اسلام کا سیاسی نظام، ایک قانونی تجزیہ (2) - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

جہاں تک مولانا مودودی کے نظریے کا تعلق ہے، اس کے متعلق کئی پیچیدگیاں ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ مسئلہ ہے کہ اس معاملے کے مختلف پہلووں پر انھوں نے مختلف ادوار میں کام کیا ہے اور ان کاموں کا باہمی ربط معلوم کرنا اور ان کے درمیان تطبیق، یا عدم تطبیق کی صورت میں ناسخ کا تعین ضروری ہے۔

اس ضمن میں اولین کام تو "الجہاد فی الاسلام" ہے جس میں مولانا نے "مصلحانہ جہاد" کی تعبیر اختیار کرتے ہوئے قرار دیا کہ "فتنہ" اور "فساد" کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کا جہاد کیا جاتا ہے۔ مولانا نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیراسلامی حکومت فتنے کا بنیادی سبب ہے۔

ایک اور اہم کام "سود" پر مولانا کی کتاب کا تیسرا ضمیمہ ہے جس میں مولانا نے "دار الحرب میں ربا" کے مسئلے پر مولانا مناظر احسن گیلانی کے موقف پر تفصیلی تنقید کی ہے اور اس ضمن میں دار الحرب، دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاحات کی بہترین توضیح پیش کی ہے۔ اس ضمیمے میں مولانا نے فقہی اور قانونی تجزیہ نگاری کا حق ادا کیا ہے۔

1930ء کی دہائی کے اواخر میں مولانا نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں بالآخر "جماعتِ اسلامی" کی تشکیل بھی ہوئی اور اس نے ہندوستان کے سیاسی مسئلے پر ایک مخصوص موقف بھی اپنا لیا۔ ان مضامین کا سلسلہ آزادی تک جاری رہا اور ابتدا میں انھیں "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش " کے عنوان سے اور بعد میں "مسلمان اور آزادیِ ہند" کے عنوان سے شائع کیا گیا۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اس کے اسلامی تشخص کے سلسلے میں مولانا نے "اسلامی ریاست" پر کام کیا اور اس کے علاوہ بعض مضامین The Islamic Law and Constitution کے عنوان سے پروفیسر خورشید صاحب کے ترجمے اور تدوین کے ساتھ سامنے آئے.

پاکستان اور بھارت کے تعلقات اور بالخصوص مسئلۂ کشمیر پر انھوں نے ایک خاص موقف اپنایا جسے انھوں نے "ترجمان القرآن" میں 1948ء میں شائع کیا لیکن مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے ساتھ مکالمے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے وہ موقف give up کیا۔

تقسیمِ ہند کے بعد خاندان بھی تقسیم ہوئے۔ سرحد کے آرپار خاندانوں اور مسلمانوں کا آپس میں تعلق کس بنیاد پر اور کس نوعیت کا ہوگا؟ اس موضوع پر مولانا کے مؤقف پر مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب نے نقد کیا اور پھر دونوں حضرات کے درمیان تفصیلی مکالمہ ہوا جو "رسائل و مسائل" میں موجود ہے۔

اس سب کے بعد اور موضوع سے براہِ راست متعلق وہ مضامین ہیں جن میں مولانا نے مسئلۂ خلافت اور مسئلۂ خروج میں امام ابوحنیفہ کے مؤقف کے متعلق اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ یہ مضامین ابتداءً 1963-64ء میں "ترجمان القرآن" میں شائع ہوئے۔ بعد میں یہ "تفہیمات" میں شامل ہوئے اور پھر "خلافت و ملوکیت" کا بھی حصہ بنے۔ ان مضامین میں مولانا نے جو مؤقف اختیار کیا اس پر جب یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ فقہِ حنفی کا موقف اس سے مختلف ہے تو ابتدا میں مولانا نے اپنے مؤقف کے دفاع کی کوشش کی، لیکن آخر میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کا بیان کردہ مؤقف امام ابوحنیفہ کا مؤقف ہے جبکہ معترض کی جانب سے فقہِ حنفی کا موقف پیش کیا جا رہا ہے اور دونوں مواقف ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔

اس ضمن میں اہم بات یہ بھی ہے کہ خود مولانا نے تصریح کی ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مؤقف جو انھوں نے پیش کیا تو اس کے ذریعے اصل میں وہ مستشرقین کے اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اسلام کے پاس ظالم حکمران کی تبدیلی کا کوئی حل نہیں ہے:
"یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ 1957ء کے اواخر میں جو بین الاقوامی مجلسِ مذاکرہ لاہور میں ہوئی تھی، اس میں انگلستان کی ایک مستشرقہ نے باقاعدہ یہ اعتراض کیا تھا کہ اسلامی نظامِ حکومت اگر ایک دفعہ بگڑ جائے تو پھر اس کی تبدیلی کی کوئی صورت اسلام میں نہیں ہے۔ اس اعتراض کے حق میں اشاعرہ اور فقہاے اہلِ سنت کے اقوال پیش کرتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ بگاڑ رونما ہونے کی صورت میں فقہاء کی ان تصریحات کے مطابق صرف انفرادی طور پر کلمۂ حق تو بلند کیا جاسکتا ہے، مگر کوئی اجتماعی سعی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے پاس اس کا کوئی جواب مسلکِ ابی حنیفہ کو پیش کرنے کے سوا نہ تھا۔ اب اگر یہ بھی غلط ہو تو پھر اس اعتراض کا کوئی جواب آپ ہمیں بتائیں۔"(تفہیمات ۔ ج 3 ، ص 320)

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کا سیاسی نظام، ایک قانونی تجزیہ (1) - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

یہ بھی واضح کردوں کہ امام ابوحنیفہ کے سیاسی مسلک کے متعلق مولانا مودودی کا یہ مؤقف جو "تفہیمات" اور "خلافت و ملوکیت" میں پایا جاتا ہے، بنیادی طور پر مولانا مناظر احسن گیلانی کی گراں قدر تحقیق "حضرت امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی" سے ماخوذ ہے، جو 1949ء میں شائع ہوئی تھی۔

مولانا مودودی کا نظریہ سمجھنے کے لیے ان کتب اور مضامین کے علاوہ دو مزید اہم مصادر ہیں:
ایک ان کی تفسیر تفہیم القرآن کے وہ مقامات جہاں سیاسی نظم کے متعلق انھوں نے بحث کی ہے؛
اور دوسرا "خلافت و ملوکیت" کے عنوان سے ان کی کتاب جن میں مذکورہ بالا مضامین کے علاوہ تاریخی واقعات کے متعلق مولانا موودوی کی تعبیر بھی مل جاتی ہے۔

چونکہ ہم اس مضمون میں "قانونی تجزیے" تک محدود رہنا چاہتے ہیں، اس لیے ہم مولانا مودودی کی ان تحریرات پر ہی فوکس کریں گے جہاں انھوں نے فقہی مسائل پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے، بالخصوص "سود" کا تیسرا ضمیمہ اور "تفہیمات" کے مضامین جو "خلافت و ملوکیت" کا بھی حصہ بنے۔

اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلام کے سیاسی نظام کے قانونی مآخذ پر بات کرسکیں۔
ایک سابقہ تحریر میں میں واضح کیا تھا کہ اس مقصد کے لیے مستشرقین نے فقہ اور فقہ اکبر کی کتب کو نظرانداز کرکے ان کتب پر فوکس کیا ہے جن کے مصنفین خواہ فقیہ ہوں لیکن وہ کتبِ فقہ بہرحال نہیں تھیں اور انھیں زیادہ سے زیادہ "سیاسی نظریے" کی کتب قرار دیا جاسکتا ہے، جیسے امام ماوردی کی "الاحکام السلطانیۃ" اور امام ابن تیمیہ کی "السیاسۃ الشرعیۃ" ۔ سوال یہ ہے کہ مستشرقین نے فقہی ذخیرے کو نظرانداز کیوں کیا ہے؟ یہ سوال ہمیں اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے بنیادی مفروضات کی طرف لے جاتا ہے ۔

اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے بنیادی مفروضات
یہ مفروضات مستشرقین کی تمام تحقیقات میں، اور بالخصوص اسلام کے سیاسی نظام کے متعلق ان کے نظریے میں کارفرما ہیں۔
"استشراق" ایک مخصوص پس منظر کے ساتھ ، اور مخصوص مفروضات اور اصولوں کے ساتھ، "مشرق "کے مطالعے کی تحریک تھی جس کا خصوصی تعلق استعماری سیاست کے ساتھ رہا ۔ (مابعد استعمار دور میں "استشراق" کی جگہ "علمی مطالعے" (academic study)نے لے لی ہے۔) استشراق کی اس تحریک کے تحت کئی نامی گرامی لوگوں نے مختلف اسلامی علوم کا مطالعہ کیا۔ بالخصوص اسلامی قانون پر کام کرنے والوں میں چار نام بہت اہم ہیں۔ اگناز گولڈ زیہر، جوزف شاخٹ ، مارشل ہوجسن اور نوئیل کولسن۔ ان کی اہم کتابوں کی فہرست یہاں دی جارہی ہے :
Ignaz Goldziher, The Zahiris; and Introduction to Islamic Law and Theology.
Joseph Schacht, Origins of Muhammadan Jurisprudence; and An Introduction to Islamic Law.
Marshall G. S. Hodgson, The Venture of Islam: Conscience and History in a Civilization of the World.
Noel J. Coulson, A History of Islamic Law; and Conflicts and Tensions in Islamic Jurisprudence.

یہ بھی پڑھیں:   مسجد میں سیاسی گفتگو کیوں ضروری ہے؟ عاطف الیاس

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب میں پچھلے کچھ عرصے سے نام نہاد "علمی مطالعے" (academic study) کی روایت نے بظاہر استشراق (Orientalism)کی جگہ لے لی ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی قانون کے بارے میں مستشرقین کے نظریات اب غیر متعلق ہوچکے ہیں ۔ یہاں صرف مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔
1۔ گولڈزیہر نے The Zahiris میں "اھل الظاھر" اور "اھل الرای" کے اختلاف کے متعلق جو وضاحت پیش کی اور "راے " کو جیسے "ذاتی فیصلہ" (personal judgment)بنادیا ، آج بھی مغربی "علمی محققین" (academic writers)اسی پر آمنا و صدقنا کہتے آ رہے ہیں اور ان کے مشرقی مقلدین اس بات کو آنکھیں بند کرکے مانے جارہے ہیں ۔
2۔ جوزف شاخٹ نے قرار دیا کہ اسلامی قانون ، جیسا کہ وہ آج ہمارے سامنے ہے، اپنی تمام تر خصوصیات اور تفصیلات کے ساتھ 132ھ (اموی خلافت کے خاتمے) سے قبل وجود میں آچکا تھا۔ پھر شاخٹ ہی کا کہنا ہے کہ امام شافعی اصول فقہ کے بانی ہیں ۔ وہ انھیں “master-“architect قرار دیتے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام شافعی تو 150ھ میں پیدا ہوئے جبکہ اسی سال امام ابوحنیفہ کا انتقال ہوا تھا ؛ تو اگر ان ماسٹر آرکی ٹیکٹ نے اصول فقہ کی تشکیل 180ھ کے لگ بھگ کی ، تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فقہ کا اصول فقہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ؟ یہی شاخٹ کا بنیادی دعوی ہے اور اسی کی تائید و توثیق مغربی علمی محققین اور ان کے مشرقی مقلدین کرتے آرہے ہیں۔
3۔ ہوجسن نے تفصیل سے واضح کیا کہ فقہاے کرام نے وقت کی حکومت کے لیے حزب مخالف (opposition party) کا کردار ادا کیا ۔ شاخٹ نے کہا کہ فقہاے کرام نے فقہ کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے وہ صرف کتابوں میں ہی تھا اور محض نظری تھا (theory)جبکہ عملاً حکومتی نظام اور عدالتیں جس قانون پر چلتی تھیں (practice)وہ کچھ اور ہی تھا ۔ حکمرانوں اور فقہاے کرام کے درمیان تناو کی اس کیفیت کی مزید تفصیل کولسن نے دی ۔ انھوں نے جوچ کچھ کہا مغربی علمی محققین کی عمارت ابھی تک انھی بنیادوں پر قائم ہے اور ان کے مشرقی مقلدین کے پاس یہی کچھ ماننے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اب ذرا ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر غور کریں کہ اگر فقہ کا اصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ؛ اگر فقہ اہل الراے نے "ذاتی راے" پر بنائی ؛ اگر فقہاء کا مستنبط کردہ قانون صرف کتابوں میں ہی رہا اور کاروبارِ حکومت ایک "غیر مذہبی" / سیکولر قانون پر ، جسے وہ "سیاسہ" کا نام دیتے ہیں ، چلتا رہا اور اسی بنا پر فقہاےکرام کا کام "حزبِ مخالف" کا تھا ، تو اسلام کا سیاسی نظام کہاں باقی رہتا ہے؟ نہ صرف یہ بلکہ اس کے بعد جب دیکھا جاتا ہے کہ ہارون الرشید کی جانب سے قاضی ابویوسف کی بطور قاضی القضاۃ تعیناتی کے بعد خلافتِ عباسیہ کے تحت قاضیوں نے بالعموم فقہِ حنفی پر فیصلے سنانے شروع کیے ، تو اس کے نتیجے یہ نظریہ بھی مان لیا جاتا ہے کہ "فقہ تو ملوکیت کی پیداوار ہے!"

اس مضمون میں ہم فقہ اور اصولِ فقہ کے تعلق پر یا "راے" کی حقیقت پر بحث نہیں کرسکتے۔ تاہم "نظریے" اور "عمل" کی دوئی یا "فقہ" اور "سیاسہ" کے تعلق پر ضرور گفتگو کرنا چاہیں گے کیونکہ اس کے بغیر یہ گتھی نہیں سلجھ سکتی۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں