس سے بھی بہتر اور دائمی ہے، دنیاوی لطف اندوزی اصل میں نیک اعمال کا ثمر ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} جو شخص بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے لطف سے بھر پور زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے۔ [النحل: 97]
کثرت سے استغفار لطف اندوزی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے؛ کیونکہ استغفار کرنے سے خیر و برکت حاصل ہوتی ہے، آزمائشیں ٹلتی ہیں، رزق میں فراوانی آتی ہے، برکت بھری بارشیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں، پھر زمین بھی اپنی برکتیں نکال کر دکھاتی ہے، نیز ہمیں استغفار کی بدولت مال اور نرینہ اولاد بھی عطا کی جاتی ہے؛ جیسے کہ فرمانِ الہی ہے: { فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10)يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا } تو میں نے کہا: تم اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے [10] وہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا [11] اور تمہاری مال اور نرینہ اولاد سے مدد کرے گا ، نیز تمہارے لیے باغات اور نہریں بنا دے گا۔[نوح:10- 12]

مسلمان کی زندگی میں لطف اٹھانے کا دائرہ کار محض دنیا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ جنتوں کی نعمتوں تک پھیلا ہوا ہے

مسلمان کی زندگی میں لطف اٹھانے کا بہت وسیع مفہوم اور معنی ہے، اس میں لطف اندوزی کی بنیاد بڑے ہی اعلی اہداف پر ہے؛ کیونکہ مسلمان کی لطف اندوزی دینی، اخلاقی اور اسلامی تعلیمات کیساتھ نتھی ہے، بلکہ اسلام میں لطف اندوزی اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، لطف اندوزی بذات خود مستقل ہدف نہیں ہے؛ وگرنہ انسان انحراف، بگاڑ اور بیہودگی کا شکار ہو جائے گا۔

مسلمان اس فانی دنیا کی کوئی نعمت یا لطف پاتا ہے تو اس کا ذہن فوری طور پر جنت کی نعمتوں اور لطف کی طرف چلا جاتا ہے ؛ پھر اسی کے شوق میں تیزی سے قدم بڑھانے لگاتا ہے تا کہ جنت کے بلند ترین درجے تک پہنچ جائے

مسلمان کی زندگی میں لطف اٹھانے کا دائرہ کار محض دنیا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ جنتوں کی نعمتوں تک پھیلا ہوا ہے کہ جہاں جا کر انسان دنیا کی تمام تر تکالیف یکسر بھول جائے گا، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس بات کا کامل ادراک رکھتا ہے کہ دنیا کی زندگی جس قدر بھی لمبی ہو جائے آخر اس نے ختم ہی ہونا ہے، یہاں کے مزے اور آسائشیں جس قدر بھی بڑی ہوں لیکن آخرت کے مقابلے میں عارضی اور معمولی ہیں، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: {قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ} آپ کہہ دیں: دنیا کا لطف تو معمولی ہے۔[النساء: 77] اسی طرح فرمایا: {وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ} آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی ایک حقیر سا فائدہ ہے [الرعد: 26]
لہذا جب بھی مسلمان اس فانی دنیا کی کوئی نعمت یا لطف پاتا ہے تو اس کا ذہن فوری طور پر جنت کی نعمتوں اور لطف کی طرف چلا جاتا ہے ؛ پھر اسی کے شوق میں تیزی سے قدم بڑھانے لگاتا ہے تا کہ جنت کے بلند ترین درجے تک پہنچ جائے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ} تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔ [الشورى: 36]
اللہ پر ایمان، اللہ تعالی پر توکل، دوسروں کو معاف کرنے، در گزر کرنے ، لاچار لوگوں کے دلوں میں مسرت بھرنے، ان کی آنکھوں اور چہروں پر خوشی کے آثار لانے اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں جو لطف ملتا ہے اس کے تو کیا ہی کہنے!!: "ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آ کر کہتا ہے کون سے اعمال اللہ تعالی کو پسند ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: (کسی مسلمان کو آپ خوش کر دیں، کسی کی مصیبت دور کر دیں، یا کسی کا قرض چکا دیں، یا کسی کی بھوک مٹا دیں)
متاعِ دنیا میں نرینہ اولاد اور بہن بھائی بھی شامل ہیں؛ ان کی رفاقت میں حقیقی اُنس ملتا ہے، اگر وہ نیک بھی ہوں تو یہ کسی غنیمت سے کم نہیں ، ان کی بنا پر زندگی رنگین اور پر رونق بنتی ہے، انہی سے خوشیوں کی تکمیل ہوتی ہے، وہ مسرتوں کی اساس ہیں۔
لطف اور خوشی اس وقت دوبالا ہو جاتی ہے جب آپ اپنی خوشی میں بھائیوں اور دیگر افراد کو شامل کریں، ان کی خوشی پر آپ بھی خوش ہوں اور انہیں اپنی خوشی کا حصہ بنائیں، ان کی مسرت کو اپنی مسرت سمجھیں نیز پر مسرت لمحات میں ان کو اپنے ساتھ شریک بنائیں۔
انسان دلی طور پر اس وقت خوب لطف اندوز ہوتا ہے جب انسان کوئی ہدف پورا کر لے یا کسی کام میں کامیاب ہو جائے اور اپنی محنت کا پھل پائے، اسی طرح انسان اس وقت بھی خوش ہوتا ہے جب کسی عبادت کی تکمیل کر لے؛ چنانچہ روزے کی تکمیل کے بعد افطاری کے وقت روزے دار کو خوشی ہوتی ہے، نماز کی ادائیگی کے بعد انسان مسرت محسوس کرتا ہے اور حج کے ارکان کی تکمیل پر بھی دل خوشی سے مچلنے لگتا ہے۔

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں: " مجھے تقدیری فیصلوں [کو تسلیم کرنے] میں ہی روزانہ خوشیاں ملتی ہیں"

مسلمان کی زندگی میں لطف اندوزی اس وقت مزید گہری اور مضبوط ہو جاتی ہے جب انسان تقدیری فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، ہر معاملے میں اللہ تعالی کے احکام پر یقین اور بھروسا رکھے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "بیشک اللہ نے عدل و انصاف کی بنا پر مسرت اور فرحت کو [تقدیر پر]یقین اور رضا مندی میں پنہا کر دیا ہے ۔ جبکہ شک میں پریشانی اور غم رکھ دئیے ہیں"
نیز عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں: " مجھے تقدیری فیصلوں [کو تسلیم کرنے] میں ہی روزانہ خوشیاں ملتی ہیں"
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟ جویریہ سعید

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں ، وہ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، وہی روزِ جزا کا مالک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی گزشتہ اور پیوستہ سب لوگوں کا معبودِ حقیقی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے ،رسول اور متقی لوگوں کے ولی ہیں ، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔
حمد و صلاۃ کے بعد: میں تمام سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

عقلمند انسان دنیاوی لطف کو اس کی اوقات کے مطابق ہی اہمیت دیتا ہے

عقلمند انسان دنیاوی لطف کو اس کی اوقات کے مطابق ہی اہمیت دیتا ہے؛ لہذا اس کے ذہن سے اللہ کی وعدہ شدہ نعمتیں کسی حالت میں بھی اوجھل نہیں ہوتیں، چاہیے دنیا کی رنگینیاں کتنی ہی زیادہ ہو جائیں اور بڑھ جائیں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ} یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ، اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش ! وہ لوگ یہ بات جانتے ہوتے۔ [العنكبوت: 64]

ایسی لطف اندوزی جو غضب الہی اور ناراضی کا باعث بنے اس سے بڑھ کر حسرت و ندامت کا سبب کیا چیز ہو سکتی ہے

عقلمند انسان جھوٹے لطف سے خبردار رہتا ہے کیونکہ وہ حسرت اور ندامت کا باعث بنتا ہے؛ لہذا گناہ کا انجام ذلت، پریشانی اور المناک ہوتا ہے۔ نیز کوئی بھی نعمت زوال پذیر ہوتی ہے تو اس کا سبب گناہ ہی ہوتے ہیں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ} اللہ تعالی کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے اوصاف خود نہ بدل دے، اور جب اللہ تعالی کسی قوم پر مصیبت ڈالنے کا ارادہ کر لے تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، نہ ہی اس کے مقابلے میں اس قوم کا کوئی مدد گار ہو سکتا ہے [الرعد: 11]
ایسی لطف اندوزی جو غضب الہی اور ناراضی کا باعث بنے اس سے بڑھ کر حسرت و ندامت کا سبب کیا چیز ہو سکتی ہے؟! فرمان باری تعالی ہے: {ذَلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُونَ (75) ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ} یہ اس لیے کہ تم زمین پر باطل سے لطف اٹھاتے تھے اور اس پر اتراتے تھے [75] (اب) دوزخ کے دروازوں میں سے داخل ہو جاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانا ہے [غافر: 75، 76]
اللہ کے بندو!
رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]
{اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ} .
یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، اور اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کیساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔
یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء! یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!
یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو ملا دے، ان کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، نیز حق بات پر انہیں متحد فرما، یا رب العالمین۔
یا اللہ! پوری دنیا میں کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان کا حامی و ناصر اور مدد گار بن جا۔
یا اللہ! وہ بھوکے ہیں ان کے کھانے پینے کا بندوبست فرما، وہ ننگے پاؤں ہیں انہیں جوتے عطا فرما، ان کے تن برہنہ ہیں انہیں ڈھانپنے کیلیے کپڑے عطا فرما، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا اللہ! ان پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کا بدلہ چکا دے، یا قوی! یا عزیز!
یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں، نیز جہنم اور اس کے قریب کرنے والے تمام اعمال سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں چاہے وہ فوری ملنے والی یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں۔ اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم یا نہیں۔
یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے، یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے لیکر انتہا تک ہر قسم کی جامع خیر کا سوال کرتے ہیں، شروع سے لیکر اختتام تک ، اول سے آخر تک ، ظاہری ہو یا باطنی سب کا سوال کرتے ہیں، اور جنت میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہم تجھ اپنے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ تمام گناہوں سمیت ان گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔
یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، یا اللہ! ہمیں تو معاف فرما دے۔
یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا، یا اللہ! ہمیں غلبہ عطا فرما، ہم پر کسی کو غلبہ نہ دینا، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف کوئی تدبیر نہ ہو، یا اللہ! ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لیے ہدایت آسان بھی بنا دے، یا اللہ! ہم پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر اور تیرے لیے ہی مر مٹنے والا بنا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور تجھ ہی سے توبہ مانگنے والا بنا۔
یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہ معاف فرما، ہمارے دلائل ثابت فرما، ہماری زبانوں کو درست سمت عطا فرما، اور ہمارے سینوں کے میل نکال باہر فرما۔
یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال ، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے ، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
یا اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمتوں اور رزق کے دروازے کھول دے۔
یا اللہ! ہماری نیکیوں، زندگی، بیویوں، اولاد، دولت، اور اہل خانہ میں برکت فرما، یا اللہ! جہاں بھی ہوں ہمیں برکت والا بنا ۔
یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں بہترین حاشیہ نشین عطا فرما، یا رب العالمین!
{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]
تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

(1)رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمان اس وقت فرمایا تھا جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے شکایت کی کہ اللہ کے رسول جب ہم آپ کے ساتھ مجلس میں ہوتے ہیں تو ہمارے دل کی کیفیت اور ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں تو دل کی کیفیت اور ہو جاتی ہے نیز ہم دنیا داری میں مگن ہو جاتے ہیں، تو یہ کیفیت تو منافقت والی ہے، تو پھر آپ ﷺ نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو تسلی دینے کیلیے فرمایا: (حنظلہ! یہ وقت وقت کی بات ہے) اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں، ایسی بدلتی کیفیت کو منافقت نہیں کہتے۔ [مترجم]

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کیلیے کلک کریں

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں