جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد، چند سوالات - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پاناما کیس کے متعلق درخواستیں جب سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیں تو میں نے لکھا تھا کہ "مقامِ شکر تو یقیناً ہے!" کئی لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ (پشتو محاورے کے مطابق) ہوشیار پرندہ اس دفعہ واقعی پھنس چکا ہے اور وہ بھی دونوں ٹانگوں سے!

سچی بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ چکنے کے بعد ایوانِ اقتدار میں زلزلہ برپا ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے۔ اس بحث میں چند سوالات بار بار سامنے آرہے ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ان سوالات پر ایک خاص ترتیب سے مختصراً بحث کرکے قانونی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کریں۔

جے آئی ٹی رپورٹ کیا ہے؟
کئی لوگ اسے جے آئی ٹی کا "فیصلہ "سمجھ رہے ہیں۔ یہ فیصلہ نہیں بلکہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ ہے ۔ متاثرہ فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس رپورٹ کے مندرجات کے خلاف عدالت میں دلائل دے ۔ فیصلہ جے آئی ٹی نے نہیں کرنا تھا بلکہ فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ تاہم اتنی بات واضح ہوچکی ہے کہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے خلاف کافی مضبوط کیس بنالیا ہے ۔

کیا یہ سیاسی کیس ہے؟
عدالت نے پہلے ہی دن سے واضح کیا ہے کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی کیس ہے اور اس پوزیشن کو خود شریف خاندان بھی عدالت میں تسلیم کرچکا ہے کیونکہ اس نے عدالت کے اختیارِ سماعت کو بغیر کسی اعتراض کے تسلیم کیا تھا۔ اگر وہ اسے سیاسی کیس سمجھتے تو ان پر لازم تھا کہ وہ عدالت کے اختیارِ سماعت سے انکار کرتے۔

اس کیس میں اصل سوال کیا ہے ؟
اصل سوال تو یہی ہے کہ کیا شریف خاندان ، بالخصوص وزیراعظم ، نے کرپشن کی ہے یا نہیں لیکن اسی سوال کے نتیجے میں ایک اور اہم سوال عدالت کے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اپنے اثاثوں اور ذرائعِ آمدن کو چھپا کر وزیراعظم نے دستور کی دفعات 62 -63کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ اگر ہاں تو کیا وہ اس کے نتیجے میں نااہل ثابت ہوتے ہیں یا نہیں؟

اس کیس میں بارِ ثبوت کس پر ہے ؟
کئی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عام مقدمات کی طرح اس کیس میں بھی بارِ ثبوت مدعی پر ہے ، نہ کہ مدعا علیہ پر۔ ایسا نہیں ہے۔ ایک تو کرپشن کیس میں اصول اس کے برعکس ہے ۔ کرپشن کیس میں اصول یہ ہے کہ اگر صرف اتنا ثابت ہوجائے کہ بادی النظر میں (prima facie)ملزم کے اثاثے اس کے ذرائعِ آمدن سے زیادہ ہیں تو بارِ ثبوت ملزم پر آجاتا ہے کہ وہ ثابت کردے کہ اس نے اپنے ذرائعِ آمدن سے بڑھ کر اثاثے کرپشن کے ذریعے نہیں بنائے ۔ دوسرے یہ ان اثاثوں کے متعلق شریف خاندان، اور بالخصوص وزیراعظم ، نے مختلف مواقع پر وضاحتیں پیش کی ہیں اور بالخصوص عدالت میں اور جے آئی ٹی میں جو بیانات دیے اور جو دستاویزات پیش کیں ، ان کے متعلق بارِ ثبوت وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ پر ہی ہے کہ وہ ثابت کردیں کہ ان بیانات میں تضاد نہیں ہے ، نہ ہی ان میں کہیں جھوٹ بولا گیا ہے ۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے نون لیگ کے سپورٹرز سمجھ نہیں پارہے اور اسی وجہ سے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کی لیڈرشپ اتنی بوکھلائی ہوئی کیوں ہے!

یہ بھی پڑھیں:   سازش یا مکافات عمل؟ - نعیم احمد

وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں نتیجہ کیا ہوگا؟
جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ کیا وزیراعظم نے کرپشن کی ہے یا نہیں ؟ تو اس کا فیصلہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ متعلقہ قوانین کے تحت ٹرائل کورٹ کرے گی لیکن دستیاب مواد کی روشنی میں اگر سپریم کورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے ، اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اس مقصد کے لیے بہت زیادہ مواد ہے ، کہ شریف خاندان اور بالخصوص وزیر اعظم نے اپنے اثاثوں اور ذرائع ِ آمدن کے متعلق نہ صرف یہ کہ حقائق چھپائے ہیں بلکہ جعل سازی بھی کی ہے اور جھوٹ بھی بولا ہے ، تو اس کے نتیجے میں عدالت وزیراعظم کو دستور کی دفعات 62-63 کے تحت نااہل قرار دے سکتی ہے۔

دوسرے کرپٹ لوگوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہورہی؟
یہ سوال خلطِ مبحث کے لیے پیش کیا جاتا ہے ورنہ ہر کوئی جانتا ہے کہ زید کے خلاف قتل کا مقدمہ ہو تو زید یہ سوال نہیں اٹھاسکتا کہ بکر کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہورہی جبکہ اس نے بھی کسی دوسرے شخص کو قتل کیا تھا؟ دوسرے یہ کہ مبینہ کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری حکومت اور بالخصوص نیب کی ہے ۔ اگر حکومت اور نیب یہ کارروائی نہیں کررہیں تو اس کے لیے کسی اور کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔

آپ نے پہلے ہی سے کیسے یہ اندازہ لگایا تھا کہ کیس اس نتیجے پر پہنچے گا؟
اس کی وجہ سواے اس کے اور کچھ نہیں کہ میں نے اس کیس کا قانونی تجزیہ کیا اور کسی بھی وکیل کی طرح ، جس کے سامنے کیس آتا ہے، یہ دیکھا کہ کیس ہے کیا اور اس میں دونوں جانب سے کیا کیا دلائل دیے جاسکتے ہیں اور اس کے بعد اندازہ لگایا کہ کیس کس سمت جارہا ہے؟ اصل تنقیح طلب قانونی سوالات کیا ہیں؟ ان قانونی سوالات کے متعلق فریقین کا موقف کیا ہے اور ان کے پاس اپنے موقف کے حق میں کیا ممکنہ دلائل کیا ہیں؟ ان سوالات پر متعلقہ قانونی نظائر کیا ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر قانون دان کے سامنے ہر کیس میں ہوتے ہیں۔ کوئی بھی وکیل یہ نہیں کرتا کہ صرف اپنے دلائل اکٹھے کرے اور دوسری جانب کے دلائل کو یکسر نظرانداز کردے۔ لازماً اسے دوسری جانب کے دلائل دیکھنے ہوتے ہیں ، بلکہ ان کے لیے ممکنہ دلائل گھڑنے ہوتے ہیں اور پھر ان کے جواب سوچنے ہوتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم استعفٰی کیوں دیں؟ احسان کوہاٹی

امام سرخسی کے قانونی تجزیے دیکھیں۔ قانونی ذہن کی تربیت کے لیے ان سے بہتر کوئی چیز نہیں ۔ وہ فریقِ مخالف کا اتنا مضبوط کیس بناتے ہیں کہ بندے کو حیرت ہوتی ہے کہ ان اس کیس کو refute کیسے کیا جائے گا لیکن پھر وہ ایک ایک دلیل کو لیتے ہیں اور اس کی جوابی دلیل دیتے ہیں، اس کی کمزوری واضح کرتے ہیں اور اس کے خلاف اپنی دلیل دیتے ہیں، تب کہیں جاکے وہ اپنا نتیجہ سامنے رکھتے ہیں۔ جج نے بھی فیصلے میں دونوں جانب کے تمام اہم دلائل کا احاطہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے جج کے متعلق یہ فرض کرنا کہ اس نے پہلے ہی سے فیصلہ طے کیا ہوتا ہے اور بعد میں وہ اس کے لیے صرف دلائل چنتا ہے ، بہت بڑی غلط فہمی بلکہ سادہ فکری ہے ۔ البتہ جن لوگوں کا قانون کا پس منظر نہ ہو ، بالخصوص صحافت سے وابستہ افراد ، وہ اپنے فیلڈ کے خواہ بہت ماہر ہوں جب قانونی مسائل پر راے دینا شروع کرتے ہیں تو بسا اوقات وہ اصل قانونی سوالات نظرانداز کرتے اور غیر متعلقہ مسائل کو اہم سمجھ لیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عام زندگی میں وہی مسائل اہم ہوں جنھیں وہ اہم سمجھتے ہوں لیکن قانون کی عدالت میں ان کی وہ اہمیت نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے بصد ادب و احترام میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ قانونی مسائل میں صحافیوں کے تجزیوں پر بھروسا نہ کریں ، بالکل اسی طرح جیسے "غیر قانونی" مسائل میں قانون دانوں کے تجزیوں پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے ۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں