بچوں کا ادب - ببرک کارمل جمالی

تاریخ گواہ ہےکہ انسان نے زندگی کے جس شعبے میں مشترکہ کوششیں کی وہاں انہوں نے ترقی کی، مگر افسوس کہ بچوں کے ادب نے ترقی کے بجائے تنزلی ہی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ آج کل بچوں کا ادب جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی اہل قلم سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایک ادیب روشنی کو سیاہی اس لیے کہتا ہے کہ کیونکہ وہ معاشرے کی سیاہیوں کو سفید صفحے پر پھیلا کر معاشرے کے سفید اور سیاہ کو اجاگر کرتا ہے اور دور کرنے کی سعی کرتا ہے اور آج یہ سیاہی اسی ادیب پر الٹ دی گئی ہے۔

اردو ادب کی کئي نامور شخصیات نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں اور ترجمہ بھی کیں۔ بچپن میں جب یونانی ادب سے لے کر جاپانی ادب تک سے ترجمہ کی گئی ملک ملک کی لوک داستانیں پڑھتا تو آخر میں "مرکزی خیال ماخوذ" یا "ترجمہ" لکھا دیکھایسا لگتا تھا کہ جیسے میرے ملک کی کہانیاں ہیں۔ آج ہم بچوں کے ادب میں بانجھ ہوتے جا رہے ہیں، اسے سرکاری و نجی دونوں سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ہر قوم اپنی عظمت کے تاج محل کو کسی شاہجہان کے خواب سے تعبیر کرتی ہے مگر ہر تاج محل کی عظمت کو ان گمنام مزدوروں اور معماروں کی مرہون منت ہے جن کا پسینہ پتھرکو موتی کی چمک عطا کرتا ہے۔اپ نے بابل و نینوا کی تباہی کی داستانیں سنی ہوں گی مگر خدا وہ دن کبھی نہ لائے جب مستقبل میں ماضی کے سیاہ کھنڈر دیکھ کر آہ بھریں اور کہیں پاکستان بچوں کے ادب کے لیے ایک عظیم ملک تھا جسے اپنے لوگوں نے برباد کردیا۔ بچوں کا ادب مخصوص میدان ہے نہ اس میں کوئی چلتا ہے نہ چلایا جاتا ہے، بس اپنی مدد آپ کے ذریعے میدان میں اترا جاتا ہے اور پھر دریا کے کنارے پر پہنچ کر اپنے دوستوں کے ہاتھوں ہی ڈوبا جاتا ہے۔ اب ہمارے یہاں بچوں کا ادب لکھا تو جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے بہت کم لوگ حقیقی ادب کی جانب متوجہ ہیں۔ گزشتہ ایک برس میں تو شاید ہی اس حوالے سے کوئی ورکشاپ یا ٹریننگ ہوئی ہو۔ ہماری ادبی تقریبات میں بھی بچوں کے ادب پر مباحثے اور مقالے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ناول نگاری: چند اہم باتیں - حافظ زبیر

آج بچوں کا ادب موئن جو دوڑ کی طرح ویران ہے۔ اس کی عمارت کے دروازے پر 'ادب برائے فروخت' لکھا ہے۔ اکیسویں صدی بچوں کے ادب کے لیے ایک لق و دق صحرا بن چکی ہے۔ اسے پار کرنے والے ایک پل صراط سے گزر رہے ہیں۔ اس ادب پر صدیوں کی گرد جمع ہوچکی ہے جسے صاف کرنے کے لیے ہر ادیب اپنا قلم استعمال کرے تبھی یہ خلیج پاٹی جا سکے گی۔

بدقسمتی سے بچوں کے ادیبوں کو وہ مقام اب تک نہیں مل سکا جس کے وہ اہل تھے۔ وہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں، جو انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات میں قوم کی مستقبل پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنا آج قربان کرکے قوم کے کل کی تربیت کر رہے ہیں، ان کا کتاب سے رشتہ مضبوط کر رہے ہیں لیکن چند سوالات ایسے ہیں جو لازمی ابھرتے ہیں: بچوں کے لکھاری آخر کیوں کسمپرسی کی زندگي گزار رہے ہیں؟ روزی روٹی کی فکر میں لکھنا چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ ان کو دوبارہ ادب کی طرف واپس لانے کا کام کیسے ہوگا؟

ضرورت ہے بچوں کے ادیبوں کے لیے اہم ترین اجلاس کروانے کی، ان کو طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ جیسی اسکیمیں دینے کی، ان کے ادب کو فروغ دینے کی۔ ساتھ ہی اعزازات کے ساتھ ان کے لیے اعزازيہ بھی دیا جائے اور بچوں کے رسائل و کتب کے لیے حکومت خصوصی نرخوں پر کاغذ مہیا کرے۔