زوال کے اسباب - احمد حامدی

امت مسلمہ کیوں چھ سو سال سے مغلوب ہے اور ہر جگہ پٹتی آ رہی ہے؟

آؤ قرآن سے پوچھتے ہیں۔ قوموں کے عروج اور زوال کے لیے اللہ تعالی کی ایک ہی سنت ہے، وہی سنت جو اللہ نے بنی اسرائیل کے زوال پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں بیان کی ہے۔ زوال کے اسباب بتائے ہیں اور عروج کے شرائط بتائے ہیں، وہی معاملہ امت مسلمہ کے ساتھ بھی ہے۔ زوال کے وہی اسباب اور عروج پر جانے کے وہی شرائط۔ قرآن میں جگہ جگہ بنی اسرائیل کو ان کا دور عروج یاد دلایا گیا ہے اور پھر جگہ جگہ ان کے زوال کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ایک عرصہ تک اللہ نے ان کو زمین کی خلافت عطا کر رکھی تھی۔ پھر جب انہوں نے
1: بے جا اختلافات کو ہوا دی،
2: ایک دوسرے پر ظلم کرنے لگے اور گروہ گروہ ہوگئے،
3: اپنے لیے پستی و ذلت کو پسند کیا،
4: جب ان کے اخلاقیات میں بگاڑ آگیا،
5: جب انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی،
6: جب وہ اللہ سے کیے ہوئے وعدے بھول گئے،
7: جب وہ آسمانی ہدایات کی من مان تعبیریں کرنے لگے،
8: جب انہوں نے جہاد کو ترک کیا،
اور
9: جب ان کی اجتماعیت میں متقین و صالحین کا مذاق اڑایا جانے لگا اور ان کو قتل کیا جانے لگا۔

تو اللہ رب العالمین نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ان کو ذلیل اور بے وقعت کر دیا۔ جب ہم نے وہی رستہ اختیار کیا تو ہمارا بھی وہی حال ہوا۔

کیا پھر سے خلافت کا پاکیزہ نظام نافذ ہونا ممکن ہے؟ کیا پھر کبھی ایسا وقت آسکتا ہے کہ اسلام دنیا کو لیڈ کرے؟
جی ممکن ہے، لیکن اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو ساتھ جو شرائط بتائیں تھیں انہیں شرائط کو پورا کیا جائے تب۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام مشکل میں کیوں؟ - محمد حنیف

چند شرائط درج ذیل ہیں:
يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىْٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ ۔۔۔۔
اے بنی اسرائیل! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں اور مجھ ہی سے ڈرو ۔

وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ۠ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ
اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو ۔

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَــقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتےحق کو چھپانے کی کوشش کرو ۔

شہادت حق کا فریضہ انجام دینا بڑا کام ہے۔ یہاں کسی لاگ لپٹ کے بغیر دین کی اصل شکل کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ دین پر عمل کرنے کے معاملے میں عزیمت کی راہ کو اپنانا ہوتا ہے۔ یہاں مصلحت اور کچھ لے دے کا رویہ نہیں چلتا ۔۔۔ اس کام کے لیے استقامت، جرات، سرفروشی، صبر اور توکل علی اللہ کے صفات کا ہونا ناگزیر ہے۔ جب ہم اپنے رویوں کو درست کریں گے تو پھر ان شاء اللہ اسلام دنیا کو لیڈ کرے گا۔