قطر-سعودی کشیدگی اور عام آدمی - شاکر مکرم

قطر-سعودی عرب کشیدگی دوسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔ سرحد بند ہے، زمینی، فضائی رابطے منقطع ہیں اور اس کا اثر براہ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔

میں قطر میں مقیم ہوں، کل جب میں فیکٹری آیا تو ایک مزدور مجھ سے کہنے لگا "صاحب جی ہم میں ایمان نہیں رہا "۔ اس کی بات سے میں بڑا حیران ہوا "کیا مطلب ؟ " کہنے لگا کہ "ہم کیسے مسلمان ہیں؟ اللہ، رسول کی بات نہیں مانتے۔ سعودی عرب نے کھانے پینے کا سامان بند کرکے اچھا نہیں کیا اور کچھ بھی کرتا لیکن کھانے پینے کا سامان تو بند نہ کرتا۔ صاحب جی! کل میں راشن خریدنے گیا تو دودھ کا ڈبہ جو پہلے تین ریال کا ملتا تھا، چھ ریال کا خریدا۔"

اس کے لہجے میں ایک درد تھا اور لفظوں میں شکستگی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ حالات سازگار نہیں، سرحد بند ہونے کی وجہ سے سامان کی ترسیل رکی ہوئی ہے جس کی وجہ سے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے، اس کے رنگ پھیکے پڑ رہے ہیں۔ یہاں چہرے پریشان ہیں، تفکرات نے لوگوں کو گھیرا ہوا ہے، صبحیں اور شامیں انہی سوچوں کی نذر ہو رہی ہیں، ہر زبان پر یہی تذکرے ہیں۔ گھر میں، بازار میں، آفس میں، گاڑی میں ہر جگہ یہی باتیں، تبصرے اور تجزیے ہیں۔

سامان کی عدم دستیابی کے باعث تعمیرات اور دوسرے کام رکنے لگے ہیں، جو 'سٹاک' مارکیٹ میں موجود ہے اس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ سرمایہ کار مارکیٹ میں پیسہ لانے سے کترا رہا ہے، نئے کام ہو نہیں رہے اور پرانا پیسہ مل نہیں رہا جس کی وجہ سے مالک اور مزدور دونوں پریشان ہیں۔ بڑی کمپنیوں کو پیسہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے ساتھ جڑی چھوٹی کمپنیاں متاثر ہو گئی ہیں۔ بہت سی کمپنیوں نے ملازمین کو یا تو برطرف کر دیا ہے یا چھٹی پر بھجوا دیا ہے اور جو بچے ہوئے ہیں ان کا کل بھی غیریقینی سے دوچار ہے یوں نزلہ گرا بھی تو بیچارے عام آدمی پر۔

میں فیکٹری کے امور سے فارغ ہو کر آفس آیا، ظہر کی نماز کی تیاری کر رہا تھا کہ سعودی عرب سے دوست کا میسج آیا "یار کوئی دعا ہی بتا دو یہاں تو رہنا مشکل ہو رہا ہے، یہ ٹیکس تو مار دیں گے، پانی سے لے کر ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔" اس سے بات ہوئی تو لفظ لفظ پریشانی میں ڈوبا ہوا تھا اور واقعی احساس ہونے لگا کہ دونوں طرف لگی ہوئی آگ میں عام آدمی جلنے لگا ہے اور اگر جل نہیں رہا تو اس کی حدت سے متاثر ضرور ہو رہا ہے۔

حالات کی کشیدگی سے صرف قطر اور یہاں رہنے والوں کا حرج نہیں ہو رہا بلکہ پورا خلیج متاثر ہوا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں جو ٹیکس اور اقامہ فیس پالیسی وضع کی ہے اس نے غیر ملکیوں میں بےچینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ جو خاندان چالیس، چالیس سال سے وہاں رہ رہے تھے اب سنجیدگی سے اپنے ملکوں کو لوٹنے کا سوچ رہے ہیں، کچھ تو لوٹ بھی گئے ہیں۔ تنخواہیں کم کر دی گئی ہیں، مہنگائی بڑھ گئی ہے اور سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑ رہا ہے سو ان ملکوں کو آپس میں بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسئلے کو حل کرنا ہو گا تاکہ راحت و آرام کو قربان کرنے والے، چین و سکوں چھوڑ کر مشقتوں سے بھری زندگی گزارنے والے پردیسیوں کی مشقت اور پریشانی میں اور اضافہ نہ ہو، ان کے چھولے بجھنے سے بچ جائیں، آنکھوں میں سجائے خواب اگر پورے نہ ہوں تو کم از کم بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہوں۔