جناب وزیراعظم! اب آپ کو جانا چاہیے - محمد عامر خاکوانی

10 جولائی، 2017ء پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت مختلف، منفرد، اجلا اور جگمگاتا دن سمجھا جائے گا۔ اس لیے نہیں کہ اس دن جے آئی ٹی نے حکمران خاندان کے خلاف رپورٹ پیش کی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس دن پاکستانی تاریخ کے کئی متھ ٹوٹ گئے، پُرانی مثالیں غلط ثابت ہوئیں اور ایک نئی روشنی، خوبصورت روایت قائم ہوئی۔ جے آئی ٹی کے ارکان کے لیے میاں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف تحقیقات کرنا بالکل آسان کام نہیں تھا۔ سرکاری ملازموں کے لیے اپنا کیرئیر سب سے اہم ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ٹرانسفر، پوسٹنگ میں سیاسی اثر و رسوخ بہت اہم سمجھا جاتا ہے، میرٹ پر فیصلے نہیں ہو پاتے، وہاں کسی گریڈ بیس، اکیس کے افسر کا ملک کے طاقتور ترین سیاسی خاندان کی ناراضی مول لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے باوجود جے آئی ٹی کے تمام ارکان نے کمال جرات، ہمت اور نہایت فرض شناسی سے کام کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ہمارے گلے سڑے نظام میں ابھی جان باقی ہے اور ضرورت پڑنے پر ایسی تابناک مثالیں سامنے آسکتی ہیں۔ حکمران جماعت نے جے آئی ٹی کو پہلے دن سے اپنے ہدف پر لیا اور مسلسل تابڑ توڑ حملے کرتے رہے۔ انہیں متنازع کرنے کے لیے کون سا حربہ ہے جو نہیں آزمایا گیا۔ سو فیصد شفاف لوگ تو کسی آئیڈیل دنیا میں ہی رہتے ہوں گے، مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جے آئی ٹی کے چھ ارکان بےداغ ماضی اور حال کے حامل تھے، اگر ایسا نہ ہوتا توآئی بی اور دیگر سرکاری محکموں کے علاوہ پرو حکومت میڈیا ہاؤسز کے رپورٹروں کی فوج ظفر موج کچھ نہ کچھ نکال لاتی۔ جے آئی ٹی کو ان کی جرات، دلیری اور دباؤ برداشت کرنے کے حوصلے پر جس قدر کریڈٹ دیا جائے، وہ کم ہے۔ حقیقت میں ان چھ لوگوں نے کمال کر دکھایا۔ قوم اور اہلِ دانش کو کھل کر انہیں سراہنا چاہیے۔ ویل ڈن جے آئی ٹی۔

حکمران خاندان اور حکمران جماعت کا رویہ نہایت افسوسناک رہا۔ نرم سے نرم لفظوں میں کہا جائے تو وزیراعظم نواز شریف، ان کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں کا کردار غیر اخلاقی، غیر جمہوری اور عاقبت نا اندیشی پر مبنی تھا۔ مسلم لیگ ن نے یہ ثابت کیا کہ ان کے لیے سیاسی مفادات ہر قسم کی اخلاقیات پر بھاری ہیں۔ اگلے الیکشن کے لیے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ اہم ہے، ضمیر نہیں۔ مسلم لیگ کے ایک بھی رکن اسمبلی، سیاسی رہنما اور حتیٰ کہ کسی میئر، کونسلر تک نے یہ نہیں کہا کہ عدلیہ اور جے آئی ٹی کی کردار کشی کرنا غلط ہے، اور حکمران خاندان کو یہ ڈرٹی گیم کھیلنے کے بجائے آزادانہ تحقیقات اور اس کے نتائج قبول کرنے چاہییں۔ حیرت ان مسلم لیگی وزراء پر ہے جو حیران کن دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے روزانہ شام کو ٹی وی کیمروں کے سامنے بیٹھ کر ایک انتہائی کمزور کیس کا دفاع کرتے رہے۔ پانامہ کیس میں عدالتی فیصلے سے اندازہ ہوگیا تھا کہ میاں نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ کا کیس بہت کمزور ہے۔ دو جج صاحبان نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، باقی تینوں ججوں نے بھی خاصے سخت ریمارکس دیے، مگر حتمی فیصلہ دینے سے پہلے جے آئی ٹی رپورٹ کی ضرورت محسوس کی تاکہ جے آئی ٹی حکمران خاندان کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد کی تصدیق کرے اور کچھ مزید چیزیں سامنے آ سکتی ہوں تو وہ بھی لائی جائیں۔ اب جے آئی ٹی نے یہ کام کمال ہنر مندی اور مہارت سے کر ڈالا۔ جے آئی ٹی رپورٹ نے وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں اور ٹیلنٹڈ صاحبزادی کے مؤقف کے پرخچے اُڑا دیے ہیں۔ عملی طور پر حکمران خاندان کے پاس کچھ نہیں رہا۔ وہ بری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ جن باتوں پر انھوں نے تین عشروں سے پردہ ڈال رکھا تھا، وہ دنیا کے سامنے مکمل طور پر عیاں ہو چکی ہیں۔ ان کی منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی، یہ واضح ہو گیا کہ ان کے پاس لندن فلیٹس کی کوئی منی ٹریل نہیں۔ مریم نواز بینیفشری ثابت ہو گئیں، اس سے پہلے ان سب کا مؤقف تھا کہ مریم نواز کا نیسکول اور دیگر کمپنیوں سے کوئی بینیفشری تعلق نہیں۔ یہ دعویٰ باطل ثابت ہوا۔ خود جناب وزیراعظم کے نام ایک کمپنی نکل آئی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز نے سپریم کورٹ کے سامنے کئی جعلی دستاویزات پیش کیں، پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت تک کو دھوکا دیا اور مسلسل جھوٹ بولے جاتے رہے۔ طارق شفیع کے حوالے سے جو دعوے کیے جاتے رہے وہ بھی غلط تھے۔ دبئی سے جو تصدیق شدہ سرکاری دستاویزات ملیں، صرف وہی شریف فیملی کے مؤقف کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بارہ ملین درہم دیے گئے نہ گلف سٹیل ملز کی فروخت کا ڈرامہ سچ نکلا، نہ ہی اس مل کا سکریپ جدہ بھیجا گیا۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں متعدد فائنڈنگز دی ہیں۔ اچھے تفتیش کار کی طرح جو نکتہ بھی انہیں غلط، کمزور یا مشکوک لگا، اس کا انہوں نے اظہار کر دیا۔ ممکن ہے ان میں سے ایک آدھ کا کوئی جواز یا جواب ہو، مگر اس سے فرق نہیں پڑتا۔ شریف خاندان کا بنیادی مقدمہ غلط ثابت ہوگیا اور مزید یہ کہ کیس جیتنے کے لیے انہوں نے جھوٹ بولنے اور عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جو ایک فوجداری جرم ہے اور اس کی پاداش میں عدالت نا اہلی سے بڑی سزا بھی سنا سکتی ہے۔ یہ بات بھی یقین کی حد تک ثابت ہو گئی کہ شریف فیملی کے لائف سٹائل اور آمدنی کے ذرائع میں بڑا فرق ہے۔ جمہوری ممالک میں یہ سنگین ترین الزام ہے اور اس پر یورپ اور امریکا میں بے شمار لوگ سزا پا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں مریضِ وعشقِ رسول ہوں - حبیب الرحمن

پانامہ لیکس کے حوالے سے دو جماعتوں کا کردار اہم رہا۔
جماعت اسلامی جو سب سے پہلے اسے سپریم کورٹ میں لے گئی۔ سراج الحق کا رویہ بہت مثبت اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف وہ مسلسل بات کرتے رہے، اور ایک لمحہ کے لیے بھی لچک پیدا نہیں کی۔ اہم بات یہ کہ جماعت اسلامی کو اچھی طرح علم ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس کا تحریک انصاف سے اتحاد ہونا مشکل ہے۔ مسلم لیگ ن ایک آپشن تھی جسے جماعت نے اپنے سخت اینٹی کرپشن رویہ کے باعث خود ضائع کیا۔ مولوی صاحب سے بھی ان کا اتحاد ہو سکتا ہے جو خود ”73 کے آئین کے تناظر میں“ حکمران جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ میڈیا جماعت کو اس کا کریڈٹ نہیں دے گا، مگر پانامہ کیس میں کرپشن کے خلاف اب تک جو کچھ بھی ہوا، اس میں جماعت کا مناسب حصہ ہے۔ انہیں سراہنا چاہیے۔
تحریک انصاف اور عمران خان کو البتہ زیادہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ عمران خان میں بہت سی سیاسی کمزوریاں ہیں، پے در پے سیاسی غلطیاں وہ کرتے ہیں، مگر یہ ماننا پڑے گا کہ عمران نے کرپشن کو قومی ایجنڈا بنا دیا۔ عربی شاعری میں ایسے کئی شہ سواروں کا ذکر آیا جو اکیلے ہی کئی ہزار شاہ سواروں پر بھاری تھے۔ عنترہ بھی ایسا ہی ایک شجاع جنگجو تھا۔ جنگ میں وہ شیر کی سی دلیری سے لڑتا، جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے قلب میں گھس جاتا اور صفیں کی صفیں الٹ دیتا۔ عمران نے ثابت کیا ہے کہ جنگجوئی، دلیری اور ڈٹ جانے کے اعتبار سے وہ آج کا عنترہ ہے۔ تن تنہا وہ کرپشن کے خلاف، ملک کے طاقتور ترین مافیاز سے نبرد آزما ہوا اور پانامہ لیکس کے معاملے کو اس انتہا پر لے آیا کہ شریف خاندان کے پاس آج منہ چھپانے کی جگہ نہیں بچی۔ ہمارے بہت سے تجزیہ کار، سوشل میڈیا کے بزعم خود نامی گرامی دانشور عمران خان کو بے وقوف قرار دیتے رہے، اسے زمینی حقائق جاننے کے مشورے دیتے رہے۔ عمران خان نے ان سب پر ثابت کر دیا ہے کہ کسی درست مقصد کے لیے ڈٹ جانے والے کی قدرت بھی مدد کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا خواجہ سراوں کے لئے بڑا اعلان

سب سے آخر میں مگر زیادہ روشن الفاظ میں عدالت عظمیٰ کو خراجِ تحسین پیش کرنا بنتا ہے۔ انصاف کرنا عدالتوں کا فرض ہے، لیکن سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بنچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ آنے والی نسلیں ان کے نام کے گیت گائیں گی۔ پہلے جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس گلزار اور پھر جے آئی ٹی کی نگرانی کرنے والے تینوں ججوں نے حکمران جماعت کے بے پناہ پروپیگنڈہ اور الزامات کو حوصلے سے برداشت کیا اور جے آئی ٹی کو بھرپور سپورٹ کیا۔ ہمارا ایک میڈیا ہاؤس البتہ بری طرح ایکسپوز ہوا۔ احمد نورانی جیسے صحافیوں نے اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے ہم صحافیوں کو شرمندہ کیا۔ ان کے دیگر ساتھی بھی تاریخ کی اس آزمائش میں اپنے صالح اور متقی ہونے کے دعووں کے باوجود ناکام ہوگئے۔ جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں ہے۔ قانون کے مطابق وہ کارروائی کرے گی۔ وزیراعظم نواز شریف کو اب مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں بچی۔ کسی اور رکن کو وزیراعظم بنا کر باقی مدت پوری کریں یا پھر نئے الیکشن کی طرف جائیں۔ نواز شریف صاحب کے پاس اب پاکستانیوں کا وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.