فیاضیاں (3) - فیاض راجہ

قسطوں سے میرا پہلا تعارف 1981ء میں ہوا تھا، جب بڑے بہن بھائیوں کے ہمراہ پی ٹی وی ڈارمہ "چانن تے دریا" کی آخری قسط، محلے میں پیلی کوٹھی کے نام سے مشہور گھر یعنی انکل حمید کے ہاں دیکھی تھی۔ پیپلز کالونی کے اس محلے میں ان دنوں ٹیلی ویژن صرف انہی کے گھر تھا، جہاں گرمیوں کی شاموں میں مغرب کے بعد پورے محلے کے بچے دھاوا بول دیتے تھے۔ مجال ہے جو کبھی انکل حمید یا ان کی بیوی کے ماتھے پر ایک شکن بھی دیکھی ہو۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انکل حمید اور ان کی بیوی کو محلے کے بچوں کے بغیر 8 بجے والا ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کا مزہ ہی نہیں آتا تھا، ڈرامے کے ہر سین پر آنٹی کا رواں تبصرہ اور ان کو انکل کا ٹوکنا لازم ہوتا تھا۔ جسے ہم سب بچے بعد میں مزے لے لے کر ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے۔

چانن تے دریا کی آخری قسط کے آخری سین میں جب کشتی دریا میں ڈوبنے لگی تو سب بچوں کی سانسیں گویا رک سی گئی تھیں۔ بعد میں کشتی دریا میں ڈوبی یا بچ گئی، مجھے یاد نہیں۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ آنٹی کے ساتھ بیٹھی ساجدہ نے اپنی انگلی دانتوں میں دبا لی تھی، اس روز میں نےساجدہ کو اتنے قریب سے دیکھا تھا کہ اس کے اوپری ہونٹ پر موجود چھوٹا سا سیاہ تل بھی پہلے کی نسبت بڑا لگ رہا تھا۔

چانن تے دریا کی آخری قسط، مجھے قسطوں کا مطلب سمجھا کر ختم ہوگئی اور اس کے شاید تین برس بعد 1984ء میں میرا قسطوں کی ایک اور قسم ''آسان قسطوں'' سے سامنا ہوا، جس کی شان میں لکھے جملے تو میں نے رٹ لیے مگر ان کا مطلب کافی بعد میں جا کر آشکار ہوا۔ وہ جملے کچھ یوں تھے:
"پنکھے، روم کولر، واشنگ میشن، وال کلاک، سلائی مشین، اٹیچی کیس اور استریاں،،، آسان قسطوں پر دستیاب ہیں۔ شفیق ٹریڈرز، مہربان مارکیٹ، ٹینچ بھاٹہ، راولپنڈی"
مجھے یہ آسان قسطیں اس لیے رٹ گئیں کہ مسلسل کئی برس جب میں ٹینچ بھاٹہ کی آبادی نمبر ایک والے اپنے گھر سے جان کالونی میں واقع اسکول جاتا اور واپس آتا تھا تو روزانہ مجھے وہ دیوار راستے میں پڑتی تھی جس پر لکھنے والے نے بڑی خوبصورتی سے کوئلے کا استعمال کیا تھا۔

اپریل 1982ء اس لیے میرے حافظے میں محفوط ہے کہ اسی برس اور مہینے میں، ابا جان کی سعودی عرب میں کی گئی محنت اور امی جان کی پاکستان میں کی گئی بچتیں کام آئی تھیں، اور ہم نے ٹینچ بھاٹہ کی آبادی نمبر ایک میں اپنا گھر خرید لیا تھا۔ پورا سات مرلے کا گھر جو ہم نے 1 لاکھ 80 ہزار روپے میں خریدا تھا۔ دو بڑے کمرے جو بیڈ روم تھے۔ ایک باتھ روم، ایک بڑا سا کچن، ایک بیٹھک اور سب سے بڑھ کر ایک کھلا صحن جس میں، میں اپنی تین پہیووں والی سائیکل چلایا کرتا تھا۔ صحن کے ایک کونے پر واش بیسن تھا، جس نے پہلے ہی روز میرے سر پر گومڑ نکال کر اپنا تعارف کرایا تھا۔ وجہ یہ ٹھہری تھی کہ سائیکل چلاتے چلاتے میں اس کے نیچے جا گھسا تھا۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ پیپلز کالونی والے کرائے کے مکان سے ہمارا سامان ایک بڑے سے ریڑھے پر لادا گیا تھا۔ باقی بچنے والا سامان بہن بھائیوں نے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا تھا۔ میرے کاندھے پر اسکول کا بستہ تھا جب کہ دائیں ہاتھ میں اسٹین لیس اسٹیل کی چھوٹی سے بالٹی، بالٹی جس میں دودھ تھا جو کرائے کا مکان خالی کرتے وقت ساجدہ نے میرے ماتھے پر پیار کرنے کے بعد میرے ہاتھ میں پکڑا دی تھی۔ قسم لے لو! اس دن میں نے شاید پہلی اور آخری مرتبہ ساجدہ کو قسطوں میں نہیں بلکہ جی بھر کے دیکھا تھا۔
( جاری ہے)