جامعات میں داخلے اور طلبہ کا ڈر – عبد اللہ ابن علی

میٹرک اور انٹر کے امتحانات ختم ہوگئے ہیں لیکن طُلباء کے لیے اب اُس سے بڑی آزمائش آکھڑی ہوئی۔ اسے آزمائش ہی کہا جائے گا کیونکہ وہ بچے اپنی زندگی میں پہلی بار ہی اُس کا سامنا کررہے ہیں اور وہ ہے کالج اور یونیورسٹیز میں داخلے کا مرحلہ۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اعلان کیا ہے کہ اس دفعہ وہ اپنے طریق پرہی ٹیسٹ لیں گے اس کی مزید تفصیل خبروں میں آجائے گی۔ بہت سارے بچوں نے مُختلف اداروں میں جوجامعات کے ٹیسٹ کی تیاری کراتے ہیں داخلہ لے لیاہے مگر ایک ڈر پھر بھی موجود ہے دِل میں کہ ناجانے ہمیں اپنی پسندیدہ جامعہ میں مطلوبہ شعبے میں داخلہ ملے گا بھی یا نمبروں اور ٹیسٹ کے اسکورز کی وجہ سے کسی دوسری جامعہ میں داخلہ لینا پڑے گا۔

یہ ڈر کیا ہے اور کیسے پیدا کیا گیا ہے اورجڑ پکڑ گیا ہے کہ ہر وقت دل کو دھڑکا لگا رہتا ہے؟ اس ڈر کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اسکول میں داخلہ کراتے ہوئے والدین کے ذہنوں میں ڈالا گیا ہے کہ آپ کا بیٹا فلاں اسکول میں پڑھے گا تو معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن جائے گااور آپ کا نام روشن کرے گا ورنہ اس کو کوئی جانتا بھی نا ہوگا۔ پہلی بات ایک محض دھوکہ ہے اور آخرالذکر شہرت کا خواب جو کہ ظاہر ہے ماں باپ کا نام ہی روشن ہونا ہے، یہ معاشرے میں مشہوری نہیں بلکہ خاندان مین ایک رعب پیدا کرنے والی شہرت کا خواب دِکھانا ہے۔

والدین کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ واقعی بہت پروا کرتے ہیں لیکن اس پروا میں اندھے بھی ہوجاتے ہیں اور اپنے بچوں کو بڑے اسکولوں میں پڑھانے کے لیے بہت محنتیں کرتے ہیں۔ اس کو محنت ہی کہیں گے کہ جس انسان کا اپنا ذاتی مکان نہیں اور دو ، دو تین، تین نوکریاں کرکے اور اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کی اسکولوں کی فیسیں بھرے اور اُوپر سے اِسکول والوں کے ناجائز مُطالبات بھی پورے کرے۔ پھر اُس پر ظُلم یہ کہ وہ ان مُشقّتوں کا کسی کے سامنے ذکر بھی نہیں کرتے بلکہ اپنا بھرم قائم رکھتے ہیں۔ عزتِ نفس کی خاطر سفید پوشی کا بھرم رکھنا تو ایمان کی نشانی ہے مگر رشتہ داروں، عزیزوں اور قریب کے لوگوں پر اپنے بچوں کے اسکول اور پڑھائی کا بھرم مارنا تو غرور میں شامل ہوجاتا ہے۔ یعنی اپنے بچوں کو دُنیاوی اعلیٰ معیار کی تعلیم دِلانے کا مقصد یہ ہو کہ جناب کا خاندان میں بہت بھرم قائم ہوجائے گا تو یہ حماقت ہے۔ اگر اپنے بچوں کے ذہنوں کو وسیع اور اُن کے اندر انسانیت سے محبت پیدا کرنے کی خاطر کیا جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی بندوبست کرنا احسن ہے۔

پھر یہ ڈر بچوں میں زبردستی اُنڈیلا جاتا ہے۔ انہیں روز روز نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ بیٹا آپ نے اپنی جماعت میں اوّل آنا ہے وہ فلانی آنٹی کی بیٹی تو ہر جماعت میں ٹاپ ہی کرتی ہے اور اُن فلانے صاحب کا بیٹا وہ تو پورے خاندان میں سب سے زیادہ مشہور ہے، اجی کیوں مشہور ہے؟ قابلیت کی وجہ سے نہیں رٹنے اور زیادہ نمبرز لانے کی وجہ سے۔ کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کی زیادتی صحت کے لیے خراب ہوتی ہے، اور وہی ہوتا ہے اُن بچوں کے جب کان پک جاتے ہیں تو وہ ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نِکال دیتے ہیں، بہت سے چالاکی میں ضِد کرنے لگ جاتے ہیں کہ اُس بچے کے پاس تو یہ ہے آپ مُجھے بھی دِلائیں، پھر جی دلواکر ہی جان چھُڑوانی پڑتی ہے اُس میں بھی یہی آس ہوتی ہے کہ میرا بچہ اُس کے برابر کہلائے گا۔ غرض یہ برتری جھاڑنے کا اور نام مشہور کرنے کا کھیل جاری رہتا ہے۔ اور پھر یہ وقت آن پڑتا ہے کہ جب بچّے اپنی پوری مِحنت سے دسویں یا بارہویں کا امتحان دے دیتے ہیں پھر بھی وہ مُقابلہ اُن کی جان نہیں بخشتا بلکہ اور زیادہ زور پکڑ لیتا ہے۔

متوسط طبقہ این ای ڈی، نَسٹ، ماجُو اور فاسٹ میں داخلہ دِلوانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، ایلیٹ کلاس کا تو خیر جی باہر کی جامعات کا ہی تذکرہ چل رہا ہوتا ہے کہ سِٹی یونیورسٹی لندن، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اِمپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف مشیگن اور لُڈوِک یونیورسٹی آف میونِخ جیسی بین الاقوامی جامعات میں اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور ماشاء اللہ سے پڑھواتے بھی ہیں۔ لوئر مِڈل کلاس کے لوگوں میں اکثریت جامعہ کراچی اور جامعہ اردو میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ جبکہ میٹرک کے بعد اکثریت گورنمنٹ اور اُس سے منظور شدہ کالجز میں داخلہ لے لیتے ہیں۔

بات تعلیم کی اور پڑھائی کی جائے تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا محض ایک ہی معنوں میں بولا اور لکھا جاتا ہے درحقیقت اِن دونوں میں بُنیادی فرق ہے جو اِن دونوں کے معانی و مفہوم کو بدل دیتے ہیں وہ یہ کہ تعلیم کے معنی عِلم حاصل کرنا ہے کسی بات سے آگاہ ہونا اور عِلم کا بُنیادی حق یہ ہوتا ہے کہ اُس پر عمل کیا جائے اور اُس میں جو بات بتائی گئی ہے اُس کی حکمت کو سمجھا جائے اور پھر اُسے دوسروں کو سِکھایا جائے اسی لیے علم کے ساتھ حکمت اورتعلیم کے ساتھ تربیت کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے یعنی علم وحکمت اور تعلیم وتربیت۔ جبکہ پڑھائی محض کسی چیز کو پڑھ لینا اور ذہن نشین کرلینا ہے یعنی کہ کسی طرح شرائط یا قوانین کو پڑھ لیناجیسے سائنس کے اُصول کو پڑھ کر سمجھ لینا اور پھر یاد رکھنا۔ لیکن عِلم بنا عمل کے غارت ہوجاتا ہے چاہے کوئی کتنا ہی علم حاصل کرلے اور علم والے خود کو کبھی عالم نہیں کہلواتے اُنہیں صرف علم والے ہی جانتے ہیں۔

آپ نے کرنا یہ ہے کہ اس چیز کو سمجھ لینا ہے کہ خُدانخواستہ آپ کا داخلہ اگر آپ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوپاتا تو دِل چھوٹا نہ کریں بلکہ جہاں بھی آپ کی مالی استطاعت ہو داخلہ لے لیں اور رٹنے والی رسم کو توڑ کر خود کو قابل بنائیں اور پڑھائی کی جگہ تعلیم حاصل کریں، مطالعہ کرنے کی عادت ڈالیں، اس سے آپ کی جامعہ کی پڑھائی میں آسانی ہوگی اور ساتھ ساتھ آپ کی قابلیت میں اضافہ ہوگا اور جِتنا زور دُنیاوی تعلیم پر دیتے ہیں اُس کاکم از کم بیس فیصد حصہ دینی تعلیم کے لیے بھی دیں اور خود کو تمام مسالک سے بالا تر ہوکر خالی الذہن سے قُرآن کو ترجمہ سمیت پڑھیں اب چاہے آپ کے لیے اردو آسان ہو یا انگریزی اس کے ساتھ ساتھ احادیث کی کُتب کا بھی مُطالعہ کریں روز مرّہ کے بُنیادی کاموں کے لیے جو دُعائیں بتائی گئی ہیں وہ بھی یاد کرلیں اگر آپ اپنے کاموں میں اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے اُس سے خیرطلب کریں گے تو یہ آپ ہی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آخر میں ایک بات نصیحت کے طور پر نہیں بلکہ آپ کے حوصلہ کی داد دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ کو اس مُقام تک لانے کے لیے جِن ہستیوں نے محنتیں مُشقّتیں کی ہیں اُن کی ہمت اور شُجاعت بنیں اور اُن کی قدر کریں۔