سوشل میڈیا کے جعلی صفحات کا مسئلہ - سید معظم معین

سوشل میڈیا کے بعد بہت سارے گمنام صفحات سامنے آئے ہیں جو اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اپنے صفحات چلاتے ہیں، اور ان میں سے بہت سے خاصے مقبول بھی ہیں۔ ایسے اکثر صفحات کی پہچان کھلا ڈلا انداز اور تحریر کی کاٹ ہے جو بعض اوقات یا اکثر اوقات اخلاقی حدوں کو پار بھی کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسے صفحات اور ان پر دی گئی معلومات کی کیا حیثیت ہے؟ اکثر ایسے صفحات کے ایڈمنز ایسی ایسی معلومات دیتے ہیں جو بڑے بڑے صحافیوں کے پاس بھی نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات دو سربراہان مملکت یا کسے بڑے ادارے کے سربراہ کی ملاقاتوں کی تفصیل مذکورہ صفحات یوں بیان فرما رہے ہوتے ہیں گویا وہ وہاں بنفس نفیس موجود تھے۔ ان کی ایسی معلومات کے کیا ذرائع ہیں؟ صحافیوں کے پاس تو ایک بہانہ موجود ہے کہ صحافی اپنا سورس نہیں بتاتا لیکن جو صحافی خبر دے رہا ہوتا ہے، اس کی اپنی شناخت تو واضح ہوتی ہے۔ بوقت ضرورت عدالت یا ادارے ان سے سورس معلوم بھی کر سکتے ہیں، لیکن ایسے صفحات جن کی اپنی شناخت معدوم ہے وہ کیونکر اپنے سورس کو خفیہ رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ خبر کا سورس معلوم نہ خبر دینے والے کی شناخت معلوم، ایسی خبروں کی حیثیت توتا مینا کی کہانیوں سے زیادہ نہیں، پھر بھی ہماری قوم ہے کہ ان کو پسند کیے جا رہی ہے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے بگٹٹ بھاگے چلی جا رہی ہے۔ ایسے صفحات سے کوئی سیاستدان محفوظ ہے نہ قومی ادارے، صحافیوں کی عزت محفوظ ہے نہ علمی شخصیات کی ایسے رواج سے سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا کلچر عام ہو رہا ہے جو سراسر قابل مذمت ہے۔

قرآن کا حکم ایسے معاملات میں بڑا واضح ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ:
جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی جہالت کے سبب کسی قوم کو کوئی نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں تمہیں اس پر ندامت اٹھانی پڑے۔ (الحجرات)
نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔ (بخاری)
اس طرح معلوم ہوا کہ ایسے صفحات جو اخلاق باختہ ہوں اور گالم گلوچ کرتے ہوں وہ فسق کے زمرے میں آتے ہیں اور ایسے صفحات کی دی گئی معلومات کی جب تک مکمل تحقیق نہ کی جائے اسے درست نہ مانا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

ہو سکتا ہے کوئی یہ دلیل دے کہ کئی صحافی بھی اپنے اصل نام کے بجائے قلمی نام استعمال کر کے لکھتے رہے ہیں اور اب بھی لکھتے ہیں تو فیس بک پر کسی فرضی نام سے اگر لکھا جائے تو کیا حرج ہے۔ اس استدلال کی کمزوری تو واضح ہے کہ قلمی نام استعمال کرنے اور اپنی شناخت خفیہ رکھ کر بڑی بڑی خبریں دینے میں بڑا فرق ہے۔ قلمی نام والے صحافی کو اس کا ادارہ جانتا ہے اور بوقت ضرورت اپنی خبر کے سورس ظاہر کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، مزید یہ کہ جو اخبار یا ادارہ کوئی بات چھاپ رہا ہوتا ہے وہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے نہ کہ جب جس کی جو مرضی آئے وہ لکھ کر اڑا دے اور عام عوام کو اپنے پیچھے لگا لے۔ لیکن گمنام آئی ڈی والے صاحب سے پوچھا نہیں جا سکتا کیونکہ ان کی شناخت کوئی نہیں جانتا۔ پھر ایسے اکثر صفحات اور آئی ڈیز کسی یکطرفہ پراپیگنڈے میں مصروف بھی نظر آتے ہیں جس سے ان کا اعتبار مزید مجروح ہوتا ہے۔

اپنے تئیں قلمی جہاد میں مصروف ایسے صفحات اور آئی ڈیز دراصل معاشرے میں منافقت اور بزدلی پھیلانے میں حصہ دار ہیں۔ ایسی فیک آئی ڈیز کے فروغ سے معاشرے سے اخلاقی جرات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ منافقت پھیلتی ہے اور اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم دنیا میں کوئی قابل ذکر کام سرانجام نہیں دے سکتی۔ اظہار رائے کی آزادی ضرور ہونی چاہیے لیکن اپنے اصل نام کے ساتھ نہ کے سات پردوں کے پیچھے چھپ کر۔ یقینا ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل ترین جہاد ہے لیکن وہ سامنے آکر کہنا ہے نہ کہ شناخت چھپا کر۔

پھر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایسے صفحات کسی سیاسی جماعت کے ہے رول پر بھی ہوتے ہیں اگر ایسا ہے تو مزید شرمناک بات ہے خصوصا اس سیاسی جماعت کے لیے جو ایسے صفحات کو اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور کیچڑ اچھالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ایسی جماعتیں برسراقتدار آ کر معاشرے میں کیا صحتمند ماحول پیدا کریں گی۔ مزید یہ کہ کئی گمنام صفحات دن رات فرقہ پرستی پھیلانے، قومی اداروں کی توہین، نظریہ پاکستان کی تضحیک، لادینیت اور سیکولرازم کی ترویج اور ایسے دیگر مذموم کاموں میں بھی اپنے آپ کو وقف کیے ہوئے ہیں۔ ذمہ دار اداروں کو ایسے جرائم میں ملوث اکاؤنٹس کے خلاف بلا امتیاز ایکشن لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟ جاوید چوہدری

کچھ رول ہم عوام کا بھی ہے ضروری نہیں جو مرضی نامعلوم افراد آپ کے دل کی آواز بلند کر رہے ہوں ان کی آنکھیں بند کر کے حوصلہ افزائی کی جائے۔ جب تک کوئی سامنے نہ آئے اس کے بارے میں رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ مگر ہمارا الٹا حساب ہے ہماری عوام ایسے صفحات پر ان کی چرب زبانی کے آگے مسمساتے نظر آتے ہیں اکثر ان سے اختلاف نہیں کرتے ان کی بے جا ستائش کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر وہ اختلاف رائے کی جرات کریں گے تو ایسے صفحات ان کی چیر پھاڑ میں بھی دیر نہیں کریں گے اور ظاہر ہے کہ عزت تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔ اور یہ بھی ہمیں جان لینا چاہیے کہ حالات خالی خولی تحاریر اور مضحکہ خیز مواد سے نہیں بدلا کرتے جرات سے خم ٹھونک کر خود میدان میں نکلنے سے بدلتے ہیں۔ اگر کرپٹ اشرافیہ کے ظلم کے آگے بند باندھنا ہے تو خود آگے بڑھنا ہوگا اور حالات بدلنا ہوں گے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.