آن لائن خریداری گائیڈ - صبیح احمد

پاکستان میں اس وقت زیادہ تر لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کا مطلب ہے فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور کسی حد تک ٹوئٹر۔ ان سب میں سب سے منفرد فیس بک ہے کیونکہ یہاں پوری ایک الگ دنیا آباد ہے۔ ہر شخص اپنی الگ دکان لگائے بیٹھا ہے، داخل ہوں تو اندازہ ہوتا کہ دکان عطر کی ہے یا کوئلے کی۔ لیکن آج کا موضوع وہ لوگ ہیں جو فیس بک پر اصلی کی دکان لگا کر بیٹھے ہیں اور اپنی چیزیں بیچ رہے ہیں ۔

آن لائن خریداری، ای کامرس کی ایک قسم ہے جس میں صارف گھر بیٹھے اپنی من پسند چیز خرید سکتا ہے چونکہ انسان سہل پسند واقع ہوا ہے اس لیے اس آن لائن شاپنگ والے آئیڈیے کو بہت پذیرائی ملی۔ مائکل ایلڈرچ( 1979) وہ ذہین دماغ تھا جس نے پہلی بار ٹیلی شاپنگ کا خیال پیش کیا اور صرف خیال ہی پیش نہیں کیا بلکہ پورا سسٹم بھی ڈیزائن کیا، موجودہ آن لائن شاپنگ اسی کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔

جیسے ہر کاروبار کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں اور یہی اصول ہی کاروبار کی کامیابی یا ناکامی طے کرتے ہیں آن لائن شاپنگ کی اگر بات کی جائے تو یہ آج کی دنیا کے چند بڑے ترین کارباروں میں سے ایک ہے۔ باقی دنیا میں تو اس حوالے کافی قوانین موجود ہیں اور مستقبل کافی روشن ہے ایک سروے کے مطابق ہر تین میں سے ایک امریکی کسی نہ کسی آن لائن اسٹور کا خریدار رہ چکا ہے ایک اور سروے کے مطابق ہر 100 میں سے 72 نوجوان چیز خریدنے سے پہلے اسے انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہیں اور آن لائن اسٹورز دیکھتے ہیں ۔ علی بابا، ایمیزن اور ای بے دنیا کی کامیاب ترین ای کامرس ویب سائٹس میں سے ہیں اور ہر سال کروڑوں لوگ یہاں سے خریداری کرتے ہیں ۔ ہر سال اس تعداد میں تقریباً فیصد 11 اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ای کامرس کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ چیزوں پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اول تو یہاں پر کوئی بڑا سسٹم موجود نہیں ہے جو کہ مارکیٹ ٹرینڈ سیٹ کرتا ہو اور چھوٹے سسٹم اس کی پیروی کرتے ہوں پھر چھوٹی ای کامرس سائٹس کی مانیٹرنگ مشکل کام ہے۔ دوسری وجہ کنزیومر رائٹس کا نہ ہونا یا غیر فعال ہونا ہے۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو آن لائن شاپنگ میں دھوکہ دہی کی صورت میں شکایت کا فوری ازالہ کرے۔

فیس بک کے عام ہونے کے ساتھ ہی آن لائن شاپنگ نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ فیس بک کو پیسے دے کر آپ اپنے پیج یا سائٹ کو پروموٹ کروا سکتے ہیں جو کہ اشتہار کی صورت میں لوگوں کی ٹائم لائن پر نظر آتا ہے۔ اس کے پیچھے بھی پوری سائنس ہے کہ فیس بک آپ کو صرف وہی چیزیں دکھاتا ہے جو آپ اصلی زندگی میں پسند کرتے ہیں اور خریدنا چاہتے ہیں، اسے ٹیکنالوجی کی زبان میں 'فلٹر ببل' (filter bubble) کہا جاتا ہے۔ اب زیادہ تر لوگ اب براہ راست ویب سائٹ کھولنے کے بجائے فیس بک پر موجود اس کا تھمب نیل دیکھ کر کلک کرتے ہیں اور ویب سائٹ پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھمب نیلز ایسے بنائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا تجسس یا شوق سے مجبور ہو کر ان پر کلک کردے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں اس چیز کو اچھا نہیں مانا جاتا اور کلک بیٹ (click bait) کہا جاتا ہے یعنی ایسا چارا( bait) جو کلک حاصل کرنے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والے بھی اس تکنیک کو استعمال کرتے ہیں اور صارف کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

یہ بھی پڑھیں:   پوری دنیا کو مفت انٹرنیٹ دینے کا اعلان

دوبارہ سے اپنے موضوع کی جانب آتے ہیں، پاکستان میں انٹرنیٹ کے صارفین کی اکثریت انٹرنیٹ سے بہت زیادہ واقفیت نہیں رکھتی اس لیے وہ صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو اس کو سامنے نظر آ رہا ہے جب کہ حقیقت بالکل مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے اگر آپ فیس بک پر کوئی ایڈورٹائزمنٹ یا ویڈیو دیکھ کر کوئی چیز خریدنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو مندرجہ ذیل چیزیں دھیان میں رکھیں

1 ۔ ریسرچ

اس بات کی تحقیق کریں کہ جو چیز آپ خریدنے جا رہے ہیں وہ عام مارکیٹ میں دستیاب ہے کہ نہیں۔ اس پروڈکٹ کا نام گوگل سے سرچ کریں اس سے آپ کو اس کی قیمت اور وہ چیز با آسانی ہر جگہ میسر ہے یا نہیں، اس کا اندازہ ہوگایا اگر تھوڑی محنت کر کے کسی بڑے سوپر اسٹور کا چکر لگا سکتے ہیں تو لگا لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہی چیز آپ کو کم قیمت میں مل جائے گی اور مزید آپشنز بھی مل جائیں گے۔ بالخصوص اگر آپ نے کچن یا الیکٹرانک اشیاء لینی ہوں ۔

2۔ بڑی کمپنی کی اشیاء کی خریداری

اگر آپ کو کسی نامی گرامی کمپنی کی کو چیز خریدنی ہو تو براہ راست اس کمپنی کی ویب سائٹ کو وزٹ کریں اب تقریباً تمام بڑی کمپنیز اپنی مصنوعات کی خرید اور ہوم ڈلیوری تک کی سہولت دے رہی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کم از کم ان کی ویب سائٹ پر آپ کو ان کے مقررہ اور بااعتماد ڈیلرز کا ضرور معلوم ہو جائے گا کوشش کریں کہ ان سے ہی خریدیں ۔

3۔ فیس بک پیج

یہاں سے اصل کام شروع ہوتا ہے، سب سے پہلے جس پیچ پر آپ کو اشتہار نظر آئے اس کا جائزہ لیں، اس کے reviews اور وہاں لوگوں کے کمنٹس دیکھیں (اگرچہ کہ ان چیزوں میں بھی ردوبدل کیا جا سکتا ہے) اس کے بعد یہ دیکھیں کہ اس پیچ سے منسلک کوئی ویب سائٹ ہے یا صرف پیچ سے ہی کام چلایا جا رہا ہے؟ تیسرا یہ کہ کیا کوئی دکان بھی ہے؟ ( یہ عموماً میسج کر کے ایڈمن سے پوچھنا پڑتا ہے) اگر ہے تو بہت اچھی بات ہے۔

ہمیشہ حقیقی( original) تصویر پر اصرار کریں کیونکہ زیادہ تر پیجز گوگل سے ڈاؤنلوڈ کر کے تصاویر لگاتے ہیں۔ یہ تمام تصاویر باقاعدہ طور پر مخصوص روشنی اور زاویوں سے بنائی جاتی ہیں اور دیکھنے والے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہیں اس لیے موبائل سے کھینچی گئی تصویر سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ اصل میں یہ چیز کیسی ہے؟

فراڈ کر کے خراب اور گھٹیا معیار کی چیزیں فروخت کرنے والے پیجز عموماً اس یوزر کو جو پوسٹ پر آکر کمنٹ کرتا ہے اسے بلاک کر دیتے ہیں چنانچہ اس ایڈ پر جا کر کمنٹ کر کے پوچھ لیں کہ جس نے یہ چیز لی ہے وہ اپنا تجربہ شیئر کرے یا وہاں موجود کسی کو میسج کر کہ پوچھ لیں ( اگر آپ خاتون ہیں تو بھائی یا میاں کی آئی ڈی سے میسج کریں، آگے آپ خود سمجھدار ہیں 🙂 )

یہ بھی پڑھیں:   پوری دنیا کو مفت انٹرنیٹ دینے کا اعلان

4 ۔ خریداری کا فیصلہ

اگر آپ کوئی چیز لینے کا پکا فیصلہ کر چکے تو پیچ ایڈمن کو یہ بات اچھے طریقے سے باور کروا دیں کہ اگر بھیجی گئی پروڈکٹ، دکھائی گئی پروڈکٹ سے مختلف یا خراب نکلی تو آپ سوشل میڈیا کے بڑے گروپس اور پیجز پر اس معاملے کو اٹھائیں گے نیز اس کی شکایت FIA کو بھی کی جائے گی جس سے اس کی ساکھ خراب ہو گی ۔ جہاں تک ممکن ہو Cash on delivery کا آپشن استعمال کریں۔

5 ۔ او ایل ایکس سے خریداری کی صورت میں

او ایل ایکس(OLX )بھی خاصی معروف خرید و فروخت کی ویب سائٹ ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس ویب سائٹ پر کوئی بھی اپنی آئی ڈی بنا کر کسی بھی چیز کو فروخت کرنے کا اشتہار ڈال سکتا ہے۔ اس کو زیادہ تر لوگ اپنی استعمال شدہ اشیاء جو کہ اچھی حالت میں ہوں، بیچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں , چنانچہ دوسری طرف بھی آپ کے جیسا کوئی شخص ہو سکتا ہے جس کی باقاعدہ کوئی دکان یا کاروبار نہ ہو اور وہ پرانی چیز فروخت کر کے نئی حاصل کرناچاہ رہا ہو لیکن یہاں بھی دھوکے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ کوئی چیز خریدنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو منہ اٹھا کر چیز خریدنے نہ چلے جائیں بلکہ ڈیل کسی ایسی جگہ کریں جہاں سیکورٹی کا مناسب انتظام ہو۔ اس کے لیے کسی بھی بڑے شاپنگ مال کا فوڈ کورٹ بہترین جگہ ہے۔ وہاں پر اے ٹی ایم مشین سے آپ اسی وقت پیسے نکال کر بھی دے سکتے ہیں ۔ اگر آپ یہ دیکھیں کہ کوئی بہت مہنگی چیز سستے میں بک رہی ہے تو یہ بھی مشکوک کیس ہے۔ لالچ میں آنے کے بجائے اچھی طرح اطمینان کر لیں اور اگر شک ہو کہ یہ جھوٹ پر مبنی ایڈ ہے تو فوراً اس کو رپورٹ کریں ۔

دھوکے کی صورت میں:

عموماً اشیاء ٹی سی ایس یا لیپرڈز کوریئر کمپنی کے ذریعے آتی ہیں۔ کمپنی پالیسی کے مطابق آپ پیسے دینے سے پہلے پیکٹ کھول کر نہیں دیکھ سکتے اس لیے اس معاملے میں ڈلیوری بوائے سے بحث فضول ہے وہ چیز آپ تک لانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور کمپنی پالیسی کا پابند ہے، اگر پروڈکٹ گھٹیا معیار کی یا خراب ہو تو پیج پر کمپلین درج کروائیں اگر آپ کو بلاک کر دیا جائے یا آپ کی شکایت پر کان نہ دھرا جائے تو سمجھ لیں آپ کے ساتھ دھوکا ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے موبائل سے ایک عدد ویڈیو بنا کر جس میں اس پیج کا نام، دکھائی گئی چیز اور بھیجی گئی چیز واضح ہو، سوشل میڈیا پر اپلوڈ کریں ۔ کچھ گروپس اور پیجز اسی کام کے لیے مختص ہیں، ان سے رابطہ کر کے ان سے وہ ویڈیو شیئر کروائیں تا کہ دوسرے لوگ بچ سکیں ۔ اس کے علاوہ آپ ایف آئی اے کو بذریعہ ای میل اس کی شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

اگر آپ نے کبھی آن لائن کوئی چیز خریدی ہے تو آپ کا تجربہ کیسا رہا اس بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیجیے۔