تجزیہ درست نہ ہو تو کبھی حل نہیں ملتے - اختر عباس

حادثہ احمد پور شرقیہ کا ہو یانواب شاہ کا،پہلی بار نہیں ہو رہے، ان کی ایک مسلسل اور تواتر کے ساتھ خبریں بار بار متوجہ کرتی رہیں مگر ہم ہی مان کر نہیں دیے۔ یوں متوجہ کرانے کے لیے 200 سے زائد سوختہ جانوں کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ ایسے حادثوں کے بعد ہمیں نیند کیسے آجاتی ہے؟ یہ درست ہے کہ مرنے اور جلنے والوں کی حکومتی سطح بروقت مالی اور طبی امدد کر دی گئی مگر کیا اسے ہی کامیابی اور مرنے والوں کے غموں کا مداوا سمجھ کر زندگی کو ٹریفک کے وسیع سمندر میں لالچ اور نہ ختم ہونے والی طمع کے ہتھیاروں کے ساتھ سمندر میں اگلے حادثے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے؟ ذاتی طور پر ہماری حساسیت بلکہ بے جا حساسیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے گھروں کی دونوں طرف بے ہودہ قسم کے غیر قانونی سپیڈ بریکر بنانے سے باز نہیں رہ سکتے اور یہ احتیاط کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ ایسے بڑے حادثوں کے بعد اشک شوئی کے لیے عدالتیں انصاف دینے کی کوشش تو کر سکتی ہیں، لیکن انسانی معاملات اور مسائل کا حل ان کے دائرہ کار میں بہرحال نہیں ۔ بہت ہوا تو غصہ کا اظہار کریں گی، دو چار لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر نوکریوں سے برخواست اور معطل کردیں گی مگر اس سے نہ تو چینی کی قیمت کم ہوتی ہے اور نہ ہی حادثے رکتے ہیں۔ عدالتی احکام سے گرنے والی عمارتیں بھلا گرنے سے کیوں رکنے لگیں ؟

ایسا نہیں ہے کہ ہم بطور قوم سوچنے اور حل نکالنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو گئے ہیں۔ موٹر وے پولیس اور اس کے سارے قوانین اور پریکٹسز ہمارے ہی اداروں اور جوانوں کے ہاتھوں لگ بھگ تین دہائیوں سے اس قوم کو بحفاظت سے سفر کروا رہے ہیں۔ اب جو عدالت کے روبرو بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے ٹرالر کے ٹائر کم تھے، اس کا لائسنس یا پرمٹ ایکسپائر ہو چکا تھا، ڈرائیور اکیلا تھا، اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی، اس کے ساتھ کوئی معاون ڈرائیور نہیں تھا،اس میں زیادہ پٹرول تھا۔لمحہ بھر کو رک کر دیکھا جائے تو ان میں سے تو حادثے کی وجہ کوئی ایک چیز بھی نہیں بنی۔ ٹرالر بے احتیاطی سے ڈرائیونگ کرتے بس ڈرائیور کو بچاتے بچاتے الٹ گیا تھا۔ پھر جس موٹر وے پولیس کوالزام دیا جارہا ہے اس کا کام ٹریفک کو رواں رکھنا ہے۔ 12 کلو میٹر کے متعین علاقے میں ڈیوٹی کرنے والے دونوں افسر تو وہاں پہنچ گئے تھے، انہوں نے ٹریفک بھی بحال رکھی مگر وہ اس عوامی حملے کا کیا کرتے جو اچانک ہو گیا تھا؟ یہ دوچار لوگ نہیں تھے اڑھائی تین سو لوگ تھے جو بالٹیوں بوتلوں اور ڈرموں سے "مسلح" تھے۔ اب ہمیں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ انہیں لالچی نہ کہو، انہیں حملہ آور نہ کہو،ان سو کے لگ بھگ موٹر سائیکلوں کے مالکوں کو الزام نہ دو۔ یہ غربت کے مارے تھے گھروں میں پٹرول سے چلنے والی چیزیں نہ تھیں مگر دیکھا دیکھی پٹرول جمع کرنے سے اپنے آپ کو نہ روک سکے، جلنے والے موٹر سائیکل اور کاروں والوں کا نام بھی احترام سے لو، جو بوتلیں لے کر بہتی گنگا میں اشنان کرنے آئے تھے۔ ان میں بیمار بھی تھے، بچے بھی اور عورتیں بھی وہ کسی ایک گاؤں کے باسی نہ تھے، قریبی علاقے کے ہر گاؤں سے سواریوں پر آئے تھے۔ ایک چنگ چی والے نے بڑی ڈھٹائی سے بتا یا کہ میں پہلے ہلّے میں کئی گیلن پٹرول گھر چھوڑ آیا تھا، آتے ہوئے جو بارہ افراد میرے ساتھ آئے تھے وہ سارے جل گئے میں بڑی مشکل سے بھاگا۔ یہ سبھی لوگ صبح صبح نماز، روزے، تسبیح یا سیر کے لیے بیدار نہیں ہوئے تھے جس جس کو خبر ہوئی اس اس نے جا جا کر اپنے پیاروں کو اس لوٹ مار، جسے بعض اہل دانش 'شغل میلے' کا نام دے رہے ہیں، کے لیے بلایا۔ اگر یہ شغل میلہ جائز اور قابل تقلید ہے تو پھر چند روز قبل کوکا کولا کی بوتلوں سے بھرے ٹرک کے سڑک کنارے خراب ہوجانے کے بعداسے لوٹنے والوں کے ہاتھوں اور گودوں میں بھری اور رکھی چوری و سینہ زوری سے اٹھائی بوتلوں کی وڈیو کو دیکھ کر دکھی کیوں ہوا جا رہا تھا؟ کپڑے کی دکان پر لگی سیل میں کپڑوں کی چھین جھپٹ کے بعد گتھم گتھا ہونے کے مناظر پر حیرت اور افسوس کیوں ہو رہا تھا؟

حالت تردید میں رہنے والے نہ رہنما اچھے ہوتے ہیں اور نہ ان کے پیرو کار۔ موسمی رہبروں کا کردار بہت ہوا تو میچ پر رواں تبصرہ کرنے والوں سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ وہ قوم کی تکلیف اور پریشانی کا حل دینے میں نہیں، بلکہ اپنے سیاسی مخالفین پر دل آزار تبصروں سے زیادہ کچھ کرنے کی صلاحیت کے حامل بھی نہیں ہوتے۔ لوح ایام میں ایشیا کے ہی دو رہنماوں کا دل پذیر تذکرہ تھا۔ انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے کہا "یہ تم کس چکر میں پھنس گئے ہو؟ اسٹیل ملز بھاری صنعتیں ! کارخانے لگانا صنعت کاروں کا کام ہے، نہروں کی کھدائی، بند بنانا انجینیئرز کا کام ہے، میرا تمہارا کام فرد اور معاشرے،قوم اورمستقبل کی تعمیر ہے۔ ہمیں بدیسی آقا کے بے دام اور بے زبان غلاموں عام انسانوں کو خود دار اور غیرت مند انسان بنانا ہے۔ "

ذرا ترقی یافتی ممالک کو گالی دینے سے فرصت ملے تو ضرور دیکھیے کہ انہوں نے اس عذاب سے اپنی قوم کو بچانے کے لیے کچھ تو کیا ہو گا جو وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ گلگت سرینا ہوٹل کا ایک ویٹر جاپانی سیاح کے پچاس لاکھ واپس کر سکتا ہے، خیبر پختونخوا کا ایک ڈرائیور د بئی میں ایک مسافر کے دوکلو سونے کے زیورات اگلے روز جا کر واپس کر سکتا ہے، یونیورسٹی آف لاہور کا ایک پروفیسر اپنے اکاؤنٹ میں غلطی سے آنے والے دس لاکھ خود جا کر واپس کر سکتا ہے، کتنے ہی کانسٹیبل لوگوں کی گمشدہ امانتیں خوشی خوشی واپس کر کے ہماری عزت بڑھانے کا باعث بن چکے ہیں۔ منگلا ڈیم سے سونے کے زیورات کی بوریاں گدھے پر رکھ کر سرکاری خزانے کو ڈھونڈنے والے میاں بیوی کوکیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ یہ کیسی دانش ہے اور کیسے دانش ور ہیں جو چوری اور سینہ زوری کے گناہ پرغربت کا پردہ ڈال کر احساس گناہ کم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ کیا اس پہچان اور اس طرز عمل کے ساتھ انسانی تاریخ کے صفحات میں زندہ رہنے کی تیاریاں ہیں ؟ تجزیہ درست نہ ہو تو کبھی دل حل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.