تقویٰ - محمد عمر بن مبارک

اللہ رب العزت نے سورة آل عمران میں فرمايا "اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو ہر جگہ اور ہر وقت جیسا کہ اللہ سے ڈرنے کا حق ہے اور یاد رکھو کہ تمہیں ہر گز موت نا آئے مگر اسلام کی حالت میں" (آیت 102)

قرآن میں رب کریم کا جہاں بھی "اے ایمان والو!" سے خطاب ہوتا ہے اس میں ایمان والوں کو کسی خاص بات کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے، جسے ایمان والوں کو توجہ سے سننا چاہیے۔ ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہو سکتا ہے جو توحید و نبوت کا اقرار کرکے شریعت محمدیؐ میں داخل ہو جائے۔

اتقو اللہ سے مراد ڈرتے رہو اللہ سے، ہر جگہ اور ہر وقت۔ یعنی اللہ تعالی کو یاد رکھنا، ذکر اذکار کرنا اور اللہ کے نازل کردا فرائض کو سنت کے مطابق ادا کرنا۔حق تقتہ، جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔

اللہ کا ڈر اور اللہ سے ڈرنے کا حق، یہ کیا ہے ؟ اس کو ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ آپ اپنے اردگرد دیکھیے آپ کا کوئی بزرگ کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور ڈاکٹر اسے ایک لمبی فہرست دواؤں کی دیتا ہے اور ساتھ ہی ایک فہرست بھی پکڑائی جاتی ہے کہ یہ وہ حلال چیزیں ہیں جو آپ نے نہیں کھانی کیونکہ ان تمام چیزوں سے آپ کی جان کو خطرہ ہے۔ یقین مانیے مریض اپنے آپ کو ان تمام حلال چیزوں سے بھی دور کر لے گا۔

اب آئیے رب کے اس فرمان کی طرف، "اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ جیسے اللہ سے ڈرنے کا حق ہے۔ " مگر ذرا غور کیجیے، رب نے بھی ہمیں حکم دیا خبردار میرے بتلائے ہوئے راستے پر چلنا اور شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا۔ تو کیا ہم اللہ کے حکم کو مانتے ہیں؟ جبکہ اللہ نے ہم کو چیک کرنے کے لیے نگران مقرر کیے ہوئے ہیں جو ہمارے پل پل کو نوٹ کر رہے ہیں اور اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہے مگر ہم رکتے نہیں۔ یہاں جو رک گیا وہی اصل میں ڈر گیا اور یہی تقویٰ ہے۔

تقویٰ کا اصل امتحان جب ہوتا ہے جب انسان تنہا ہوتا ہے۔ یہ موبائل ہی دیکھ لیں، جب آپ تنہائی میں اس پر انٹرنیٹ استعمال کریں اور آپ کا نفس آپ کو کہے یہ بھی کھول، وہ بھی دیکھ، دنیا جہاں کی برائیوں پر نظر ڈال۔ بس یہی وہ وقت ہے جب آپ اپنے نفس کو شیطان کی پیروی سے روک کر خالص اللہ کے ڈر کی وجہ سے خود کو روک لیتے ہیں۔ یہی اصل میں تقویٰ ہے جس کا حکم اللہ نے اوپر آیت میں کیا ہے کہ اللہ سے ڈر جاؤ، جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔

پھر ولا تموتن الاوانتم مسلمون، اور تمہیں ہر گز موت نہ آئے۔ مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ بندہ مومن پر کوئی لمحہ ایسا نہیں آنا چاہیے جب وہ اللہ کی یاد اور خوف سے غافل ہو کیونکہ موت کے وقت کا کسی کو علم نہیں۔ جب ہمیں موت کا علم نہیں تو پھر یہ غفلت کیوں؟ کیوں ہماری راتیں گناہوں اور غلط امور میں گزر رہی ہیں۔ ذرا سوچیے، رات بھر ہم کوئی گناہ کرتے رہیں اور صبح ہمیں موت آ لے، تو کیا ہم مسلمان کی موت مرے؟ نہیں نا؟ تو پھر ہم کیوں توبہ نہیں کرتے؟ جی ہاں! اس آیت میں مسان مرنے سے مراد موت سے پہلے سچی توبہ ہے۔ اللہ تعالی نے سورة نساء ميں فرمایا "اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (سورۂ نسا، آیت 18)

رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک جب تک اس کی روح گلے تک نہ آن پہنچے۔ (ابن ماجہ 4253)

امام شافعی کے شاگرد ابواسماعیل بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں امام کے پاس ان کی وفات کے دنوں میں ان سے ملاقات کے لیے آیا اور ان سے حال دریافت کیا فرمانے لگے، میری حالت یہ ہے کہ دنیا سے جا رہا ہوں دوست احباب سے بچھڑ رہا ہوں۔ اللہ کے سامنے حاضر ہونے والا ہوں موت کا جام منہ سے لگانے والا ہوں۔ اپنے برے اعمال سے ملاقات کرنے والا ہوں میں نہیں جانتا کہ جنت میں جا رہا ہوں تو خود کو مبارک باد دوں یا دوزخ میں جا رہا ہوں تو اپنے نفس سے تعزیت کروں۔ ( مناقب الشافعی للبیھقی ٢٩٤/٢)

عزیز دوستو! موت كے آنے سے پہلے تائب ہو جاؤ۔ اللہ نے مہلت دی ہوئی ہے، عمر ختم ہو رہی ہے، وقت سمٹتا جا رہا ہے۔ ہر زندہ روح کی انتہا موت ہے کوئی اس سے بھاگ نہیں سکتا / تو پھر دیر کیسی؟ انتظار کس کا؟ گناہوں سے رک جاؤ اپنے دل میں تقوی کو جگہ دو۔ اللہ کے خوف سے دل کو ہر لمحے سمجھاؤ کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور اپنی خواہشات کو کتاب اللہ کی اس آیت کے مطابق ڈھال لو کہ "اے زمین و آسمان کے بنانے والے تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سرپرست ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا دے۔" (سورة يوسف، آیت 101) آمین