برہان وانی تجھے سلام - ایمان ملک

گزشتہ ایک برس سے جدوجہد ِآزادیِ کشمیر کو ایک نئی جلا ملی ہے اور اب یہ جدوجہد کشمیرکی وادیوں سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ نہتے کشمیری گزشتہ 7 دہائیوں سے بھارتی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر ان پر ہونے والے بھارتی فوج کے بہیمانہ مظالم انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو کبھی دکھائی ہی نہیں دیے۔البتہ گزشتہ برس سے اس صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ، جب بذریعہ انٹرنیٹ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ایک نئی لہر نمودار ہوئی، جو دنیا بھر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی۔اور جس کے روح رواں کوئی اور نہیں بلکہ برہان مظفر وانی شہید بنے، جن کی زندگی بھی مقبوضہ کشمیر پر ناجائز بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد سے عبارت تھی اور جن کی شہادت بھی کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں سب سے بڑے مظاہروں کے آغاز کا موجب بنی۔ اور یوں کشمیر کی اس تحریک آزادی میں ایک نیاجوش پیدا ہوا۔

یہ نوجوان کشمیری کمانڈر روز اول سے ہی بھارت کی آنکھوں میں اپنی ولولہ انگیز سوشل میڈیا تحریک کی وجہ سے کھٹک رہا تھا۔ وہ برہان وانی ہی تھا کہ جو کشمیر کی تحریک آزادی کو فروغ دینےکے لیے سوشل میڈیا کو نہایت احسن طریقے سے بروئے کار لایا نیز کشمیری نوجوان نسل کو بذریعہ ویڈیوز تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کر نے کی ترغیب دی۔ نتیجتاً 30 کشمیری نوجوان جنوبی کشمیر سے حزب المجاہدین کا حصہ بنے۔ علاوہ ازیں،یکم جولائی سنہ 2016ء کو فیس بک پر اپ لوڈ ہونے والی برہان وانی کی ایک فوٹو جس میں وہ دیگر دس مجاہدین کے ہمراہ بیٹھا تھا کشمیری نوجوانوں میں وائرل ہوئی اور یوں وہ رفتہ رفتہ نوجوان نسل کے دلوں میں گھر کرنے لگےاوربھارتی حکومت اس نئی سوشل میڈیا تحریک کے سامنے بالکل بے بس نظر آنے لگی۔

اس نئے ولولے اور جذبے کو بھارتی قابض فوج کی پیلٹ گنز، اندھا دھند فائرنگ روک پائیں اور نہ کرفیو ان کا کچھ بگاڑ سکا۔ بلکہ کشمیری نوجوانوں میں روز بروز آزادی کے لئےبڑھتی ہوئی طلب کے دبدبے سے مرعوب ہو کربھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکارہونے لگی۔ اُن کے اس بکھلاہٹ کے مناظر پوری دنیا میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز کی صورت میں دیکھے گئے۔ ایک ویڈیو میں کشمیری نوجوان کو بھارتی فوج کی جیپ کی بونٹ پر انسانی ڈھال بنے سب نے دیکھا۔ جبکہ دوسری ویڈیو جو وائرل ہوئی اس میں بھارتی فوجیوں کی سفاکیت کی مناظر پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیے کہ جس میں بزور طاقت کشمیری نوجوانوں کو پاکستان مخالف نعرے لگانے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ جبکہ بعض وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کشمیریوں کی پاکستان سے بے انتہا قربت و لگاؤ قابل دید تھا۔ایسی ہی ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر میں کھیل کی ایک مقامی ٹیم پاکستان کا پرچم اٹھائے، سبز وردی میں ملبوس پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی دکھائی دی۔

آج برہان وانی کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہو گیا ہے مگر پھر بھی برہان وانی کو بھارتی فوج مار نہیں پائی۔ بلکہ اب تو مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر سے برہان وانی نکل رہے ہیں۔ کیونکہ برہان وانی ایک سوچ کا نام ہے وہ سوچ ہے بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے سے "آزادی" کی۔ اس سوچ کو دن بدن مقبوضہ کشمیر میں ترویج مل رہی ہے۔

کشمیری نوجوان کمانڈر حزب المجاہدین برہان وانی کی یوم شہادت کے موقع پر بھی بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہی تھی اور اس موقع پر بڑے عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے اس نے کشمیری رہنماؤں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا تھا اورانہیں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، انٹر نیٹ سروس بھی مقبوضہ کشمیر میں معطل کر دی گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں ٹوئٹر انتظامیہ بھی بھارت کی حامی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ اس نے بھارتی دباؤ کے پیش نظر بڑی تعداد میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا پردہ چاک کرنے والے اور برہان وانی کی حمایت کرنے والے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔بلا شبہ ٹوئٹر انتظامیہ کے یہ اقدامات غیر منصفانہ اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کی کھلم کھلا حمایت کرنے کے مترادف ہیں۔ مگر کشمیری نوجوان ایسےبھارتی اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں اور ان کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ نئے اکاؤنٹس بنا کر بھارتی ریاستی دہشت گردی کو مسلسل بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

المختصر، کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا گردانا جاتا ہے اور ہمارے مظلوم کشمیری اور ہزاروں برہان وانی پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت دلانے کے لیے حکومت پاکستان کو مضبوط پالیسی وضع کرنی ہو گی۔ علاوہ ازیں، اب مسئلہ کشمیر کو تمام بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتے ہوئے بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */