جی ایس ٹی: کشمیر، فلسطین بنتا جارہا ہے - ایس احمد پیرزادہ

ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ڈرامائی شورشرابے، ہنگامے اور واک آؤٹ کے ساتھ ہی مخلوط حکومت نے حسب توقع گزشتہ دنوں جی ایس ٹی بل پاس کیا۔ اسمبلی کی منظوری کے ساتھ ہی جی ایس ٹی ریاست جموں وکشمیر میں لاگو ہوگیا، جس پر نہ صرف جموں وکشمیر میں بلکہ ہندوستان بھر میں بھی کافی بحث و مباحثہ چل رہا ہے۔ چند ریاستوں اور وہاں کے تجارتی انجمنوں نے بی جے پی حکومت کے اس اقدام کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت نے تو بھارت کی مرکزی حکومت کے خلاف محاذ ہی کھول دیا ہے اور اس قانون کے خلاف وہاں کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کھل کر اپنے اداروں اور جذبات کا اظہارتک کردیا ہے۔دیگر کئی ریاستوں میں بھی اس نئے ٹیکس سسٹم کے خلاف بڑے بڑے جلوس برآمد ہوئے ہیں۔یہ تو ہندوستان کی اْن ریاستوں کی بات ہے جن کے ساتھ لفظ "متنازع" جڑا ہوا نہیں ہے۔

جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کا تعلق ہے، یہ متنازع خطہ بھی ہے اور ہندوستا ن کے آئین میں اس ریاست کو دفعہ370 کی صورت میں خصوصی پوزیشن بھی حاصل ہے۔اس لیے یہاں دلّی کے ہر اْس قانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے جس کا اطلاق دیگر ریاستوں میں باآسانی ہوجاتا ہے۔بی جے پی سرکار نے جی ایس ٹی کی آڑ میں "ایک ملک، ایک ٹیکس" کا نعرہ دے کر ریاستوں کی مالی خودمختاری کو بڑی حد تک کم کرنے کی یہ ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ اس نظام ٹیکس کے ذریعے سے ریاستوں کے مالی معاملات کا انحصار زیادہ سے زیادہ ہندوستان کی مرکزی حکومت کے تابع رہے گا۔گویا ریاستی حکومتیں بالخصوص وہ حکومتیں جو پہلے سے ہی کمزور مالی حالت کی وجہ سے دلی کے سامنے کشکول پھیلانے کی عادی ہیں، اب نیا ٹیکس نظام نافذالعمل ہونے سے مزید دلی کی محتاج ہوجائیں گی اور آنے والے وقت میں دلّی سرکار ایسی ریاستی سرکاروں کو اپنے اشاروں پربآسانی رقص کراسکتی ہے۔

جہاں تک ریاست جموں وکشمیر کا تعلق ہے، یہ ایک متنازع خطہ ہے، ہندوستانی آئین میں بھی اس ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ دفعہ 370 جو اب برائے نام ہی رہ گیا، ہے وہ حصار تھا جو بڑی حد تک تہذیبی، تمدنی اور انسانی یلغار کو روکے رکھا ہوا تھا۔دفعہ370 فرقہ پرست اور کشمیر مخالف طاقتوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے خار کی طر ح کھٹکتارہا ہے۔ اس دفعہ کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حربے استعمال میں لائے گئے۔تاحال دفعہ 370 پر وار جاری ہیں جس میں سے ماہرین کے مطابق ایک ریاست میں جی ایس ٹی لاگو کرنا بھی ہے۔

یہ قانون کیا ہے اور اس کے اطلاق سے ریاست کو کون کون سے مالی فائدے حاصل ہوجائیں گے؟ اس پر بحث کرنا یہاں مقصود نہیں ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ اگر قانونی ماہرین یہ مانتے ہیں کہ جی ایس ٹی سے کشمیر کی خصوصی پوزیشن بری طرح سے متاثر ہوگی، اگر یہاں کی تجارتی انجمنیں چِلا چِلا کرکہتی تھیں کہ جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کا مطلب ریاست کے مالی مفادات کو کوڑیوں کے دام نیلام کرنے کے برابر ہے، اگر مزاحمتی و ہند نواز سیاست دان تک یہ کہتے رہے کہ اس قانون کے ذریعے سے دلّی کے قبضے کو دوام بخشا جارہا ہے اور جی ایس ٹی کے ذریعے سے ریاست کو زیادہ سے زیادہ سیاسی و مالی اعتبارات سے مجبور، مقہور اور محکوم بنایا جائے گا تو پھر کیوں پی ڈی پی سرکار نے عجلت میں یہ ریاست دشمن فیصلہ لے کرعوامی مفادات کا خیال نہیں رکھا؟

المیہ یہ ہے کہ جس ریاستی وزیر خزانہ نے ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ پر سب سے زیادہ کام کیا ہے اور شاہ سے بھی زیادہ وفادار بن کر جی ایس ٹی کے حوالے سے یہاں دلی کی خواہش کو پورا کیا،2008ءمیں جب اْس وقت کی سرکار نے اس قانون کے نفاذ کے لیے یہاں سرگرمیاں شروع کی تواْن دنوں "گریٹر کشمیر" میں ان موصوف کے کئی مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں ریاست میں جی ایس ٹی لاگو کرنے کے نقصانات کا تفصیلی تذکرہ کیا گیاتھا۔ اْن دنوں یہ صاحب ماہر معاشیات کی حیثیت سے مذکورہ انگریزی روز نامہ میں لکھا کرتے تھے۔ اپنے اْن مضامین سے انہوں نے ثابت کردیا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے نہ صرف ریاست جموں و کشمیر کی مالی خود مختاری متاثر ہوگئی بلکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے تابوت میں جی ایس ٹی آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے۔سیاست، لالچ اور مفادات کس حد تک انسان کی ذہنیت تبدیل کرتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ریاست کے وزیر خزانہ حسیب درابو اپنے گزشتہ مؤقف سے بالکل متضاد مؤقف اختیار کرکے جی ایس ٹی کو ریاست کی ترقی کا واحد ذرایعہ اور راز قرار دیتے ہیں۔

ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جی ایس ٹی پر عوام، ٹریڈرس اور ماہرین کے تحفظات کو دور کرنے اور عوام کو یہ یقین دلانے کہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا، کے بجائے بڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ کہتی ہیں کہ "میں نے (جی ایس ٹی لاگو کرکے )پورے ملک(بھارت) کو ناامیدنہیں کردیا۔" اْنہوں نے جی ایس ٹی لاگو کرنے کو جنگ میں فتح حاصل ہونے سے تعبیر کیا ہے۔خود وزیر خزانہ نے برملا کہا دیا ہے کہ دفعہ 370 ریاست کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ المیہ ہے کہ جس عوام کے ووٹ سے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، جن لوگوں کے مفادات کی آبیاری کے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، اْسی عوام کے مجموعی مفادات پر شب خون مار کردلّی کی خوشی کا سامان کیا جارہا ہے۔ یہ سب اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے کیا جارہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کس طرح خودکشمیریوں میں سے ہی ہر دور میں ایک مخصوص اقتدار نواز ٹولے نے نکل کر اس ریاست کی آزادی اور خودمختاری کو سستے داموں دلّی کے ہاتھ فروخت کردیا ہے۔خصوصی پوزیشن وہ تھی جب یہاں کا آئین الگ تھا، ریاست کا جھنڈا الگ تھا اور یہاں وزیر اعلیٰ کے بجائے وزیر اعظم ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان سے آنے والے لوگوں کو ریاست میں داخل ہونے کے لیے باضابطہ(اجازت نامہ) پرمٹ حاصل کرنا پڑتا تھا۔ ہندوستانی پرچم کو ریاست کے حدود میں لہرانے کی اجازت نہیں تھی۔پھر آر ایس ایس کے فکری رہنما شاما پرشاد مکھرجی اپنی زندگی کے آخری حصے میں "ایک پردھان، ایک ودھان اور ایک سمبے دان " کا نعرہ دے کر ریاست کی اٹونامی مخالفانہ یاترا کر تاہے۔ ریاستی حدود میں داخل ہوتے ہی اْنہیں از روئے قانون گرفتار کرلیا جاتا ہے اور پھر اْن کی جیل میں ہی طبعی موت واقع ہوجاتی ہے۔ پھر تاریخ نے بتدریج دیکھ لیا کہ کس طرح سازش کے تحت پہلے انٹری پرمٹ سسٹم ختم کروایا گیا، بعدازاں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ وزیر اعظم کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا، صدر ریاست گورنر کہلایا، الیکشن کمیشن آف ا نڈیا کا دائرہ ریاست تک پھیلا یا گیا، سپریم کورٹ کے حدود کار میں ریاست کو لایا گیا، ریاست کے حدود میں ہندوستانی پرچم لہرانے کو لازمی قرار دیا گیا اور دیگر مرکزی قوانین کو دھڑادھڑ یہاں درآمد کیا گیا۔اْس وقت یہ تمام اقدامات قبول کرنے والے کشمیر ی مفاد پرست حکمران تھے بلکہ ان کے ہاتھوں یہ تمام "کار خیر " انجام دیے گئے۔ غلام محمد صادق نے بحیثیت وزیراعظم حلف لیا مگر بہت جلد دلّی کے کہنے پر چیف منسٹر بننے کی حامی بھرلی۔ رہی سہی کسر 75ء کے اکارڈ کے پیش نظر اور پس منظر میں شیخ محمد عبداللہ نے نکالی، انہوں نے کرسی پر براجمان رہنے کے لیے دلّی کی کون کون سی ڈکٹیشن من وعن تسلیم نہ کی۔ لینڈ گرانٹس بل ریاست کی خصوصی پوزیشن کے سینے میں انہی کا گھو نپا ہو اخنجر ہے۔ اصل میں کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر کاری ضرب اْسی وقت لگا نا شروع کردی گئی تھی جب یہاں پر اغیار کو آنے جانے کے لیے پرمٹ سسٹم یا پروانۂ راہداری بیک جنبش قلم دہلوی سیاست کے شہسواروں نے ختم کردیا، اب جی ایس ٹی نے اس کا گلا پوری طرح دبایا۔ بے شک ہندوستانی آئین میں دفعہ370 موجود ہے لیکن زمینی سطح پر یہ ایک ڈھکوسلا بنا دیا گیا ہے، بدیں وجہ یہاں غیر ریاستی باشندے نہ صرف مقیم ہیں بلکہ وہ یہاں کی اسٹیٹ سبجیکٹ بھی رکھتے ہیں اور یہاں اْنہوں نے کافی جائیدادیں بھی بنالی ہیں۔جموں کے ریاسی اور کٹھوعہ اضلاع کے علاوہ پنجاب سے ملنے والی سرحدی علاقوں میں دیکھ لیجئے ہزاروں لوگ ایسے مل جائیں گے جو ریاستی باشندے نہ ہونے کے باوجود ریاستی شہریوں سے زیادہ مراعات حاصل کرنے والے ہوں گے۔اس کے برعکس اِن ہی علاقوں میں ریاست کے مستقل باشندوں کو جنگلاتی اراضی کے نام پر اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ اْن کی خطاء صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

کٹھ پتلی سرکاروں نے وقت وقت پر یہاں ایسی قانون سازیاں یا صحیح ترالفاظ میں سیاسی قلابازیاں کی ہیں جن کے ذریعے سے آئین کی کتاب میں دفعہ370 کی موجودگی کے باوجود ایسی چور راہیں نکالی گئیں جن کے ذریعے سے غیر ریاستیوں نے یہا ں پر ہر محاذ پر بطرز فلسطین غلبہ پالیااور جن کے ذریعے ریاست میں دلی کی اجارہ داری قائم ہوئی ہے۔ لیز پر سو سال تک زمین فراہم کرنے کا قانون کس نے بنایا؟ آج جتنے بھی بڑے بڑے فوجی کیمپ یہاں موجود ہیں اْنہیں زمین کس نے فراہم کی؟ بڑے بڑے ہوٹل جن کے مالکان غیر ریاستی ہیں اْنہیں لیز پر زمین فراہم کرنے والے یہاں کے یہی ہند نواز حکمران ہیں۔یہاں کے آبی وسائل کو کس نے کوڑیوں کے دام نیلام کردیا ہے؟ آج این ایچ پی سی کو سالانہ ہزاروں کھرب روپے یہاں کے آبی وسائل سے حاصل ہوجاتے ہیں، جس کا عشرعشیر بھی ریاست کو نہیں ملتا ہے۔یہ گھاٹے کا سودا کس نے کیا اور کیوں کیا؟ محض اقتدار کی کرسی پر براجمان رہنے کے لیے عوامی مفادات کا سودا کیا جاتا رہا ہے۔صحت افزاء مقامات پر غیر ریاستوں کو زمینیں سو سال کے لیے فراہم کی گئیں ہے۔ دلّی سرکار کے مرکزی پروجیکٹوں پر یہاں بڑے پیمانے پر کام ہورہا ہے، ہمیں یہ سوچنے ہی نہیں دیا جارہا ہے کہ آنے والے وقت جب یہ پروجیکٹ مکمل ہوجائیں گے بیرون ریاست کے کتنے لوگ مستقل بنیادوں پر یہاں منتقل ہوجائیں گے۔یہاں بانہال سے بارہمولہ تک جو ریلوے لائن بچھائی گئی ہے، اْس کے ہر سٹاپ پر ایک ایک کالونی تعمیر کی گئی ہے، اْن کالونیوں میں کن کو بسایا جارہا ہے؟ ہزاروں کنال اراضی ان کالونیوں کے نیچے آچکے ہیں اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ آنے والے برسوں میں ریلوے کے ساتھ جڑے ہزاروں غیر ریاستی لوگ یہاں رہائش کے لیے منتقل ہوجائیں گے۔

اسمبلی کے اند رخصوصی پوزیشن کو روندنے اور مسلنے کے لیے ہمیشہ ڈھونگ رچائے جا تے ر ہے ہیں۔ یہاں مل بیٹھ کر اور پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ کئی بار ڈرامہ بازیاں کی جاتی رہی ہیں۔ یہاں دکھاوے کی بحثیں ہوتی ہیں، لڑائی جھگڑوں کے سوانگ ہوتے ہیں۔ حالانکہ دلی کے مفادات کی آبیاری کرنے کے لیے یہاں موجود ہر کوئی فرد بشر ایک کلاس فورتھ یا ڈیلی ویجر ملازم کی طرح ڈیوٹی کرتا ہے۔اسمبلی میں کیا جانے والا یہ ڈھونگ ریاستی عوام نے پہلے بھی دیکھا ہے، آج جی ایس ٹی کے موقع پر بھی میچ فکسنگ کا نظارہ کیا۔چند سال قبل جب کشمیری لڑکیوں کی بیرون ریاست شادیاں کرنے پر اْنہیں یہاں جائیداد سے محروم کرنے کے لیے اسمبلی میں ایک بل لایاگیا تو اْس وقت بھی اسی طرح کا ڈرامہ کیا گیا۔ ایک جماعت نے اسمبلی میں بحث کی، دوسری نے اسمبلی کا بائیکاٹ کیا، کچھ آزاد ممبران اور چھوٹی جماعتوں نے شور شرابہ کرکے بل پر ووٹنگ ہی نہیں ہونے دی۔ بالآخر وہ بل بغیر ووٹنگ کے ہی ناکام ہوگئی۔ بعد میں یہ خبریں بھی پڑھنے کو ملی ہیں کہ اس بل کو ناکام بنانے کے لیے دلی کی کچھ لابیاں سرگرم ہوئی تھیں جن کے ایماء پر اسمبلی کے اندر یہ ڈرامے بازی کی گئی۔ جی ایس ٹی کے حوالے سے بھی یہی ڈرامہ بازی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہاں حکمران اور اپوزیشن سب اس بارے میں ایک ہی صفحے پر کھڑے تھے۔ مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے قبل از وقت انکشاف کیا تھا کہ پانچ چھ دنوں میں ریاست میں جی ایس ٹی کا نفاذ ہوگااور یہی ہوابھی۔ حکمران جماعتوں اور اپوزیشن میں دہلوی اسکرپٹ کے تحت ڈرامہ بازی میں اْن کے رول الگ الگ تھے اور پہلے سے ہی تیار شدہ پلاٹ کے تحت اس بل کو پاس ہونا تھا اور اس کا اطلاق ریاست پر ہونا تھا، سو وہی ہوا۔

یہ واک آؤٹ کی سیاست کا کھیل پوری کشمیری قوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کھیل کے پیچھے مقاصد کو دیکھنے کی ضرورت ہے، یہ دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اسمبلی میں موجود ممبران چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کشمیریوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی اعتبار سے بہت کچھ کرسکتے ہیں، اس کے باوجود بھی یہ واک آؤٹ کرکے اپنے آپ کو بے بس کیوں ثابت کرتے ہیں؟ کیوں یہ محض زبانی جمع خرچ کرکے یہ احساس دلاتے ہیں جیسے وہ آسمان سے تارے توڑنے والے تھے یا بہت کچھ عوام کا بھلاکرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اقتداری کرسی میں نہ ہونے کے سبب کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔دراصل یہ لوگ دلی کے سجائے ہوئے شطرنج کے مہرے ہیں، اِنہیں کھیل کا بینڈماسٹر جس طرح کی دْھن سے بھی استعمال کرنا چاہے، یہ اْسی طرح استعمال ہوتے رہیں گے، باقی انہیں کشمیری عوام کے مجموعی مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ کشمیری قوم کی بدقسمتی ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ خلوص اور للٰہیت اور قوم کی خیرخواہی سے کوسوں دور ہیں۔ اْن کی ممبری مادی مفادات کے اردگرد گھومتی ہے۔ اپنے نفس اور کرسی کی اْنہیں ہر وقت فکر دامن گیر رہتی ہے، باقی عوام کا کیا بنے گا، مستقبل کیا ہوگا؟ ا س سے اْنہیں کوئی سروکار نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عام کشمیری ان تمام سازشوں، عیاریوں اور مکاریوں کو سمجھیں تاکہ مستقبل میں ایسے عوام دشمن لوگوں سے بچا جاسکے۔