ملّا عمر تو ہوا دہشت گرد مگر - ابوبکرقدوسی

ملّا عمر تو ہوا دہشت گرد مگر
چی گویرا، ہوچی منہ، نیلسن منڈیلا کیا ہوئے؟

دیکھیے جو فاتح عالم ہوتا ہے، ڈکشنری کا مالک بھی وہی ہوتا ہے، الفاظ بھی اس کے ہوتے ہیں، اور معانی بھی اس کی ملک. اور اس میں بھلا کیا شک ہے کہ مغرب اس وقت فاتح عالم ہے. اس کا حسن کرشمہ ساز جو چاہے سو کرے ہے، لیکن یہ تو نہیں کہ ہم منہ میں زبان نہیں رکھتے اور دماغ میں شعور.

اہل مغرب نے کچھ لوگوں کو ماضی میں دہشت گرد گردانا، پھر وقت کے معجزے کہ وہی افراد ہیرو ہو گئے، آزادی اظہار کی دیوی ان کے چرنوں پر عقیدت کے پھول چڑھاتی دیکھی گئی. جو کبھی اسی کے نزدیک دہشت گرد تھے، اب جب ان کا ذکر آتا ہے تو اہلیان مغرب بھی انہیں قوم پرست رہنما لکھتے ہیں نہ کہ دہشت گرد.

آپ نے ہوچی منہ کا نام سنا ہو گا. ویت نام پر امریکی چڑھائی کے دنوں میں وہ ایک ہیرو بن کے سامنے آئے اور مزاحمت کا، بہادری اور جرات کا استعارہ ٹھہرے . یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے مقامی "دانش ور" اپنی فکری غذا دریائے آمو کے اس پار سے حاصل کرتے تھے، یعنی روس سے. حالت یہ تھی کہ فیض صاحب جیسے مفکر بھی روس کی محبت کے اس درجہ اسیر تھے کہ رسوائی کی بھی کوئی پرواہ تھی نہ تضادات کی فکر. فیض صاحب بھی امریکی استعمار کو تو برا کہتے لیکن خون کی ندی سے ڈبو کے نکالا گیا لینن ایوارڈ لیتے نہ ان کا دل کانپا نہ قدم ڈگمگائے.

ان مفکروں کو ان دنوں امریکی مظالم تو نظر آتے تھے مگر روس کی مردم کشی کبھی دکھائی نہ دیتی تھی. تب ان کا ضمیر اور آنکھ سبھی ایک ساتھ سو جاتے تھے. سو ایسے دنوں میں ہوچی منہ ہیرو تھا، کہ سامراج کے مقابل وطن کی حفاطت اس کا مذہب تھا، زندگی اسی کے لیے وقف تھی، وہ ظلم کے سامنے کھڑا تھا، مادر وطن کی حفاظت اس کا ایمان تھا.

پھر ایک اور ہیرو ہوا، اس کا نام چی گویرا تھا، یہ صاحب اپنے ملک میں امریکی ایجنٹ حکام کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کے اٹھے، اور بہت جلد ہمارے دانشوروں کی جان ہو گئے. ان صاحب کی خوبی تھی کہ اپنے ملک تک ہی محدود نہ رہے، ادھر ادھر بھی اس "جہاد" میں حصہ لینے پہنچے، اس لیے زیادہ معزز ہوئے. جناب نے کیوبا، گوئٹے مالا، کانگو، اور بولیویا میں انقلابی تحریکوں کی قیادت کی اور آخر الذکر مکان میں مارے گئے. اندازہ کیجیے کہاں لاطینی امریکہ کے ممالک اور کہاں کانگو.

چیانگ کائی شیک کو آپ لوگ کم جانتے ہیں. یہ بھی ایک چینی قوم پرست لیڈر تھے، انہوں نے بھی اپنے ملک کی ظالم حکومت کا تختہ الٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا، اور روس کی مدد سے انقلاب کی کوشش جاری رکھی، حتی کہ کامیاب ہو گئے. اب ان کو بھی باغی نہیں قوم پرست لیڈر کہا جاتا ہے. اب یہ بھی ہمارے "دوستوں " کے معزز ہیں.

نیلسن منڈیلا بھی ایک غاصب گوری کمیونٹی کے خلاف سرگرم تھے کہ جس نے بزور بندوق پار پردیس سے آ کر ان کے وطن پر قبضہ کیا تھا، اور ان کی مقامی اور اصلی مالک کیمونٹی پر زندگی تنگ کر دی تھی. ان کو بھی شروع میں دہشت گرد قرار دیا گیا، پھر مدت بعد "اخلاقی طاقتوں" کو علم ہوا کہ نہیں وہ تو ہیرو ہیں. اس طرح بہت سے افراد ہیں جو کبھی بجا طور پر اور کبھی نامناسب طور پر باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے، اور آج ہیرو ہیں. آزادی کے ہیرو، حریت فکر کے مجاہد، ہمارے لبرلز کے بھی ہیرو، لیکن آج میں آپ کو منافقت کا ایسا روپ دکھاؤں گا کہ رام بھی کہے ہری ہری.

اب ہمارے دانش وروں کی طرف آئیے. حیرت ہوتی ہے کہ ان کو اپنی تاریخ پر شرمندگی ہی رہی، احساس کمتری کے مارے یہ لوگ ہمیشہ اپنی ہی قوم پر چڑھ دوڑتے رہے، ان کو ہیرو کی ضرورت محسوس ہوئی تو بھی ان کی نظر باہر کو اٹھی اور فکر کی تلاش میں بھی یہ غیروں کی اور ہی گئے. کبھی آپ نے ان کے منہ سے تیتو میر کا نام بھی نہ سنا ہوگا ، کبھی ان کے قلم نے سراج الدولہ کی شجاعت کا کوئی قصہ رقم نہیں کیا ہوگا ، کبھی بھولے سے بھی ان سے ٹیپو شہید کی تعریف نہ سنیں گے. عنایت علی، ولایت علی، جعفر تھانیسری اور مولانا یحیی علی کا تو ان کو نام بھی معلوم نہ ہوگا. بےچاروں کا علم بھی تو چند کتب کا ہی محتاج ہے.

اچھا آپ کو لطیفہ سناؤں. اپنی روشن خیالی کا ثبوت دینے کے لیے بھگت سنگھ کو بہت لیے لیے پھرتے ہیں، حالانکہ بھگت سنگھ آزادی کا مجاہد تھا، انگریزوں کا ذہنی غلام نہ تھا.
جناب دانش ور صاحبان! اگر اپنے وطن کا دفاع کرنا حریت فکر ہے اور یہی وجہ ہے نا کہ آپ ہوچی منہ کو اوتار بنائے بیٹھے ہیں؟
آپ جانتے ہیں کہ غیر ملکوں کی ٹاؤٹ حکومتوں کے خلاف لڑنا آزادی کی جنگ ہے، تو اسی سبب سے آپ چیانگ کائی شیک کی عزت کرتے ہیں اور ان کو قوم پرست رہنما لکھتے ہیں؟
چی گویرا اپنے ملک سے باہر جا کے بھی "پنگے" لیتا تھا، مگر پھر بھی معزز ٹھہرا نہ کہ فسادی اور دہشت گرد، اپنے نظریے کے دفاع کے لیے باہر جا کے بھی اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر بندوق اٹھاتا رہا. اسی سبب آپ اس کو ہیرو کہتے ہیں نا؟
اور بہت سی مثالیں ہیں کہاں تک سنیں گے ؟؟

بس اس تناظر میں آپ سے سوال ہیں، ایک طالب علم آپ کی "فکر و دانش" سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے.
ایک سوالی آپ کی فکر کے در پر کھڑا اسی فکر کا کچھ حصہ چاہتا ہے.

جناب عالی!
کیا وجہ ہے ملّا عمر کو آپ دہشت گرد کہتے ہیں جبکہ اس نے کبھی اپنی ریاست سے باہر نکل کر پاکستان یا پڑوس کے ایک انچ پر کوئی حملہ نہ کیا، اس نے غیر ملکی غاصب امریکی طاقت کے سامنے ہی اپنے ہتھیار اٹھائے رکھے. آپ جانتے ہیں کہ ہوچی منہ نے بےشمار ہم وطنوں کو قتل کیا تھا کہ وہ امریکی استعمار کے ایجنٹ تھے، لیکن ملّا عمر نے بھی تو اس سے زیادہ نہ کیا. جناب کیا وجہ ہے کہ وہ ہیرو اور یہ دہشت گرد؟

جناب اس طالب علم کا سوال ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چی گویرا تو جا کر کے ملکوں ملکوں "پنگے " لے، اور پھر بھی حریت فکر کا مجاہد ٹھہرے اور اسامہ بن لادن اگر صومالیہ اور افغانستان کے مظلوموں کی مدد کو، ان کی جنگ آزادی میں ساتھ دینے کو چلا آئے تو دہشت گرد کہا جائے؟

دانش ور صاحبان!
اللہ آپ کا اقبال بلند کرے، یہ مسلہ فیثا غورث کچھ ہمیں بھی سمجھائیے کہ اگر نیلسن منڈیلا غاصب، گوری چمڑی والوں کے خلاف جدوجہد کرے تو اسے مجاہد عادی و حریت جان کر کے نوبل انعام کا حق دار قرار دیا جائے، ملّا عمر اگر اپنے وطن پر قابض قوتوں، بمباری کرتے جہازوں، گولہ باری کرتے ٹینکوں کے خلاف ہتھیار بند ہو جائے تو دہشت گرد.

حضور! استعمار کو چھوڑیے، انکل سام کی بات نہ کیجیے کہ وہ فاتح عالم ہیں، ان کا سکہ چلے گا، ان کی لغت الفاظ اور معانی پر راج کرے گی. سوال تو آپ کی دانش کا ہے کہ وہ اس تضاد بارے میں کیا کہتی ہے کہ جس کا آپ بھی شکار ہیں؟

دیکھیے کیسی عجیب بات ہے کہ جس کو جی چاہے آپ پانسے کا سونا کر دکھائیں اور جس کو جی چاہے پیتل بھی کیا لوہے کا بھی نہ رہنے دیں. چند ماہ پہلے ہی ایک وجاہت مسعود صاحب نے بلوچ علیحدگی پسندوں کے بارے میں لکھا تھا. پڑھیے اور سر دھنیے:
''اہل نظر جانتے ہیں کہ معاملہ شمالی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا نہیں تھا اور نہ کراچی میں جرم و تشدد کے کھیل تک محدود تھا۔ بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کبھی قومی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ نہیں تھے۔''
.....
کمال نہیں ہوگیا، کہ وہ بلوچ علیحدگی پسند کہ جو ریاست کے مکمل باغی ہیں، جنھوں نے اپنا قومی ترانہ بنا رکھا ہے، اپنا ان کا جھنڈا ہے، ملک کا نقشہ ہے، شیڈو کابینہ ہے، جو پاکستان سے نفرت نہیں، بہت نفرت کرتے ہیں. جو معصوم لوگوں کو اسی طرح قتل کرتے ہیں جس طرح ٹی ٹی پی والے کرتے ہیں، مگر چونکہ یہ لبرل ہیں، اس لیے "استاذی" کے نزدیک "پاکستان کے لیے حقیقی خطرہ نہیں ".

یہ ہیں ان احباب کے دوہرے معیار. اب آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ ان کا مسئلہ مذہب ہے، جہاں کسی مسلمان حریت پسند کا نام آجائے گا، دانش کے برتن بدل جائیں گے، پیمانے چھوٹے ہو جائیں گے اور جہاں کوئی غیر آ جائے گا دل و دماغ اور بازو وا ہو جائیں گے.

Comments

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ کے مدیر ہیں۔ تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ مجلہ الاخوہ کے مدیر رہے۔ اسلامی موضوعات سے دلچسپی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.