انصاف نہ مل سکا جسے انصاف کی عدالت سے - محمد ریاض علیمی

کسی بھی ملک کی سلامتی، استحکام اور امن کے قیام کے لیے عدالتی نظام کا فعال ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جرائم کی شرح میں کمی اسی وقت واقع ہوسکتی ہے جب عدالت نہایت سرعت کے ساتھ ظالموں کو سزا دے اور مظلوموں کو انصاف دلائے۔ اس کے برعکس اگر کسی ملک میں عدالتی نظام سست روی کا شکار ہوگا تو اس سے ملک میں پھیلنے والی بدامتی، انارکی اور انتشار کو نہیں روکا جاسکے گا۔عدالتی ادارے ملک کی بقا کے اہم ستون ہوتے ہیں۔ پاکستان میں عدالتی نظام پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنے میں کوئی شش و پنج نہیں ہوتا کہ عدالتی نظام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ بعض حضرات تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ پاکستانی عدالت میں اپیل کرنے کے بعد انصاف حاصل کرنے کے لیے عمر خضر اور صبر ایوب چاہیے ہوتا ہے۔ ایسے متعدد واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جن کو دیکھ کر اور پڑھ کر دل لرزنے لگ جاتا ہے۔

وطن عزیز میں عدالتی نظام کی حالت اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ غریب عوام کی رسائی بہت مشکل بلکہ ناممکن بن چکی ہے۔ عدالت میں دائر ہونے والے کیس بریف کیس کی نظر ہوجاتے ہیں۔ کئی سال تک کیس کا معاملہ معلق رہتا ہے۔ اس کی مثال اگر دیکھنی ہو تو جیلوں میں بے بنیاد الزاموں میں پھنسے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے کئی کئی سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں لیکن انصاف کا دروازہ انصاف مانگنے والے کے مرنے کے بعد یا اس کی زندگی کے کئی سال گزارنے کے بعد کھلتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں تا ریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔

1997ء کی بات ہے کہ پنجاب کے علاقے ڈھوک علی حیدر میں محمد اسماعیل نامی شخص کا قتل ہوا، جس کی ایف آئی آر مئی 1997ء میں سہالہ پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں ملزم مظہر حسین کے خلاف درج ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج چوہدری اسد رضا نے ملزم مظہر حسین کو سزائے موت سنادی۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تو ملزم مظہر حسین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ لیکن وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ بالآخر مظہر حسین قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا۔ اکتوبر 2016ء میں عدالت عظمی نے انیس سال سے سزائے موت کی قید کاٹنے والے ملزم مظہر حسین کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر باعزت بری کردیا۔ جب بری کیا تو معلوم ہوا کہ ملزم مظہر حسین دو سال قبل جان لیوا بیماریوں اوراذیت ناک انتظار کے سببب ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔ جب مرحوم کی با عزت رہائی کی ’’انتہائی افسوس ناک خبر ‘‘ اس کے گھر والوں کو ملی ہوگی تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ کیا عدالتی نظام اس حال تک نہیں پہنچ گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں انصاف کا طالب ہو تو وہ انصاف ملنے تک دوسری دنیا میں پہنچ چکا ہو؟ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے جسے محض اتفاق کہہ کر جان چھڑالی جائے۔ ایسے بیسیوں واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ ملا حظہ کیا جاسکتا ہے کہ 2008ء میں بھیرہ میں ایک شہری کے قتل کے الزام میں سید رسول کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ اسی الزام میں اسے شاہ پور جیل میں قید کردیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے سید رسول کو2013ء میں قتل کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف 2013ء میں ہی سید رسول نے اپیل دائر کی تھی۔ لیکن اس کی اپیل کی سماعت کا فی عرصہ بعد ہوئی۔ اس عرصہ میں وہ جیل میں ہی رہا۔ یہاں تک کہ 2016ء میں جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے ناقص شہادتوں کی بنیاد پر بے گناہ قیدی سید رسول کی بریت کا فیصلہ سنایا۔لیکن بد قسمتی یہ تھی کہ سید رسول 2014ء میں قید کے دوران ہی دل کا دورہ پڑنے انتقال کرچکا تھا۔ یعنی سید رسول کو انصاف اس وقت ملا جب اس کو مرے ہوئے بھی دو سال گزر چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   انصاف نایاب کیوں؟ - عابد رحمت

یہ دوواقعات ہی دل دہلانے کے لیے کافی ہیں لیکن عدالتی نظام کی سست روی غیر ذمہ داری کے مزید کئی واقعات ہیں۔ عدالت کی تاریخ میں ایسا بھی ہواہے کہ ایک شخص کی رہائی کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی اسے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ لیکن جب اس کے کیس کی سماعت ہوئی تو اسے بری کرنے کا فیصلہ سنادیا گیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو پہلے ہی پھانسی پر لٹکا دیاگیا ہے۔ 2 فروری 2002ء کی بات ہے کہ ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے تھانہ صدر میں قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی جس میں غلام قادر اور غلام سرور پر الزام تھا کہ انہوں نے دیگر ساتھیوں سے مل کر عبدالقادر اور اس کے بیٹے اکمل کو قتل کیا۔ اور بعد میں اپنی بیٹی سلمیٰ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد ٹرائل کوٹ نے ان دونوں کو تین تین بار سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں فل بینچ نے 6اکتوبرکو مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات میں تضادات کی بناء پر غلام قادر اور غلام سرور کو بری کردیا مگر پتہ چلا کہ ان دو افراد کو 13 اکتوبر 2015ء کو ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان میں پھانسی دیدی گئی تھی۔ غلام قادر اور غلام سرور اپنی رہائی کا فیصلہ سننے کے لیے دنیا میں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ بھی ہے کہ ایک شخص کو پندرہ سال قید میں رکھنے کے بعد باعزت بری کردیا گیا۔ 2001 ء میں منڈی بہاء الدین کے دو شہری فلک شیر اور قمر عباس کو دو افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ مقدمہ چلا تو ٹرائل کورٹ نے دونوں کو سزائے موت دی سنا دی تھی اور ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا بحال رکھی تھی۔دونوں افراد قیدی بن کر پندرہ سال سے اپنے روزو شب کاٹ رہے تھے۔ بالآخر جب انصاف کی بالادستی ہوئی تو 15 سال کے بعد سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سزائے موت کے ملزمان فلک شیر اور قمر عباس کو بری کردیا۔ایک اور مثال موجود ہے جس میں ایک ملزم گیارہ سال بے گناہ قید میں رکھا گیا، اس کے بعد باعزت بری کردیاگیا۔2005ء میں منڈی بہاء الدین کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے منڈی بہاء الدین کے ایک گاؤں میں ایک شخص دوست محمدکو قتل کرنے کے جرم میں محمد رانا کو سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم بعد ازاں 13 اپریل 2011ء کو لاہور ہائی کورٹ نے محمد رانا کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ رانا محمد جیل میں اپنی زندگی کے گیا رہ سال گزار چکا تھا۔ اس کے بعد ۲۰۱۶ء میںجسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے محمد رانا کے خلاف ثبو توں میں تضاد پائے جانے اور ٹھوس استغاثہ نہ ہونے کے باعث، ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   قاضی کے فرائض و اختیارات - جویریہ عشرت

درج بالا واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام کتنا سست روی کا شکار ہے۔ اگر کسی امیر زادے کے خلاف کرپشن کے الزامات ہوں اور وہ کیس عدالت کے پاس ہو تو معزز عدالت اس کے خلاف بھی کوئی فیصلہ نہیں سناتی۔ اسی طرح اگر کسی غریب کا حق مارا گیا ہو تو اس کو انصاف بھی نہیں دلاتی۔ یہ سوال قارئین پر چھوڑا جاتا ہے کہ عدالت کرتی کیا ہے؟ اس ضمن میں پاناما کیس کا معاملہ بھی دیکھا جاسکتا ہے اسے کتنے عرصہ تک لٹکایا گیا لیکن ابھی بھی فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ کیا یہ عدالتی حکام کی غیر ذمہ داری نہیں ؟ جب عدالت میں ہی انصاف کی پاسداری نہیں ہے تو عدالتی نظام کس کام کے لیے ہے؟