عقیدہ ٔ ختم نبوت (1) - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

سب تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے جو تمام عالمین کا رب اور یوم جزا کا مالک ہے۔ بے شمار درودو سلام محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جن کو اللہ نے تمام عالمین کے لیے رحمت اور آخری نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔اللہ تعالی ہمیں اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلنے کی اور گمراہ اور مغضوبین کے طریق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نبی مکرم نور معظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺکے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ آپ ﷺکی نبوت و رسالت جامع، کامل، عالمگیر اور ابدی ہے، لہذا تمام مذاہب اور قیامت تک آنے والی اقوام عالم کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لائیں۔ اس کو عقیدہٴ ختم نبوت کہا جاتا ہے اور یہ ضروریات دین میں سے ہے۔ اس پر ایمان لانا ضروری اور اس کا انکار کفر ہے۔

قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا :
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْہِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنزَلَ اللہُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَۃ بَاسِطُو أَيْدِيھمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْھونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللہ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِہ تَسْتَكْبِرُونَ ﴿الانعام: 93﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا (نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو (خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے یہ) کہے کہ میں (بھی) عنقریب ایسی ہی (کتاب) نازل کرتا ہوں جیسی اللہ نے نازل کی ہے۔ اور اگر آپ (اس وقت کا منظر) دیکھیں جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں گے اور فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے:) تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اﷲ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللہ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿الأحزاب: 40﴾
’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے.‘‘

عقیدہ ختم نبوت کا بیان بکثرت احادیث میں بھی ہوا ۔حدیث شریف میں ہے :
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّھمْ يَزْعُمُ أَنَّہ رَسُولُ اللہ يُحَدِّثُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنْ الْحَدِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاھمْ لَا يَفْتِنُونَكُمْ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
’’قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ جھوٹے دجال آئیں گے جو تیس کے قریب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔وہ تم سے ایسی نئی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے اباؤاجداد نے نہ سنی ہوں گی۔پس وہ تم سے دور رہیں اور تم ان سے دور رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں اور میں خاتم النبیین ﷺ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   قادیانیت ایک نظر میں - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

جس طرح اللہ رب العزت اور محمدر سول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح ختم نبوت پر ایمان لانا بھی ضروریات دین میں سے ہے۔اس کا انکار کفر ہے ۔عہد رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسود عنسی کو قتل کرنا اور دور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔
حضرت شیخ ابن نجیم فرماتے ہیں:
اذا لم یعرف أن محمدا ﷺاٰخر الأنبیاء فلیس بمسلم،لأنہ من الضروریات (الأشباہ و النظائر:ج:۲/ص:91)
’’جب وہ یہ نہیں جانتا کہ محمد رسول اللہﷺآخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔‘‘
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
اذا لم یعرف الرجل أن محمدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخر الانبیاء علیھم و علی نبینا السلام فلیس بمسلم کذا فی الیتیمة(الفتاویٰ الھندیۃ:ج:۲/ص:363)
’’جب وہ یہ نہیں جانتا کہ محمد رسول اللہ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔اسی طرح یتیمہ میں ہے۔‘‘

امام ابوبکر جصاص رازی فرماتے ہیں:
واللہ فتح بشرعہ الشرائع، و أنھی بملتہ الملل، و فضلہ علی سائر الأنبیاء، و ختم بہ الرسالۃ، و سد بہ باب النبوۃ، و جعلہ سید البشر و شفیع الأمۃ یوم المحشرصلی اللہ علیہ والہ وسلم (شرح بدء الامالی:ص:242)
’’اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شریعت کے ذریعہ تمام شریعتوں کو مفتوح فرمادیا ہے۔آپﷺ کے ذریعہ تمام ملتوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی ہے، آپﷺکے ذریعہ نبوت کو ختم کر دیا ہے،آپﷺ کے ذریعہ نبوت کے دروازہ کو بند کر دیا ہے اور آپﷺکو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کا سرداراور محشر کے دن امت کا شفیع بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی آپﷺ پر اور آپﷺ کی آل پر رحمتیں نازل ہوں اور اللہ کا سلام ہو۔‘‘

عقیدہ ٴ ختم نبوت کے بارے میں اعلیٰ حضرت مجدد گولڑوی پیر سید مہر علی شاہ صاحب فرماتے ہیں:
’’عیسی بن مریم کے نزول کی نسبت کہا جاتا ہے کہ نبوت و رسالت کے دو رخ ہیں۔ یا یوں کہو بطون و ظہور ہے۔ بطون عبارت ہے اخذ کرنے فیضان سے منجانب اللہ، جس کو خدا کے ہاں مقربین میں سے ہونا لازم غیر منفک ہے۔ اور ظہور عبارت ہے توجہ الی الخلق سے، یعنی تبلیغ شرائع و احکام کی۔ اس ظہور میں تو بسبب تغیر و تبدل شرائع کے انقلاب آ سکتا ہے۔ نبی لاحق کی شریعت کیونکہ ناسخ ٹھہری، نبی سابق کی شریعت کے لیے، تو نبی سابق کو بھی بر تقدیر موجود ہونے اس کے نبی لا حق کی شریعت کے زمانہ میں اپنا شرع چھوڑ کر شرع لاحق کے ساتھ عمل در آمد کرنا ہوگا۔ چنانچہ آں حضرت فرماتے ہیں کہ اگر موسی علیہ السلام زندہ ہوتا تو اس کو بھی بغیر میری شریعت کے عمل درآمد کرنا جائز نہ ہوتا اور اس عمل درآمد کے تغیر و تبدل سے وہ نبوت کا بطون جس کو قرب الہٰی اور عند اللہ معزز ہونا لازم ہے، ہرگز متغیر نہیں ہوتا۔ کیا یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سیدنا محمد مصطفی کو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کی اجازت دی اور بعد اس کے جب بیت اللہ کی طرف سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو آپ کی نبوت و رسالت میں فرق آگیا یا آپ ﷺ اس قدر و منزلت سے جو آپ ﷺ کو پہلے بارگاہ خداوندی میں حاصل تھی معزول کیے گئے؟ ہر گز نہیں۔‘‘
’’الحاصل بطون نبوت مع لازم اپنے کے جو قرب ہے، کبھی انبیاء و رسل سے زائل نہیں ہوتا۔ بخلاف ظہور نبوت و تبلیغ شرائع اپنے کے کہ یہ محدود ہے تا ظہور نبوت نبی لاحق کے۔ اور نبوت و رسالت انبیاء سابقہ کا بطون گو کہ دائمی ہے مگر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے ان کو ملا ہے، لہذا خاتم النبیین کی مہر کو اگر سارے انبیاء دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد میں آجائیں تو بھی نہیں توڑ سکتے۔ (سیف چشتیائی:ص:23)‘‘

یہ بھی پڑھیں:   قادیانیت ایک نظر میں - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

علماء و مشائخ عظام کے ان تمام حوالہ جات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا اور نہ ہی کسی کو نبو ت عطا کی جائے گی۔ یہ بات قرآن و سنت اور اجماع امت سے قطعی طور پر ثابت ہے، لہٰذا اگر کسی شخص نے بھی آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کیا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اس بات کی خبر دے دی تھی کہ میری امت میں کئی لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے اور ان دجالوں کذابوں میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ اسی بات کی تصدیق بائبل بھی کرتی ہےکہ مسیح نے فرمایا:
For many shall come in my name, saying, I am Christ; and shall deceive many. (Matthew 24:5)
‘‘کیوں کہ بہت لوگ آئیں گے اور میرے نام پر اپنے آپ کو مسیح بتا کر کئی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال دیں گے۔’’(متی باب24آیت5)
متی میں ہے:
’’ایسے وقت میں بعض تم سے کہیں گے کہ دیکھو مسیح وہاں ہے اور کوئی دوسرا کہے گا کہ وہ یہاں ہے! لیکن ان کی باتوں پر یقین نہ کرو۔ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے تاکہ خدا کے منتخبہ لوگوں کو معجزے اور نشانیاں بتا کر فریب دیں۔ اس کے پیش آنے سے پہلے ہی میں تم کو انتباہ دے رہا ہوں۔ بعض لوگ کہیں گے کہ مسیح بیابانوں میں ہے تو تم بیاباں میں نہ جانا۔ اگر کوئی یہ کہیں کہ مسیح کمرہ میں ہے تو تم یقین نہ کرنا۔ ابن آدم ایسے آئے گا کہ اس کے آنے کو تمام لوگ دیکھ سکتے ہیں ابن آدم کا اظہار ایسا ہوگا جیسا کہ آسمان میں بجلی چمکتی ہے اور وہ آسمان کے ایک کونے سے دوسرے تک دکھائی دیتی ہے۔تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ جہاں گدھ جمع ہوتی ہیں وہاں مردار چیز ہو تی ہے۔ٹھیک اسی طرح میرا آنا بھی صاف اور واضح ہوگا۔ (متی باب24 آیت نمبر23 تا28)‘‘

تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ مسیلمہ کذاب واسود عنسی سے لے کر مرزا غلام قادیانی تک متعدد لوگوں نے دعویٰ نبوت یا مسیحیت و مہدویت کیا، مگر مسیلمہ کذاب کے بعد اس دجل و کذب کی جو معراج مرزا قادیانی کو حاصل ہوئی، دوسرے اس میں مرزا صاحب کے سامنے طفل مکتب معلوم ہوتے ہیں۔ مرزا کا ولی، مجدد، مثیل مسیح، مسیح موعود، مہدی معہود، ظلی نبی، امتی نبی اور رسول اللہ ہونے کے علاوہ متعدد دعوے کرنا اور ان کے ثبوت میں کم و بیش گیارہ ہزار صفحات تحریر رقم کرنا، کسی ایسے جھوٹے نبی کی مثال شاید ہی ماضی قریب یا بعید میں مل سکے۔
(جاری ہے)

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں