آہ! جنید احمد آخون - ابراہیم جمال بٹ

”معاوضہ نہیں انصاف چاہیے،“ یہ وہ الفاظ ہیں جو 12 برس کے ایک معصوم بچے کے والدین اپنی اولاد کی جدائی کے غم میں مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ضلع میں بار بار دہرا رہے ہیں۔ یہ بچہ جسے مقبوضہ کشمیر کے سعد پورہ عیدگاہ سرینگر میں اپنے ہی گھر کے صحن میں بھارتی فوجیوں نے پیلٹ بندوق کے چھروں سے چھلنی کر شہید کر دیا گیا تھا۔اس کی والدہ اپنے لخت جگر کی جدائی میں اس قدر دیوانی ہوگئی کہ بار بار سمجھانے کے باوجود ہوش و حواس کھو بیٹھتی ہے۔ ساتویں جماعت کا یہ طالب علم وکمسن بچہ ”جنید احمد آخون ولد غلام محمد ساکن “ پیلٹ کے چھرے لگنے کی وجہ سے اس قدر زخمی ہوگیا تھا کہ دوبارہ جاں بر نہ ہو سکا۔سرینگر کے مشہور ومعروف اسپتال صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کئی گھنٹوں تک زندگی اور موت کے درمیان کشمکش کے بعد آخر دوران شب ہی معصوم جنید کی روح پرواز کرگئی۔

تین بہنوں کا یہ اکلوتا اور لاڈلا بھائی ”جنید“ نہ صرف ذہین اور قابل طالب علم تھا بلکہ اہل علاقہ اور اسکول کے مدرّسین کو اپنے اس نونہال پر فخر بھی تھا۔رشتہ داروں کے مطابق ”جنید“ ایک صالح بچے کے علاوہ فرماں بردار بیٹا بھی تھا اور ہر سال اسکول میں امتیازی پوزیشن بھی لاتا تھا۔ یہ وہی بچہ تھا جس کے ہاتھ میں نہ کوئی پتھر تھا اور نہ ہی کسی قسم کا بندوق وغیرہ، ٹافی اور مٹھائی کھانے کا شوقین ایک سیدھا سادھا اور ذہین بچہ تھا.... ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے ہاتھ میں موجود قلم کو کس طرح صحیح استعمال کیا جاتا ہے اسے سمجھایا جاتا لیکن وائے افسوس ان نادانوں اور اپنے آپ کو ”سرکھشا بل “ کہنے والوں پر، جنہوں نے اس بے گناہ اور معصوم بچے پر اپنی طاقت کا استعمال کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا۔

جنید آخون کا والد غلام محمد پیشہ سے پشمینہ ساز ہے اور جنید اس کی تین بیٹیوں کے بعد بڑی دُعاؤں اور منتوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کم عمر طالب علم کی نعش جب گھر میں اس کی والدہ کے سامنے پہنچاکر رکھی گئی تو جنید کی والدہ جیسے پاگل ہی ہوگئی۔ جنید جنید کرتے ہوئے بیٹے کی میت سے چمٹ گئی۔ کبھی پیشانی کو تو کبھی چہرے اور کھبی منہ کو بوسہ دینے لگی اور اپنے کمسن پھول کو مرجھائے دیکھ کر زار و قطار آنسو بہا تے بہاتے بے ہوش ہو گئی۔ دراصل ماں نے کبھی اس صورت میں اپنے لاڈلے کو دیکھا ہی نہ تھا.... تاہم جب ہنستے کھیلتے اس بچے کی یہ صورت اور یہ انداز سامنے آیا تو اس کی والدہ اسے ایسے دیکھ رہی تھی کہ جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو، شاید اس کے دل میں یہ کسک تھی کہ اب اپنے لخت جگر کو دوبار کبھی دیکھ نہیں پاسکے گی۔ ماں کی ممتا ،باپ کے پیاراور تین بہنوں کا لاڈ لے پن میں جنید پلا بڑھا تھا.... صبح سویرے سکول جاتے ہوئے.... ماں کی ممتا ملتی تھی.... باپ کا پیار اور بہنوں کی لاڈ نصیب ہوتا تھا لیکن اب یہی ممتا، پیار اور لاڈلے پن سے پلا ہوا معصوم بچہ جس کی قمیص پر اگر ایک چھوٹا سے داغ بھی لگ جاتا تو والدین اور بہنیں برداشت نہ کرپاتی تھیں.... آج یہی بچہ منوں زمین کے نیچے آرام فرما ہے.... وہ زمین جس پر اگر کبھی اچانک اس بچے کو ٹھوکر لگتی تو والدین اور بہنیں دوڑ دوڑ کر اسے اُٹھا لیتی تھیں.... اس کے ہاتھ پاؤں جھاڑ لیتی تھی.... آج یہی بچہ زمین کے نیچے اس قدر سویا ہوا ہے کہ جیسے اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہیں.... ماں کی ممتا سے دور.... باپ کے پیار سے دور.... بہنوں کے لاڈ سے دور.... ایسے باغوں میں گھوم پھر رہا ہے کہ جس کا اندازہ کرنا ہی مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کھڑے ہوئے ہیں- حبیب الرحمن

جب معصوم جنید کی نعش اٹھانے کا وقت آیا تو اس کی ماں آہ وزاری کر رہی تھی کہ ”میرے جنید کو مجھ سے الگ نہ کرو۔“ ”میتی ترائیوں میانس مہرازس سئتی قبرئِ منز‘‘ (ترجمہ:”مجھے بھی میرے دلہے بیٹے کے ساتھ سپرد لحد کرو۔“) ہر سو رنج والم کا ماحول تھا ۔ جنید کی ماں نے اپنے لاڈلے اور ننھے دلہے کی نعش کو مزار شہدا عیدگاہ سرینگر کے بجائے آبائی قبرستان میں ہی سپرد لحد کرنے کی خواہش ظاہر کی،جس کو پورا بھی کیا گیا۔لوگ جب اس کی نعش کو اپنے آبائی قبرستان لے جا رہے تھے تو نام نہاد”سرکھشا“ اور ”پولیس“ والے شرم اور اپنے کئے ہوئے اس گناہ کو ایک بار پھر بھول کر ایسی حرکت کر بیٹھے کہ کلیجہ منہ کو آتاہے.... نعش کو لے جانے والے غمزدہ لواحقین اور لوگوں پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کیا گیا.... حتیٰ کہ نعش کو بیچ سڑک پر ہی چھوڑ کر لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا پڑا۔ آخر کار کچھ وقت گزارنے کے بعد لوگوں نے بیچ سڑک پر گری نعش کو اٹھا کر دوسرا راستہ اختیار کر کے اسے اپنے آخری گھر کی جانب روانہ کر دیا۔ یوں یہ جنازہ اٹھا.... ہر سو ہو کا عالم تھا.... ہر طرف ماتم ہی ماتم.... ہر زبان پر ایک ہی بات کہ ”ننھے جنید تجھے سلام.... ننھے جنید تجھے سلام“۔

غلام محمد اپنے معصوم بیٹے جنید احمد کے قتل ناحق کے بدلے عدلیہ سے بس یہی سوال کرتے پھرتے ہیں کہ مجھے انصاف چاہیے.... مجھے کوئی معاوضہ نہیں بلکہ انصاف چاہیے۔ وہ بار بار یہی بات دہرا رہا ہے کہ ”مقبوضہ جموں وکشمیر کی نام نہاد اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی لاشوں پر سیاست کر رہی ہیں، انہیں چاہیے کہ اب ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں پر رحم کرے “۔

آج اس واقعہ کو ایک سال گزرنے کے باوجود ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گویا کل کی بات ہو۔ معصوم جنید کا چہرہ ابھی بھی سکول وردی میں سامنے آرہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ شاید یہ حقیقی نہیں تھا بلکہ یہ ایک خیالی واقعہ تھا، لیکن کیا کہیں جب یہاں ایسے واقعات ہر دو روز بعد رونما ہو رہے ہیں تو اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ خیالی دکھنے والے واقعات کا حقیقی چہرہ سامنے آتے ہیں۔ اُف خدایا اب ہم پر رحم فرما.... بھارت کے ظلم وجبرسے نجات دے کر آزادی کی طلوع نصیب فرما.... قابض بھارت کو یا تو صحیح سوچ عطا فرما یا انہیں نیست ونابود کر۔ شہدائے کشمیر کے درجات بلند فرما اور لواحقین کو صبر جمیل اور حوصلہ عظیم عطا فرما۔آمین یا رب العالمین!