نفاذِ شریعت ایکٹ کا کیا ہوا؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

متجسس نوجوان مراد علوی نے پوچھا کہ 1991ء میں نفاذِ شریعت ایکٹ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا اور اس کے بعد صدرِ پاکستان نے اس پر دستخط بھی کیے، تو اس کے بعد کیا ہوا؟ انھیں حیرت اس وجہ سے ہے کہ بعد میں اس ایکٹ کے نفاذ کے متعلق انھیں تاریخ خاموش نظر آتی ہے۔

میں پہلے اس ایکٹ کا پس منظر بتانا چاہوں گا۔

جنرل ضیاء الحق صاحب کی حکومت کو آٹھ سال ہوچکے تھے، اور ”نفاذِ شریعت“ کے حوالے سے علماے کرام کو اب کافی سارے خدشات لاحق ہوچکے تھے، کیونکہ کئی قوانین جاری کیے جانے کے باوجود زمینی حقائق کچھ اور ہی بتارہے تھے۔ اس لیے کوشش کی گئی کہ ایک جامع قسم کا ”قانونِ نفاذِ شریعت“ منظور کروایا جائے۔ اس قانون کا مسودہ سینیٹ میں پیش کیا گیا تو مختلف حلقوں کی جانب سے ”شریعت“ کی تعریف پر مختلف آرا پیش کی گئیں اور بعض دیگر نکات بھی متنازعہ ٹھہرے۔ اس مسودے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایاگیا جس نے اس پر اپنی تفصیلی سفارشات دیں۔ یہ سفارشات کونسل کی 1986ء کی سالانہ رپورٹ میں شامل ہیں۔

ان سفارشات میں کونسل نے ”شریعت“ کی یہ تعریف پیش کی: ”شریعت سے مراد قرآن و سنت میں مذکور احکام اسلام ہیں۔“
اس کا انگریزی ترجمہ یوں کیاگیا ہے:
"Shariah means the Injunctions of Islam as laid down in the Holy Qur'an and Sunnah."

تاہم اس رپورٹ میں”احکام اسلام“ کی تعریف پیش نہیں کی گئی۔ البتہ تعریف کی توضیح میں بتایا گیا ہے:
”احکام اسلام کی تشریح میں رہنمائی کے لئے درج ذیل مآخذ سے استفادہ کیا جائے گا: (۱)سنتِ خلفاے راشدین (۲) تعاملِ صحابہ (۳) اجماعِ امت (۴) مسلمہ فقہاے اسلام کی تشریحات و آراء۔“

بالآخر نفاذِ شریعت ایکٹ سینیٹ سے منظور ہوا لیکن قومی اسمبلی سے اسے منظور نہ کروایا جاسکا، یہاں تک کہ مئی 1988ء میں جنرل صاحب نے قومی اسمبلی ہی توڑ دی۔ اس کے بعد انھوں نے نگران حکومت کے دوران میں نفاذِ شریعت آرڈی نینس جاری کیا لیکن اگست میں خود کا انتقال ہوا تو یہ آرڈی نینس بھی اپنی موت آپ مرگیا۔

نفاذِ شریعت کے قانون کا دوسرا جنم میاں محمد نواز شریف صاحب کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں ہوا اور اس دفعہ اسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کروانے کے بعد اس پر صدرِ ریاست نے دستخط بھی کر دیے۔ چنانچہ یہ قانون کی صورت میں 1991ء سے نافذ العمل ہوا ۔ اس قانون کی اہم ترین شق اس کی دفعہ 4 ہے جس میں قرار دیا گیا ہے :
”اس قانون کے مقصد کے لیے (الف) جب کسی قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت وہ تعبیر اختیار کرے گی جو اسلامی اصولوں اور نظریۂ قانون سے ہم آہنگ ہو ؛ ( ب ) جب دو یا زائد برابر کی تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت وہ تعبیر اختیار کرے گی جو دستور میں مذکور پالیسی کے رہنما اصول اور اسلامی دفعات سے ہم آہنگ ہو۔“

یہ بھی پڑھیں:   میاں صاحب کیا معاملہ اتنا سادہ ہے؟ احسن سرفراز

اس قانون کی منظوری کے بعد یہ پاکستان کی تمام عدالتوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قانون کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں کریں۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ عدالتیں یہ ذمہ داری پوری کرنے سے مسلسل گریز کی راہ اختیار کی ہوئی ہیں۔ پچھلے 26 سال میں بمشکل ایک یا تو مقدمات میں اس قانون کا حوالہ دیا گیا ہے اور وہ بھی سرسری سا!

واضح رہے کہ یہ بعض قوانین میں یہ ذمہ داری خصوصی طور پر بھی ذکر کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کے باب متعلقہ قصاص و دیت کی دفعہ 338- ایف میں تصریح کی گئی ہے کہ متعلقہ باب کی دفعات اور ان سے متعلقہ امور کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کی روشنی میں کی جائے گی۔ تاہم 2015ء میں عدالتِ عظمیٰ کے لارجر بنچ نے جب قصاص اور تعزیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے فیصلہ سنایا تو بنچ کے فاضل جج صاحبان میں سے کسی ایک نے بھی اسلامی شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ نہیں لیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے تو یہ لکھ کر جان چھڑائی کہ متعلقہ دفعات کے اسلامی شریعت سے تصادم کا فیصلہ کرنے کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کا ہے، حالانکہ ان کے سامنے سوال یہ نہیں تھا کہ کیا متعلقہ دفعات اسلامی شریعت سے متصادم ہیں؟ بلکہ ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ متعلقہ دفعات کا مفہوم کیا ہے، اور دفعہ 338 - ایف کی رو سے ان پر لازم تھا کہ مفہوم متعین کرنے کے لیے وہ اسلامی شریعت کے اصولوں کی طرف دیکھتے۔ ایک اور فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ کی ابتدا میں لکھا کہ اسلامی شریعت کے اصولوں کے متعلق اہلیت وہ خود میں نہیں پاتے۔ اگر یہ محض کسرِ نفسی نہیں تھی بلکہ حقیقتِ حال کا اظہار تھا تو ان پر لازم تھا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے نہ بیٹھتے!

اس طرح کی شق قانونِ شفعہ (Pre-emption Act) میں بھی شامل ہے اور شفعہ کے مقدمات کے متعلق راقم کا مشاہدہ یہ ہے کہ عدالتیں بالعموم شرعی اصولوں کا لحاظ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک ”شرعی نظامِ عدل ریگولیشنز“ میں بھی اس طرح کی شق شامل کی گئی ہے۔ تاہم جج صاحبان بالعموم اس معاملے میں کمزور ثابت ہوئے ہیں۔ پچھلے سال راقم کی کوشش سے، الحمد للہ، یہ شق صوبہ خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی نے نجی سودی قرضوں کی ممانعت کے قانون میں شامل کی۔ ابھی اس قانون کے تحت مقدمات کے فیصلے ہونے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ وہاں عدالتیں کیا کرتی ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   بڑے فیصلوں کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے - محمد عامر خاکوانی

آخری بات!
جو شاید زیادہ اہم ہے ، یہ ہے کہ جب 1991ء کا نفاذِ شریعت ایکٹ منظور ہوا تو جماعتِ اسلامی نے منصورہ میں مذہبی سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا جس میں متفقہ طور پر اس قانون کو مسترد کر دیا۔ مولانا گوہر رحمان صاحب مرحوم نے اس قانون کو شریعت سے متصادم قرار دے کر وفاقی شرعی عدالت میں اس کے خلاف دلائل بھی دیے۔ بعد میں یہ دلائل انھوں نے کتابی شکل میں بھی شائع کیے اور اس میں اس قانون کو ”نفاذِ شریعت سے فرار کا قانون“ قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کی بعض شقوں کے متعلق یہ بات بالکل صحیح ہے لیکن جس دفعہ 4 کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے، وہ بہرحال ایک مستحسن قدم تھا اور اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خود مذہبی سیاسی جماعتوں، بلکہ مذہب پسند وکلا نے بھی اس دفعہ کو یکسر بھلا دیا ہے۔

جب 2002ء میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلسِ عمل، نے صوبہ سرحد میں (جسے اب صوبہ خیبر پختون خوا کہا جاتا ہے) حکومت قائم کی تو اس نے بھی نفاذِ شریعت کے لیے قانون سازی کا دعوی کیا اور اس مقصد کے لیے ”نفاذِ شریعت کونسل“ بھی قائم کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تقریباً ایک سال کی محنت شاقہ کے بعد اس کونسل نے مسودۂ قانون تیار کرکے ایم ایم اے کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسی 1991ء کے نفاذِ شریعت ایکٹ کا اردو ترجمہ ہے جسے انھوں نے 12 سال قبل مسترد کردیا تھا! اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود اس مسودۂ قانون کو صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کے گورنر سے اس پر دستخط بھی کرا لیے گئے اور اب ”شرعی قانون ایکٹ 2003ء“ بھی ایک مستقل قانون کی شکل میں موجود ہے۔ ایک قانون جو پورے ملک کی سطح پر رائج تھا، اسے دوبارہ سے کسی صوبے میں منظور کروانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن بہرحال کچھ نفاذِ شریعت کا کام تو کرکے دکھانا ہی تھا۔ مجھے بس یہ شعر بار بار یاد آتا رہا :
تمھاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں