کب تک رادھا ناچے گی ؟ - شاہد یوسف خان

جے آئی ٹی رپورٹ میں کافی حد تک احتیاط برتی گئی ہے اور ملزمان اور حاکم وقت کو براہ راست مجرم نہیں بنایا گیا بلکہ احتیاط اور لحاظ والا معاملہ کیا گیا ہے فیصلے سے پہلے قانونی ماہرین، تجزیہ کار تو یہی باور کرانے کی کوشش کرا رہے ہیں کہ میاں صاحب بمعہ اہل و عیال اس معاملے میں مجرم ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میاں صاحب کے اہلیان نے کافی حد تک ثبوتوں میں غلط بیانی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب عدالت کو چاہیے کہ جلدی سے کاغذ قلم اٹھائے اور مختصر سا ایک تاریخی فیصلہ صادر فرما دینا چاہیے۔ یاد رکھیے کوئی بھونچال نہیں آنے والا، جتنے بھونچال آنے تھے وہ آ چکے ہیں اور قوم اپنے اپنے نصیب کے دھکے کھا چکی ہیں یعنی مارشل لاء بھگت چکی ہے اور قربانیاں بھی دے چکی ہے، بچوں کے جسم بھی بموں میں اڑوا چکی ہے، روس کو بھی شکست دینے کی تاریخ رقم ہوچکی ہے، بھارت سے بھی ٹکرا چکی ہے،، بھارت سے جنگ جیت بھی چکی ہے اور ہار بھی چکی ہے، کرکٹ ورلڈ کپ بھی جیت ہار چکی ہے، فوجیوں کے دور بھگتنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے سارے لوازمات چکھ چکی ہے۔ ستر سالوں میں کوئی تو فیصلہ ہونا چاہیے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں احتسابی عمل جاری و ساری ہے اب تین روز پہلے ہی ایک خبر پڑھی تھی کہ جنوبی کوریا کوریا کی سابق صدر Park Geun-hye کو کرپشن میں جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ خبر پاکستان کے لیے ہوتی تو کتنا اچھا تھا لیکن یہاں کے سابق صدر اور متعدد وزیراعظم بغیر حق حساب دیے عالم برزخ میں چلے گئے ہیں یا پھر عالم کے دوسرے پرتعیش اور پرسکون ممالک میں۔ خیر عالم برزخ والوں کا تو کوئی حال احوال نہیں دیتا لیکن ان دوسرے عالمی ممالک میں جانے والے مار کاٹ پچھاڑ کے بھی کبھی ٹھمکے لگاتے نظر آتے ہیں تو کبھی رقص کرتے۔ پھر وہیں سے بیٹھ کر ملک کی زبانی خیر خواہی کرتے رہتے ہیں ھالانکہ جائیدادیں، مال اولاد سب ساتھ اٹھا کے لے گئے اور یہاں بھی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سامان جمع کر گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

میں تو کہتا ہوں قبروں والوں سے بھی پوچھا جاتا کہ بھائی یہ لوٹ مار کر کے اچھے اعمال اور جائیداد اپنی اولادوں کے حوالے کر گئے ہو اور برے اعمال قوم کے کھاتے میں ڈال گئے ہو اس کو تو حساب دو۔ لیکن کون پوچھے اب تو ان کی بھی خیر خواہی کی دعائیں کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کیوں دعائیں کریں؟ نہیں کرتے، نہ ان کو نہ ان کی نسلوں کو۔ اگر وہ نسلیں اپنے آباء کی اتنی ہی خیر خواہ ہیں اور قبر و آخرت کی فکر میں ہیں تو ان کی طرف کمائی جانے والی سارا لوٹ مار کا سامان جنہیں مال غنیمت سمجھ کے رکھ لیا ہے وہ خیرات کردو یا قومی خزانے میں دے دو۔ قبروں پر خالی پتیاں بچھانے اور پھول گرانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اعمال وہی جو کر گئے کام آئیں گے۔

میاں صاحب کو خدا نے تیسری مرتبہ ریاست کی بادشاہی عطا فرمائی لیکن وزیراعظم اس مرتبہ تو حضرت وزیراعظم بن گئے۔ ریوڑیاں بھی اپنوں کو بانٹ دیں، بنیادی حقوق بھی لاہور میں تقسیم کردیے، نوجوانوں کو روزگار دینے کی بجائے لیپ ٹاپ اور قرضے پر گاڑیاں دے دیں اور انہیں مزید مقروض کردیا گیا۔ مشرف کو پکڑ لیتے تو یقیناً گزشتہ جمہوری حکومت کے مایہ ناز مہان کرپشدان اربوں کی دولت لوٹ کر آزادی کے مزے نہ لے رہے ہوتے۔ اجی حضور مان لیجیے چھوٹی موٹی نہیں بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اس بار بھی ورنہ جو پانامہ کئی سال زیر زمین رہا وہ منظر عام پر کبھی نہ آتا۔ پھنسنے سے پہلے بھی اپنا گریبان جھانکیے اور خود سے احتساب شروع کیجیے ورنہ بادشاہی بھی خراب اور نسلوں کا مسقبل بھی داغدار ہوجائے گا۔ سنا ہے کہ آپ بھی مغلوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو جناب اپنے خاندان کے کئی سالوں کا عروج اور زوال تو آپ کے لیے سبق ہونا چاہیے تھا۔ دنیا میں تو یقینی طور پر لوگ اپنی تاریخوں سے سبق سیکھتے ہیں لیکن ہمارے جج، جرنیل، حکام، صاحب اقتدار اور صاحب اختیار سیکھنے کی بجائے کمانے کے چکر میں رہتے ہیں پھر یہ ہوتا ہے کہ آخری سانسوں میں توبہ کا دعوی کرتے ہیں اب پتہ نہی وہ توبہ خدا کے ہاں قبول ہوتی بھی ہے کہ نہیں جو حقوق العباد کو چھوڑ کر حقوق المال کو فوقیت دیتے رہیں۔ قوم سراپا سوال ہے کہ کہ کب تک رادھا ناچے گی اور کب تک عدالت فیصلہ دے گی؟