مکّہ اور روم ایک دوسرے کے ثقافتی رقیب - تزئین حسن

"رومی مغلوب ہوگئے قریب کی سرزمین میں، عنقریب وہ پھر غالب آئیں گے… اور وہ دن ہوگا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان بھی خوشیاں منائیں گے"

قرآن پاک کی سورۂ روم ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اشارہ اس دور کی دو سپر پاورز روم اور فارس کے مابین ہونیوالی جنگ کی طرف ہے۔ یہ مکّی دور تھا اور مسلمانوں کی ہمدردیاں آتش پرست فارس کے مقابلے میں مسیحی اہل روم کے ساتھ تھیں جو اہل کتاب کہلاتے تھے۔ یہ وہ سال تھا جب قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں مسلمانوں کو حبشہ کی عیسائی ریاست میں ہجرت کرنا پڑی تھی۔ مشرکین مکّہ کا کہنا تھا کہ جس طرح آتش پرستوں نے اللہ کے ماننے والے مسیحیوں پر فتح پائی ہے، اس طرح ہم بت پرست بھی تمہارے دین کو مٹا دیں گے۔

ان حالت میں قرآن مجید یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ عنقریب رومی پھر غالب آ جائیں گے اور مسلمانوں کو بھی اس وقت فتح نصیب ہو گی۔ ان دونوں پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے بظاہر کوئی آثار نہیں تھے۔ ان آیات کا کفار مکّہ نے خوب مذاق اڑایا، ابی بن خلف نے حضرت ابو بکرؓ سے شرط لگائی کہ اگر رومی تین سال کے عرصے میں غالب آ گئے تو میں تمہیں دس اونٹ دوں گا ورنہ تم مجھے دس اونٹ دو گے۔ یہ جوئے کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اس شرط کا علم ہوا تو انھوں نے کہا کہ "بضع" دس سال سے کم عرصے کو کہتے ہیں لہٰذا تم دس سال کی شرط لگاؤ اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر 100 کر لو۔ سن624ء میں رومی دوبارہ اہل فارس پر غالب آ گئے اور خدا کی مشیت سے اسی سال مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی۔

بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ موجودہ اٹلی میں موجود مغربی رومی سلطنت اس واقعہ سے دو صدیوں پہلے زوال پذیر ہو چکی تھی اور قرآن مجید میں جس روم کی طرف اشارہ ہے وہ دراصل مشرقی رومی سلطنت تھی جس کا دارالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) تھا اور جس کے مقبوضات بعثت نبوی ﷺ کے وقت موجودہ شام، فلسطین، لبنان، اردن، مصر، شمالی افریقہ، یونان اور بحیرۂ روم کے جزیروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اٹلی کے شہر روم سے اٹھنے والی اس تہذیب سے مغرب آج بھی اپنا رشتہ جوڑتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ اٹلی کا یہ شہر آسمانی صحیفوں اور تاریخ کے اوراق کے علاوہ ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی بہت مقبول ہے۔ چلئے! آج آپ کو ان صفحات میں روم شہر اور اس کی تہذیب کے لمبے سفر پر لے چلتے ہیں۔

اس شہر کو تقریباً ایک ہزار سال تک اقوام عالم میں وہی مقام حاصل رہا جو آج واشنگٹن کو حاصل ہے۔ کہتے ہیں روم کی تاریخ یورپ کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یورپ کی تاریخ روم کی تاریخ سے وابستہ ہے اور صحیح ترین بات یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ روم کی تاریخ سے منسلک ہے۔ پیٹر آرک کہتا ہے، تاریخ کیا ہے؟ سوائے روم کی تعریف کے (What is history after all but the praise of Rome۔)

ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ اسے مبالغہ کہیں لیکن حقیقت یہ ہے اس شہر سے ابھرنے والی تہذیب نے نہ صرف مغربی اقوام بلکہ تمام عالم پر اپنے اثرات مرتب کیے کہ تاریخ میں بہت کم شہروں کو یہ مقام حاصل ہے۔ ماضی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب تقریباً تمام دنیا مغربی یورپی اقوام کی نو آبادیا ت بن چکی تھی۔ سلطنت برطانیہ کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اسپین کی نو آبادیاں لاطینی اور شمالی امریکہ تک پھیلی ہوئی تھیں، فرانس افریقہ کے بہت سے خطوں کے علاوہ شمالی امریکہ میں کینیڈا تک کے بعض علاقوں پر تسلط رکھتا تھا، پرتگال کی بندر گاہیں بحر ہند کے علاوہ خلیج فارس اور موجودہ سعودی عرب تک موجود تھیں۔

تاریخ کے اوراق ذرا مزید پیچھے پلٹیں تو یہ سب اقوام ایک دور میں سلطنت روما کے زیر تسلط تھیں۔ صرف مغربی یورپ ہی نہیں، بعثت اسلام سے پہلے افریقہ، ایشیا اور عرب کے بھی متعدد علاقے بھی رومی مقبوضات میں شامل تھے۔ دور جدید کے شہر لندن، پیرس، استنبول اور ایک طرح سے قاہرہ کے بانی بھی رومن حکمران ہی تھے۔ یہ بات بھی دلچسپی کا با عث ہوگی کہ موجودہ سعودی عرب کے صوبے مدینہ میں تیسری صدی عیسوی میں رومی افواج کا ایک دستہ مستقل قیام پذیر تھا اور یہ رومی صوبے عریبیہ پیٹریا کا حصہ شمار ہوتا تھا۔

فی الوقت مدینہ کے شمال میں400 کلومیٹر کے فاصلے پر مدائن صالح کے مقام پر سعودی آثار قدیمہ کا محکمہ، مغربی ماہر آثار قدیمہ کے ساتھ رومی فوجی مستقر کی کھدائی میں مصروف ہے۔ رومیوں نے جہاں جہاں حکومت کی، وہاں رومی فن تعمیر کی صورت میں اپنی یادگاریں چھوڑیں، خصوصاً آپ کو روم کے ہر مقبوضہ شہر میں تھیٹر یا اسٹیڈیم ضرور ملے گا۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بیشمار شہروں میں آج بھی رومن تھیٹر رومی سلطنت کے شاندار ماضی کے قصے ملتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر علاقے دور فاروقیؓ میں اسلامی خلافت میں شامل ہوئے۔

کہتے ہیں روم کو دیکھنے کے لیے ایک زندگی کافی نہیں۔ آج بھی روم جانے والا کوئی سیاح اس حسین اور پرشکوہ شہر کی محبت میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شہر کے کونے کونے میں تاریخ کے اوراق تہہ در تہہ بکھرے ہوتے ہیں۔ قبل مسیح کے مندروں میں نشاۃ ثانیہ میں محل تعمیر کیے گئے۔ آج ان میں سے بہت سے محلوں میں حکومت کے انتظامی دفاتر، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور میوزک اسکول قائم ہیں لیکن قدیم عہد تعمیر کی نشانیاں موزائیک اور پانی کی سپلائی کی لائنیں (جو اب بھی مستعمل ہیں) آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں، ایسی کئی عمارات آپ کو روم شہر کے چپے چپے پر نظر آئیں گی۔

قدیم روما کی مختصر تاریخ

رومی دیو مالائی روایتوں کے مطابق روم شہر دیوتا مارس کے بیٹے رومولس نے اپنے بھائی ریموس کو قتل کرکے دریائے ٹبر کے کنارے سات پہاڑوں پر بسایا تھا۔ یہ 753 قبل مسیح کا واقعہ بتایا جاتا ہے، اگرچہ کوئی واضح تاریخی سند موجود نہیں۔ 509 ق م میں یہ رومن جمہوریہ میں تبدیل ہوا جس کی پارلیمنٹ دو منتخب شوراؤں سے تشکیل پائی۔ ایک سینٹ جو امراء پر مشتمل ہوتی اور دوسری سٹی کونسل۔ آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کے اسی ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔

رومیوں نے آہستہ آہستہ جزیرہ نما اٹلی کو فتح کیا، پھر یونان کو شکست دے کر یونان مقدونیہ اور شام کے علاقوں کے ساتھ ساتھ سارے بحیرۂ روم پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ پہلی صدی قبل مسیح میں فرانس، قبرص اور مصر بھی روم کی نو آبادیوں میں شامل ہو گئے۔ جولیس سیزر کے جانشین اوکیٹوین (جو بعد میں آکسٹس سیزر کہلایا) کے زمانے میں جمہوریہ دوبارہ بادشاہت یا سلطنت میں تبدیل ہو گئی۔ تبدیلی کے اس عمل کا آغاز جولیس سیزر کے عہد سے ہی ہو چکا تھا اور اس کا قتل (42 ق م) بھی روم کو بادشاہت سے بچانے کے لیے سینٹ کے امرا نے ہی کیا تھا۔ بعد میں انہی امراء نے اس کے جانشین آگسٹس کو (Chief Executive) کا خطاب یا دوسرے لفظوں میں بادشاہت اختیار کرنے کا مینڈیٹ دیدیا۔ شیکسپیئر نے اپنا شہرہ آفاق ڈرامہ ’جولیس سیزر‘ اسی تاریخی واقعہ پر تصنیف کیا۔

آگسٹس سیزر کے طویل عہد حکومت میں انتھونی اور مصر کی یونانی ملکہ قلوپطرہ کو شکست دے کر مصر کو رومی سلطنت میں شامل کیا گیا۔ انتھونی جو ایک رومی جنرل اور جولیس سیزر کا ہم اثر اور دوست تھا، کے قلوپطرہ سے تعلق اور اس عالمی شہرت یافتہ عشق کے المناک انجام پر بھی شکسپئیر نے ایک ڈرامہ لکھ کر ان تاریخی کرداروں کو امر کر دیا۔ مصر کے رومی سلطنت میں شامل ہونے کے بعد آگسٹس سیزر نے مصری دولت سے روم شہر میں شاندار تعمیرات کرائیں جن میں محلات، مندر، حمام، تھیٹر، پبلک مارکیٹس اور فورم شامل ہیں۔ اسے روم شہر کا سنہرا ترین دور بھی کہا جا سکتا ہے۔

روم کا شہری نظام کتنا ترقی یافتہ تھا، اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ قبل مسیح میں بھی یہاں آگ بجھانے کا محکمہ موجود تھا، جسے پولیس کے اختیارات حاصل تھے۔ بار برداری اور نقل و حمل کے ذرائع کو صرف رات کے وقت سڑکوں پر آنے کی اجازت تھی اور عمارتوں کی اونچائی کی حد باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے طے کی جاتی تھی۔

برطانیہ 47 ء میں رومیوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔ کہتے ہیں، روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا، یہ 64ء کا واقعہ ہے۔ گو نیرو کے بانسری بجانے کی صداقت میں کوئی تاریخی سند موجود نہیں۔ 72ء سے 82ء تک یہاں فلیوین خاندان کی حکومت رہی جب کولوسیم نامی اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ (Colloso) نصب تھا، اسی لیے یہ Colosseum کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔

یہاں گلیڈی ایٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈی ایٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔ اسی طرح معروف فلم بین ہر (Ben-Hur) یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جس کے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔

رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تباہی

چوتھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔

بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔ مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، بار بیرین کے حملوں، اندرونی معاشی مسائل کی وجہ پانچویں صدی عیسوی میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ تاریخ کے اس موڑ کو مورخین ’Fall of The Roman Empire‘کا نام دیتے ہیں۔ اس کے سقوط کے مختلف اسباب بیان کیے جاتے ہیں، لیکن عظیم مفکر اور تاریخ دان گبن (Gibbon) اس کا ایک اہم سبب چرچ کے اقتدار کا غلبہ بتاتا ہے۔

مسلمانوں کی رومی سلطنت پر فتح

ساتویں صدی عیسوی میں دور فاروقیؓ میں سلطنت فارس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی بیشتر رومی مقبوضات بھی اسلامی خلافت کے زیر نگین آ گئیں جن میں موجودہ شام، فلسطین، مصر، لبنان اور اردن شامل ہیں۔ کچھ عرصے میں لیبیا، الجیریا، مراکش، تیونس بھی مسلمانوںنے فتح کرلئے۔ بعد ازاں آنحضرت ﷺ کی ایک بشارت کے مطابق، حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں بحیرۂ روم کے جزیرے قبرس کو بھی فتح کر لیا گیا لیکن قسطنطنیہ کو جو مشرقی رومی سلطنت کا مرکز تھا آ نحضرتﷺ کی بشارت کے باوجود فتح نہ کیا جا سکا۔ بالآخر یہ سعادت پندرہویں صدی میں عثمانوی ترکوں کے حصے میں آئی۔ مگر بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہو گا کہ 846 میں مسلمانوں نے موجودہ روم شہر پر بھی حملہ کیا۔

سسلی پر مسلمانوں کی حکومت

آج لیبیا کے ساحل سے جنگ اور بھوک سے ستائے ہوئے مہاجرین یورپ میں بہتر زندگی کی خواہش لیے اٹلی کا رخ کرتے ہیں لیکن ایک وقت تھا کہ شمالی افریقہ کے مسلمانوں نے جنوبی اٹلی پر متعدد حملے کیے۔ مسلمانوں نے موجود اٹلی کے جزیرے سسلی پر پہلی مرتبہ 652ء میں حضرت عثمانؓ ہی کے دور میں شمالی افریقہ سے یلغار کی اور سسلی سے مسلم حکومت کا سقوط 1090ء میں ہوا۔ ان ساڑھے چار صدیوں کے دوران نہ صرف سسلی سارڈینیا اور کارسیکا نامی جزائر تقریباً دو سو سال تک مسلمانوں کے زیر نگین رہے بلکہ مسلم افواج جنوبی اٹلی کے متعدد علاقوں سے لے کر فرانس اور سوئٹزر لینڈ کے سرحدی علاقوں تک بھی پہنچ گئیں۔ گو بیشتر علاقوں پر ان کے حملے مال غنیمت کے حصول تک ہی محدود تھے لیکن سسلی کے شہر پالرموکا شمار مسلم عہد حکومت میں دنیا کے عظیم ترین شہروں میں ہونے لگا۔

کہا جاتا ہے کہ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں اٹلی کے لومبارڈ نامی قوم کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے ساتھ فوجی مہمات میں شریک رہے۔ انہیں ان کی خدمات کے صلے میں بعد ازاں سسلی میں سقالیبیہ نامی علاقہ عطا کیا گیا۔ قاہرہ شہر اور دنیا کی قدیم ترین ورکنگ یونیورسٹی جامعہ الازہر کے بانی مشہور فاطمی فاتح گوہرالسقیلی کا تعلق بھی سقالیبیہ سے ہی تھا۔ یہ سقالیبیہ کا ایک غلام تھا جسے فاطمی حکمرانوں نے آزاد کرنے کے بعد اس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے کمانڈر کے عہدے تک ترقی دی۔ اس کا شمار اسماعیلی فرقے کی چند بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔

مقدس رومی سلطنت

نویں صدی کی ابتداء میں چرچ اور فرانس کے فرینک خاندان کے اشتراک سے مقدس رومی سلطنت (ہولی رومن ایمپائر) کی بنیاد ڈالی گئی اور روم کو پاپائی ریاست تسلیم کر لیا گیا۔ فرینک بادشاہ شارل میگنے کو مقدس رومی بادشاہ کا تاج پہنا دیا گیا لیکن روم اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل نہ کر سکا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد واحد سپر پاور کی حیثیت سے اسلامی دنیا کا مرکز تھا اور اسلامی دنیاکے متعدد شہر دنیا کی علمی امامت کر رہے تھے اور مشرقی رومی سلطنت ہارون رشید کو اپنی بقا کے لیے خراج دینے پر مجبور تھی۔

صلیبی جنگیں

گیارہویں صدی کے اواخر میں سلجوق ترک حملہ آوروں سے خوفزدہ ہو کر مشرقی رومی سلطنت کے بادشاہ نے پوپ سے عسکری مدد کی درخواست کی۔ مشرق وسطیٰ میں صورتحال کچھ یوں تھی کہ اس وقت عباسی خلیفہ بغداد سے مسلم دنیا کی علامتی سربراہی کر رہے تھے، مصر اور فلسطین پر فاطمیوں کی حکومت تھی جو اسماعیلی فرقے کے ماننے والے تھے، شام اور عراق کے بیشتر علاقوں پر مقامی امیروں کا تسلط تھا مگر آپس کے اختلافات کے باعث یہ سب قوتیں کمزور پڑ چکی تھیں۔ وسط ایشیا سے سلجوق ترک قسطنطنیہ کی رومی حکومت کو آنکھیں دکھا رہے تھے مگر صلیبیوں کی اچانک یلغار پر کوئی کچھ نہ کر سکا اور پہلی صلیبی جنگ میں یروشلم مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا جسے 88سال بعد بارہویں صدی کے اختتام پر صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ فتح کیا۔ ادھر اسپین کے علاقے ایک ایک کر کے دوبارہ یورپی طاقتوں نے فتح کرنا شروع کردئیے۔ اس تاریخی عمل کو یورپ نے ’Reconquista ‘کا نام دیا جو بالٓاخر1492ء میں غرناطہ کے سقوط پر اپنے اختتام کو پہنچی مگر اس سے قبل1452ء میں عثمانوی ترک قسطنطنیہ فتح کر کہ مشرقی رومی سلطنت کے خاتمے پر مہر ثبت کر چکے تھے۔

یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور مسلم علمی ورثہ

مورخین پانچویں صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی تک کے عرصے کو قرون وسطیٰ کا نام دیتے ہیں۔ یہ مجموعی طور پر یورپ کے زوال کا زمانہ تھا اور تاریک دور ( Dark ages ) کہلاتا ہے لیکن اس کے اواخر کی صدیوں میں خصوصاً سسلی اور ٹولیڈو (اسپین) کے عیسائیوں کے ہاتھوں فتح ہو جانے کے بعد ثقافتی و علمی منظر نامہ میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔ صلیبی جنگوں کے بعد جب یورپ کا رابطہ مسلم دنیا سے براہ راست ہوا تو یورپ کو مسلم دنیا کی علمی و فنی ترقی کے مشاہدے کا موقع ملا۔

مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانے میں بغداد، دمشق، قاہرہ، خصوصاً ایران اور وسط ایشیا میں بے مثال علمی و تحقیقی کارنامے انجام دیے۔ یونانی علمی ذخیرے جنہیں یورپ چرچ کے تسلط کے دور میں کھو چکا تھا، قرون وسطیٰ کے مسلم اسکالرز نے بڑی تعداد میں ان کا ترجمہ کرکے مسلم دنیا کے کتب خانوں میں محفوظ کر لیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یونانیوں کے زوال کے بعد مسلمان ہی درحقیقت ان کے علمی جانشین بن کر سامنے آئے جنہوں نے یونانی علوم کے احیاء ارتقاء کے ذریعے ماڈرن سائنس و فلسفہ کی بنیاد رکھی اور لاتعداد علمی نسخے تصنیف کیے۔

وقت کے ساتھ ساتھ کیتھولک چرچ نے بھی بتدریج تحصیل علم کی اہمیت کو سمجھنا شروع کر دیا تھا اوراپنے قائم کیے ہوئے کیتھولک اسکولوں کو تحصیل علم کے مراکز میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے قرون وسطیٰ کے اواخر میں یورپ میں مجموعی طور پر تحصیل علم کی تڑپ پیدا ہو چکی تھی جس نے انہیں بڑی تعداد میں مسلمانوں کے علمی ذخیروں کا عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے پر مجبور کیا۔ یورپ بھر سے علم کے متلاشی سسلی، ٹولیڈو میں مسلمانوں کے عربی نسخوں کے تراجم کے لیے جمع ہو گئے۔ ان نسخوں کا صحیح ترجمہ کرنے، انہیں محفوظ کرنے اور ان کی اشاعت کے لیے اٹلی برطانیہ، فرانس اور اسپین میں اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تراجم شدہ نسخوں پر آزادانہ بحث کی جاتی اور اس طرح تحصیل علم کی ایک نئی ثقافت نے جنم لینا شروع کیا۔

شمالی اٹلی سے علم کے ایک متلاشی گیرارڈ آف کریمونا نے12 ویں صدی میں صرف ایک نسخے کے لیے اٹلی سے اسپین ٹولیڈو کا سفر کیا اور اپنی باقی زندگی وہیں گزار دی۔ اپنے قیام کے دوران اس نے عربی کے 70 نسخوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ عرب دنیا میں کتابوں کی فراوانی پر حیرت اور یورپ میں علمی پس ماندگی پر شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ اگرچہ یورپ اس دور میں علمی لحاظ سے مسلم دنیا سے بہت پسماندہ تھا مگر گیرارڈ جیسے طالب علموں کی حصول علم کی جدوجہد تبدیلی کا واضح اشارہ دیتی ہے۔

یاد رہے یہ صرف ایک مترجم تھا، اس دور میں علم کے متلاشی بڑی تعداد میں زوال کا شکار مسلم دنیا کے کتب خانوں کے چکر لگا رہے تھے۔ مسلم دنیا اس وقت ٹولیڈو جیسے کتب خانوں سے بھری پڑی تھی۔ Reconquista کے دوران یورپ میں علم کے متلاشیوں کو قرطبہ اور دیگر کتب خانوں سے استفادہ کرنے کا موقع ملا جہاں یونانی علما افلاطون، ارسطو، ارشمیدس، بطلیموس کے علاوہ مسلمان اہل علم میں جابر بن حیان، ابوالقاسم الظاہروی، ابن رشد، ابن سینا، ابن الہیشم جیسے نامور سائنس دانوں، فلسفیوں، ریاضی دانوں اور علوم طب کے ماہرین کا کام قیمتی نسخوں کی شکل میں محفوظ تھا۔ ان علوم و افکار کا مغرب کی جامعات میں نئے سرے سے مطالعہ اور احیاء کیا گیا اور ارتقاء کا عمل ایک بار پھر شروع ہو گیا جس سے مغربی تہذیب کے ایک نئے اور سنہری دور کا آغاز ہوا جسے نشاۃ ثانیہ (دوبارہ جنم) کہا جاتا ہے۔

آج مغرب کا پاپولر کلچر اور نیوز میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد اور غیر تہذیب یافتہ قوم کے طور پر پیش کرتا ہے مگر غیر جانبدار مورخین کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم علاقوں پر صلیبی فتح کے ساتھ ساتھ اسپین اور سسلی کی Reconquista کے دوران یورپ کا مسلم دنیا سے تعلق اور مسلمانوں کی علمی ترقی کا مشاہدہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ Renaissance کے دو بڑے محرک تھے۔ نشاۃ ثانیہ کا تیسرا بڑا محرک قسطنطنیہ پر عثمانوی قبضے کے بعد یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے علماء کا یونانی مخطوطات کے ساتھ اٹلی منتقل ہو جانا بتایا جاتا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کی اس تحریک کا آغاز اٹلی کے شہر فلورنس سے ہوا لیکن یہ بہت جلد روم سمیت پورے یورپ میں پھیل گئی۔ اس تحریک کا اثر نہ صرف ادب، فلسفہ، سیاست، سائنس اور مذہب پر محسوس کیا گیا بلکہ فن تعمیر، مجسمہ سازی اور فن مصوری سمیت دیگر فنون لطیفہ پر بھی اس نے بہت گہرے اثرات رقم کیے۔ آج بھی یورپ بھر کے عجائب گھر نشاۃ ثانیہ کی ان فنی یادگاروں سے بھرے پڑے ہیں۔

چودھویں صدی سے سترھویں صدی کے دوران روم میں انتہائی خوبصورت اور پرشکوہ عمارات اور پبلک یادگاریں (جنہیں انگریزی میں Baroque کہا جاتا ہے) تعمیر کی گئیں۔ گرجاؤں کو فریسسکوز (دیواروں اور چھتوں پر بنائی جانے والی تصاویر) سے سجایا گیا۔ سینٹ پیٹرز کا گرجا تقریباً سولہویں صدی عیسوی میں مکمل ہوا اور اسے معروف آرٹسٹ مائیکل اینجلو نے ڈیزائن کیا۔ اسی زمانے میں یہاں چوکوں پر بڑے بڑے مجسمے اور فوارے نصب کیے گئے جو ساری دنیا میں روم کی پہچان بن گئے۔ رافیل برنینی اور فرانسسکو جیسے فنکاروں نے اپنے مجسموں اور تصاویر سے شہر کا نقشہ بدل دیا۔ انیسویں صدی میں ایک تحریک کے ذریعہ جزیرہ نماء اٹلی کے مختلف حصوں کو ایک حکومت کے تحت متحد کیا گیا۔

سیاحت

پیازا اسپانا کا شمار روم کے قابل دید چوراہوں میں ہوتا ہے، جہاں مشہور شعراء شیلے اور کیٹس کے گھر بھی واقع ہیں، پیازا نووانا جہاں برنینی کا بنایا ہوا خوبصورت فوارہ موجود ہے، جو ایک قدیم مصری ستون پر تعمیر ہوا ہے۔ روم کا سب سے اہم چوراہا ’پیازہ وینیزا‘ ہے جہاں ایک انتہائی خوبصورت عمارت وییتوریانو سے مسولینی اپنے عہد میں فاشزم کے فروغ کے لیے تقریریں کرتا تھا۔

قریب ہی کیپٹلانو میوزیم ہے جہاں روم شہر کی قدیم تاریخ سے متعلق نوادرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے قریب ہی فورم رومانو کے کھنڈرات قدیم رومی تہذیب کی شان و شوکت کی بھی گواہی دے رہے ہیں اور ’ہرکمال را زوال‘ کی زندہ تفسیر بھی ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جولیس سیزر کو قتل کیا گیا اور اس کے بعد سینٹ کے امراء نے کیپٹلانو میوزیم کے قریب ایک مندر میں اپنے آپ کو مقفل کر لیا۔ قدیم روما کی عمارتیں حسن و نزاکت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر عجب جاہ و جلال رکھتی ہیں۔ ان کھنڈرات کے سحر نے دنیا کو آج بھی مسحور کر رکھا ہے۔ یہ ایک عہد میں دنیا کے نفیس ترین خطے اور مہذب ترین قوم کے کھنڈرات ہیں۔ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کولوسیم موجود ہے۔

قدیم روما کی سب سے پرشکوہ عمارت بلاشبہ پینتھیون ہے جو 27 ق م میں آگسٹس سیزر کی قلوپطرہ اور انتھونی پر فتح کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی بعد ازاں اسے گرجا میں تبدیل کردیا گیا۔ 16 ویں صدی میں مائیکل اینجلو نے سینٹ پیٹرز کے گرجا کا گنبد ڈیزائن کرنے سے پہلے اس کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ روم شہر فواروں سے بھرا پڑا ہے، سب سے حسین ٹریوی فاؤنٹین ہی کو گردانا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اسے بدصورت رہائشی عمارتوں نے گھیرا ہوا ہے۔

دنیا کی سب سے چھوٹی خود مختار ریاست اور پوپ کا مسکن ویٹی کن سٹی روم شہر کے وسط میں واقع ہے۔ یہیں سسٹینا چیپل وہ جگہ ہے جہاں مائیکل اینجلو نے چھتوں اور دیواروں پر بائبل کی آیات کو تصویروں کی زبان دی ہے۔اگرچہ ہماری مذہبی روایات کے مطابق کچھ تصاویر قطعی نامناسب ہیں مگر ہم مسلمان دوسرے پیغمبروں کی گستاخی پراس حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ قدیم روما اور نشاۃ ثانیہ کے خوبصورت فن تعمیر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سیاح ایک مرتبہ رات کو شہر کے تاریخی حصوں کا چکر ضرور لگائیں کیونکہ رات میں اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ یہاں سینٹ انجلو کا قلعہ دیکھنا بالکل نہیں بھولیے گا جہاں برنینی کا بنایا ہوا ایک انتہائی حسین فرشتے کا مجسمہ موجود ہے۔ پچاس کے عشرے میں بننے والی ہالی ووڈ کی معروف فلم Roman Holiday میں روم شہر کے تاریخی حصوں کو بہت خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔

اٹلی کے مسلمان اور موجودہ سیاسی منظر نامہ

اس وقت اٹلی کے مختلف شہروں میں 16 لاکھ مسلمان آباد ہیں جنھیں دائیں بازو والے شدت پسند سیاستدانوں اور ان کے ماننے والوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ جرمنی کے شہر کولون کے بعد یورپ کی دوسری بڑی مسجد روم کے شمال میں واقع ہے جہاں بارہ ہزار افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد سعودی عرب کے شاہ فیصل اور افغانستان کے ایک جلا وطن شہزادے حسن اور اس کی بیوی راضیہ کے مالی تعاون سے تعمیر کی گئی۔ مغرب میں مسجدوں کی تعمیر کو ایک خاص طبقے کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہتا ہے مگر اس مسجد کی تعمیرکی پاپ جان پال دوم نے ذاتی طور پر حمایت کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال روم شہر میں گھروں اور گیراجوں میں واقع تین عارضی مسجدوں کی سرکاری بندش پر روم کے مسلمانوں نے احتجاجاً نماز جمعہ کولوسیم میں نماز ادا کی۔ مغربی ملکوں میں مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے با عث بہت بڑی تعداد میں لوگ ایسی عارضی مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ یورپ میں دہشت گرد حملوں کے پیش نظر اطالوی وزیر داخلہ انجیلینا الفانسو کا کہنا ہے کہ ایسی مسجدوں میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کی نگرانی ممکن نہیں ہوتی اس لیے انہیں بند ہونا چاہیے۔

روم کے مئیرکا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اطالوی زبان میں نماز ادا کرنی چاہیے۔ ان سب مخالفتوں کے باوجود چھٹی صدی عیسوی میں سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع عرب کے ایک شہر سے اٹھنے والی ایک نظریاتی تحریک دنیا کی ثقافت کو مسلسل تبدیل کر رہی ہے اور اس امر نے دوسری ثقافتوں کے علم برداروں کو ایک خوف میں مبتلا کر دیا ہے جسے جدید دور میں ’اسلامو فوبیا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ روم اور مکّہ، ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود یہ دو شہر اس حوالے سے ایک دوسرے کے ثقافتی رقیب ہیں اور تہذیبوں کی جو جنگ سیموئیل ہنٹنگٹن کے بقول چھڑ چکی ہے وہ دراصل انہیں دو شہروں سے اٹھنے والی تہذیبوں کے درمیان ہے۔