نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا غلط استعمال - محمد ایاز

دنیا میں اس وقت 240 سے زیادہ مملکتیں ہیں، جن میں سے 195 ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں۔ ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا یہ سب ممالک اپنی خارجہ و داخلہ پالیسوں کی تشکیل میں ہر قسم کے بیرونی دباؤ سے آزاد ہیں؟ کیا ان سب کواپنے اپنے دستور کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے؟ اگر نہیں تو پھر کون ہے جس نے ان کے بنیادی حقوق کو سلب کر رکھا ہے؟ آخر کار ان کے ہاتھ میں ایسی کون سی چیز ہے، کیسی جادوئی چھڑی ہے جس کی وجہ سے وہ غالب ہیں؟ کیا دوسرے ممالک کا اس جادوئی چھڑی کو ہاتھ لگانا حرام ہے؟

وہ جادوئی چھڑی جوہری ہتھیارہیں اور جن ممالک کے پاس ہیں ان میں امریکہ،روس،برطانیہ، فرانس اور چین سر فہرست ہیں جبکہ بھارت اور پاکستان بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو جوہری طاقت ہونے کا اعتراف کرتے ہیں جن دیگر ممالک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس بھی جوہری ہتھیار موجود ہیں ان میں شمالی اور اسرائیل شامل ہیں۔

نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا بطور ہتھیار استعمال سب سے پہلے امریکہ نے کیا تھا۔ 16 جولائی 1945ء کو امریکہ نے پہلا جوہری تجربہ کیا اورتین ہفتے بعد 6 اگست1945ء کو جاپان کے شہرہیروشیما پر ایٹم بم گرا یا جس میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ لوگ مارےگئے۔ یہی نہیں بلکہ تین دن بعد جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی میں بھی اس ایک اور خوفناک حملہ کیا گیا۔ جس میں مزید 80 ہزار لوگ مارے گئے۔ امریکہ کے بعدجلد ہی سوویت یونین اور برطانیہ نے بھی جوہری ہتھیار کے تجربے کئے، اس دوڑ میں فرانس بھی پیچھے نہیں رہا اور 1960ء میں جوہری تجربہ کردیا۔ فرانس کے چار سال بعد چین بھی اس صف میں کھڑا ہوگیا۔ بھارت نے جب 11 مئی 1998ء کو ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا تو اسی مہینے کی 28 تاریخ کو پاکستان نے بھی کامیاب تجربات کے ساتھ 'ایٹمی کلب' میں قدم رکھا۔

جوہری ہتھیاروں کے حصول کے رحجان کو دیکھتے ہوئے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے بطور ہتھیار استعمال کرنے پر پابندیاں لگنے لگیں۔ اس مد میں مختلف معاہدے ہوئے جن میں " جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ "(Non-Proliferation Treatyیا مختصراًNPT) کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ وتیاری کو روکنا اور ممالک کو جزوی ومکمل طور پر جوہری اسلحے سے دستبردار کرنا اور جوہری توانائی کے پر امن استعمال کو فروغ دینا ہے۔ 191 ممالک اس معاہدےکے رکن ہیں لیکن پاکستان اور بھارت نے اب تک اس پر دستخط نہیں کیے۔

دراصل نیوکلیئر ٹیکنالوجی وہ جادوئی چھڑی ہے جس کو ہاتھ لگانے سے دوسرے ملکوں کو روکا جا رہا ہے۔ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ تمام ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر پابندی لگتی، لیکن اب زور صرف نئے ملکوں پر ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے حامل بڑے ممالک اپنے سیاسی مفادات کے لیے دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ ان کی خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، خود مختاری کا مذاق اڑاتے ہیں اور حسب استطاعت اپنے اپنے دائرے میں مختار کل بنے ہوئے ہیں۔ وہ ممالک جن کے پاس یہ طاقت نہیں، وہ خود کو ان کے شر سے بچنے کے لیے خاموشی ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ مصلحت کی خاطر اپنے مفادات کو قربان کرتے ہیں۔

اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین وہی ہیں جنہوں سے سب سے پہلے ایٹمی طاقت حاصل کی۔ دنیا بھر میں اہم فیصلوں پر یہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے محاورے کی لاٹھی ان کے ہاتھ میں ہے، اور پوری دنیا ان کے سامنے بھینس بنی ہوئي ہے۔