قادیانیت ایک نظر میں - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

نام: مرزا غلام امد قادیانی
پیدائش:۱۴ شوال ۱۲۵۰ھ،۱۳ فروری۱۸۴۰ء
خاندان:مغل برلاس،دعویٰ الہامی طور پر فارسی النسل ہونے کاہے۔
والد کانام:مرزا غلام مرتضیٰ بن مرزا عطا محمد۔
والدہ کا نام:چراغ بی بی۔
اساتذہ: گل علی شاہ بٹالوی(شیعہ)سے نحو و منطق،فضل الہٰی حنفی سے فارسی و قرآن اورفضل احمد وہابی سے عربی پڑھی۔
پہلی شادی:۱۵ سال کی عمر میں ماموں کی بیٹی مرزا جمعیت بیگ کی بیٹی حرمت بی بی سے ہوئی۔
۱۸۷۲ء سے اخبارات میں دوسروں کے نام سے مضامین لکھنا شروع کیے ۔
۱۸۷۶ء سے ‘براہین احمدیہ’ شروع کی اور ۱۸۷۹ء میں اسے مکمل کیا۔
۱۸۸۲ء ماموریت کا پہلا سال
۱۳۰۱ھ میں لدھیانہ کے علماء مولانا عبد العزیز،مولانا عبد اللہ اور مولانا محمد نے سب سے پہلے براہین احمدیہ میں درج کفریہ عقائد کی وجہ سے تکفیر کا فتویٰ دیا۔اس کے بعد مولانا غلام دستگیر قصوری نے تکفیر کی۔
۱۸۸۴ء میں سید میر ناصر نواب کی بیٹی نصرت جہاں بیگم سے نکاح کیا جسے خدیجہ اور ام المؤمنین کہا گیا۔پہلی بیوی کو طلاق دے دی۔
۱۸۸۵ء میں مجدد ہونے کا اعلان کیا۔
۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء میں بیعت اولیٰ کی گئی اور اسی تاریخ کو جماعت احمدیہ کا قیام معرض وجود میں آیا۔
۱۸۹۰ء میں امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
۱۸۹۰ء-۱۸۹۱ء میں وفات مسیح علیہ السلام کا اعلان کیا اور خود کو مسیح موعود قرار دیا۔
۱۸۹۱ء میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے ۱۵۰ صفحات پر مشتمل فتویٰ تکفیر لکھا جس کی تصدیق ہندوستان کے اکابر علماء نے کی۔
۱۹۰۰ء میں جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔
۱۹۰۰ء حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمہ اللہ کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج دیا اور وقت مقرر پر لاہور نہیں پہنچے۔پیر صاحب کی قیادت میں تمام علمائے اسلام نے مرزا کی تکفیر پر اتفاق کیا۔
۱۹۰۰ء غیر قادیانی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام قراردیا۔
۱۹۰۱ءتعریف نبوت میں تبدیلی کا اعلان کیا اور خود کو صراحتاً صحیح معنوں میں نبی قرار دینے لگے۔اعلان کیا کہ نفس نبوت کے لحاظ سے مرزامیں اور دوسرے انبیاء میں کچھ فرق نہیں۔(نعوذباللہ)
۱۹۰۵ء میں بہشتی مقبرہ کا قیام عمل میں آیا اورصدر انجمن احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔
۱۹۰۷ء میں وقف زندگی کی پہلی منظم تحریک کا آغاز کیا۔
۱۹۰۷ء میں مرزا کی زندگی کا آخری سالانہ جلسہ منعقد کیا گیا۔
۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام نے مرزا کے پبلک لیکچر کی خبر دیتے ہوئے یہ خبر شائع کی کہ مرزا نے اپنی نبوت سے انکار کیا ہے۔مرزا نے جواباً کہا :میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔
آخری تقریر میں کہاعیسیٰ کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسیٰ موسوی کی بجائے عیسیٰ محمدی آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔
موت:اسہال کے مرض میں ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں واقع ہوئی۔لاش کو لاہور سے قادیان لایا گیا۔
مولوی نور الدین کو خلیفہ منتخب کیا گیا ۔اس نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں مرزا کودفن کر دیا گیا۔
مرزا کی کتب:
۱۔روحانی خزائن:۲۳ جلدیں،تعداد کتب:۸۳،صفحات :گیارہ ہزار
۲۔ملفوظات:۵ جلدیں
۳۔مجموعہ اشتہارات:۳ جلدیں
۴۔مکتوبات احمد :۷ جلدیں
خلافت احمدیہ
پہلا خلیفہ:حکیم نور الدین بھیروی
پیدائش:۱۸۴۱ء
موت:۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء
دوسرا خلیفہ:مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی
پیدائش:۱۲ جنوری ۱۸۸۰ء
منصب خلافت:۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء
موت:۸ نومبر ۱۹۶۵ء
تیسرا خلیفہ:حافظ مرزا ناصر احمد بن مرزا بشیر الدین محمود احمد
پیدائش: ۱۶ نومبر ۱۹۰۹ء
منصب خلافت:۸ نومبر ۱۹۶۵ء
موت:۹ جون ۱۹۸۲ء
چوتھا خلیفہ:مرزا طاہر احمد بن مرزا بشیر الدین محمو د
پیدائش : ۱۸ دسمبر ۱۹۲۸ء
منصب خلافت ۱۰ جون ۱۹۸۲ء
موت:۱۹ اپریل ۲۰۰۳ء (کراچی کے مبلغ الیاس ستار صاحب سے مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوا۔)
پانچواں خلیفہ:مرزا مسرور احمدبن مرزا منصور احمد
پیدائش:۱۵ ستمبر ۱۹۵۰ء
مرزا غلام احمد قادیانی کا پڑ پوتا،مرزا شریف احمد کا پوتا اور مرزا بشیر الدین محمود کا نواسہ
منصب خلافت:۲۲ اپریل ۲۰۰۳ء تا حال

جماعت احمدیہ اور لاہوری قادیانیوں میں فرق
لاہوری احمدیوں کو غیر مبائعین اورپیغامی جماعت بھی کہا جا تا ہے۔خلیفہ اول کے بعد مولوی محمد علی،خواجہ کمال الدین اور مولوی صدر الدین نے مرزا بشیر الدین کو خلیفہ ماننے سے انکار کر دیا اور اس طرح جماعت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
پہلا اختلاف:لاہوری جماعت کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کی جانشین صدر انجمن احمدیہ ہے نہ کہ شخصی خلافت۔
دوسرا اختلاف:لاہوری احمدی مرزا قادیانی کو صرف مجدد،امام مہدی اور مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں مگر منصب نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔
تیسرا اختلاف: لاہوری جماعت کے نزدیک مرزا پر ایمان لانا یا بیعت کرنا ضروری نہیں کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔
چوتھا اختلاف:لاہوری جماعت کے نزدیک مصلح موعود کی پیش گوئی مرزا بشیر الدین محمود کی صورت میں پوری نہیں ہوئی۔ان کے نزدیک اس پیش گوئی کا مصداق پسر موعود آئندہ کسی زمانہ میں پیدا ہوگا۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */