"ثقافتی نسل کشی" - سلیم یوسف

عید کا دوسرا دن تھا اور یہی وجہ تھی ماہ مقدس کی روٹین ابھی تک چل رہی تھی، اس میں سے ایک عادت رات بھر جاگنا اور پورا دن سونے کی بھی تھی۔ بس اسی "قومی فریضے" کو انجام دینے کے لیے میں آرام کر رہا تھا کہ میرے والد کی ایک دھیمی سی پکار نے میرے آرام میں خلل پیدا کیا اور میں جاگ گیا۔ اس بات کا احساس مجھے بعد میں ہوا کہ نہ تو وہ پہلی پکار تھی اور نہ ہی دھیمی۔ خیر جب میں اپنے خوابوں کی دنیا سے واپس اس فانی دنیا میں آیا تو مجھے والد محترم نے اپنے ایک دوست کی بہن کی وفات کے بارے میں بتایا اور نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لیے کہا۔ شام میں نماز جنازہ سے فارغ ہو کر ہم جلد ہی واپس گھر آ گئے۔ رات گئے فیس بک استعمال کرتے ہوئے ایک اسٹیٹس نے مجھے چونکا دیا ۔ ایک دوست نے"Eating Biryani with Coke...with two others at Mander Raj" لکھا تھا۔ اس میں چونکانے والی بات بریانی تھی اور نہ ہی کوک، نہ ہی وہ جگہ بلکہ خود موصوف تھے جنہوں نے یہ اسٹیٹس دیا۔ کیونکہ یہ وہی تو تھا جس کی سگی پھوپھو کی نماز جنازہ پڑھ کر کے ہم آئے تھے۔ اسٹیٹس میں ٹیگ دیگر لوگوں کو دیکھا تو ان دو حضرات میں سے ایک اس کے بڑے بھائی تھے اور دوسرا کوئی دوست۔ پہلے تو سوچا کہ اسے کمنٹ کر کے احساس دلاؤں لیکن پھر قلم فرسائی کا سوچا کہ شاید کسی اور کو بھی سمجھ آ جائے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ ایسے بچوں کے والدین کا، جو بچوں کی درست تربیت نہیں کر پاتے، ہمارے تعلیمی اداروں کا جو خونی رشتوں کی قدر کرنا نہیں سکھاتے، یا پھر سوشل میڈیا کا؟ میرے خیال میں تو اس میں زیادہ کردار سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا ہی ہے۔ فیس بک پر ہزاروں پوسٹیں موجود ہیں جن میں ہمارے مقدس رشتوں کو پامال کیا جاتا ہے جس میں سرفہرست "پھوپھو" ہیں۔ تو کیا یہ ہماری اقدار ہیں؟ یہ کس کا ایجنڈا ہے؟ ہم جانتے بوجھتے کس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں۔ اس واقعہ نے یونیورسٹی میں جرنلزم کی تعلیم یاد دلا دی جس میں مارکسز اور نیو مارکسزم کے ساتھ ہمیں 1944ء میں سامنے آنے والی ایک اصطلاح ثقافتی نسل کشی (Cultural Genocide) یا (Cultural Cleansing) بھی پڑھائی گئی تھی۔ اسے سمجھنے کی بجائے آپ اپنے اردگرد موجود میڈیا کے ذرائع پر غور کریں۔ ان پر شائع و نشر ہونے والے مواد بالخصوص ان ڈراموں پر نظر ڈالیں جو ہمارے معاشرے پر نہیں بنتے بلکہ ہمارا معاشرہ ان پر بن رہا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ڈرامہ معاشرے کا عکاس ہوتا ہے مگر آج ہمارا معاشرہ ڈرامے کا نقال بن چکا ہے۔ پہلے ڈرامہ معاشرتی کرداروں کو دکھاتا تھا جس میں ہمیں اپنا روپ نظر آتا تھا مگر آج ہم ڈرامے کے غیر حقیقی اور افسانوی کرداروں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرکے احساسِ کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ہم سب ایسی فلموں اور ڈراموں سے بخوبی واقف ہوں گے جن میں شادی کے بعد افیئر کو "جسٹیفائی" کیا جاتا ہے۔ ٹی وی پر چلنے والے ان اشتہارات پر نظر دوڑائیں جن میں اچھل کود کرتی بھارتی اداکارائیں دکھائی جاتی ہیں۔ زیادہ دور نہیں، کیا آج سے محض آٹھ، نو سال پہلے 'ڈیٹ' اور 'گرل فرینڈ' کی اصطلاحات اسے طرح کھلے عام معاشرے میں استعمال کی جا سکتی تھیں؟ مگر اب تو ٹی وی کے ذریعے انہیں گھر گھر میں داخل کر دیا گیا ہے۔ جو الفاظ پہلے گالی سمجھے جاتے تھے آج ان کا استعمال ہماری نوجوان نسل دھڑلے سے کرتی ہے حتیٰ کہ اپنے والدین کے سامنے بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   "اِس اشتہار کے تمام کردار فرضی تھے" - اسماعیل احمد

میرے بچپن کی اچھی یادوں میں سے ایک اچھی یاد یہ بھی ہے کہ جب ہمارے گاؤں میں کوئی فوت ہوتا تھا تو دادا جی کم از کم دس دن تک ٹی وی نہیں چلنے دیتے تھے اور اگر پڑوس اور رشتہ داروں میں سے کوئی فوت ہوتا تو یہ پابندی چالیس دن تک رہتی تھی۔ تو بحیثیت قوم ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں بلکہ میری دانست میں یہاں لفظ قوم استعمال کرنا سب سے بڑی غلطی ہے کیونکہ ہم سندھی، بلوچ، پٹھان، پنجابی تو ضرور ہیں لیکن پاکستانی نہیں اور ہم شیعہ، سنی، دیوبندی یا اہلحدیث تو ہیں لیکن ان سب میں اپنی مسلمان شناخت کہیں گم کر چکے ہیں اور انہی باتوں کو بنیاد کر دشمن ہمارے میڈیا کے ذریعے زہر بنا کر ہمیں پیش کر رہا ہے اگر اس زہر کا سدباب نہ کیا گیا تو یہ ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کر دے گا۔