گلبرگی - آصف اقبال

حسین چوک گلبرگ سے بائیں ہاتھ ہو کر جو پہلا چوک ہے۔ وہاں سے ذرا آگے آفیسرز کالونی کے گھر ہیں، ایک دم بڑے بڑے۔ مسجد شان اسلام سے شروع ہو کر غالب مارکیٹ تک، اور مسجد شان اسلام کے عین سامنے ایک چھوٹا سا پارک ہے، تکونی شکل میں۔ ویسے تکونی شکل کا پارک ہونا کوئی ایسی بڑی بات نہیں۔ شہروں میں جہاں سوسائٹیز بنتی ہیں، وہاں جگہ کا استعمال یونہی کیا جاتا ہے۔ قطع و برید کے درمیان جہاں جگہ غیر موزوں ہوئی، وہاں ایک موزوں پارک بن گیا، لیکن اس پارک کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تینوں کونوں پر تین تہذیبیں آباد ہیں۔

مسجد شان اسلام کے دائیں ہاتھ پارک کے ایک کونے میں بڑے بڑے مالز، ایمپوریم، قیمتی گاڑیو ں میں آنے والے ایسے ایسے افراد جن کو عام افراد محض فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ بائیں ہاتھ اور دوسرے کونے پر واقع سرکاری افسروں کے گھر۔ ایسے سرکاری افسر جو"سرکاری" ہونے کی دوڑ میں بھی کسی قدر پیچھے رہ گئے تھے۔ تاہم سرکار نے انہیں ایک مسجد کے فاصلے سے اس علاقے میں آباد کر دیا تھا۔ جہاں ان کے بھائی بند اول الذکر معاشرت کا حصہ بنتے تھے۔ اور سامنے تیسرے کنارے پر گلبرگ کے پرانے گھر۔ وہیں اس تیسری تہذیب کی ایک گلی میں اس کا گھر تھا ۔ جہاں ایک چھوٹی سی پرانی کار بارش کے پانی میں مکمل ڈوبی ہوئی تھی۔ اور گھر کا نسبتا نیا فرنیچر پرانے کے اوپر سوکھنے کی خاطر ڈال دیا گیا تھا۔

میری اس سے ملاقات ایک نجی سکول میں ہوئی۔ مجھے پڑھاتے ہوئے اتنے برس بیت چکے تھے کہ سکول والے مجھے عزت کے ساتھ سکول کے معاملات میں شامل کر لیتے۔ وہ انٹرویو کے لیے آئی تھی۔ اور پرنسپل صاحبہ کی نصیحت میں نے پلے سے باندھی ہوئی تھی کہ "سر پڑھانا اتنا ضروری نہیں۔ face presentable ہونا چاہیے۔ والدین ہر طرح کے ہوتے ہیں، اس لیے ٹیچر کو صاف ستھرے، بہترین لباس میں ملبوس ہونا اور متاثر کن تاثر کا حامل ہونا چاہیے۔ سمجھ گئے نا آپ"۔

مجھے چونکہ اس دشت کی سیاحی میں چند برس گذر چکے تھے۔ اس لیے اس بات کا مطلب بخوبی سمجھتا تھا۔
"کہاں رہتی ہیں آپ ؟؟" اس کا انتخاب تو میں اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی کر چکا تھا۔ کیا زبردست لڑکی تھی۔ اس کو دیکھ کر پہلی دفعہ میں نے سوچا کہ وجیہ کا لفظ صرف مردوں کے لیے کیوں مختص ہے۔ کوئی لڑکی بھی تو ایسی ہو سکتی ہے۔ تمکنت سے چلتی ہوئی وہ اندر آئی اور نہایت شستہ انگریزی میں اس نے بات کی۔
"گلبرگ سر"۔ "حسین چوک کے پاس"۔
"ہاں! آپ دیکھنے میں ہی گلبرگی معلوم ہو رہی تھیں۔"
" ہاہاہا۔ آپ نے کیسے پہچانا سر؟"
"یہ لڑکی مردوں کی طرح ہنستی ہے۔ میں نے دل میں سوچا۔"
" پہچان لیا۔ یکم سے آ جائیں۔ نوکری مبارک ہو"
شکریہ سر۔۔
پورے سکول میں اس کی آمد کےساتھ بس وہ ہی وہ تھی، اور اسی کے بارے میں گفتگو تھی۔

کسی بڑے خاندان کی لگتی ہے، مگر پھر رکشے پہ کیوں آتی ہے؟
کیا شاندار کپڑے پہنتی ہے۔ لگتا ہے ساری تنخواہ کپڑوں پہ ہی لگاتی ہے۔
تنخواہ میں ایسے کپڑے کہاں سے آتے ہیں۔ میں نے اس کو ایک دن ہوٹل ون کے ساتھ جو مال ہے نا، وہاں دیکھا تھا۔
افففف۔ ادھر سے شاپنگ کرتی ہے یہ۔ ادھر تو سنا ہے داخل ہونے کے بھی پیسے لگتے ہیں۔
ہاں تو دیکھ لو۔ ادھر کے ہی کپڑے ہیں یہ۔
لنڈے کے بھی تو ہو سکتے ہیں۔ درمیان میں کوئی شرارتی لڑکی لقمہ دیتی۔
کمال ہے لنڈے کے کپڑے پہننے والی لگتی تو نہیں یہ ؟
شان دیکھو اس کی۔ ایسے چلتی ہے جیسے سکول کی مالکن یہی ہو۔
مالکن کیا لگتی ہے اس کے سامنے۔
پر یہ صرف لڑکوں سے بات کیوں کرتی ہے؟ ہم سے کیوں نہیں کرتی؟
کرتی تو ہے۔ سلام کا جواب اتنا ہنس کے دیتی ہے۔
سلام کا جواب دے دینا کوئی بات کرنا نہیں ہوتا۔
پتا نہیں اس سکول میں کیا کرنے آ گئی ہے۔ کسی بڑے سکول میں جائے۔ جہاں اس کے جیسے دوسرے لوگ ہوں۔
ادھر سے اس کا گھر قریب ہے شاید۔
ہر منہ میں اسی کی بات تھی اور ایک وہ تھی کہ اس کی سارے میل سٹاف کے ساتھ دوستی تھی، کلرکس، سپورٹس ٹیچر، کمپیوٹر اسسٹنٹ سے لے کر مجھ تک، سب سے ایک طرح پیش آتی۔

"یہ تمہاری لڑکوں کے ساتھ اتنی دوستی کیوں ہو جاتی ہے۔" ایک دن میں نے پوچھا
" ہو نہیں جاتی سر۔ کرتی ہوں۔" وہ پھر مردانہ ہنسی.
"وہ کیوں بھلا"
"شوہر ڈھونڈ رہی ہوں سر"
پانی جیسے میرے گلے میں اٹک گیا
"کافی بھونڈا مذاق ہے"
"چلیں، آپ کو مذاق لگا تو معذرت، لیکن سچ تو سچ ہوتا ہے سر"
"یہ کافی سیدھا جواب نہیں ہے؟ کافی خوفناک بھی"۔
"سر نمبر پلیٹ چاہیے۔ ابھی تو ایسی گاڑی ہے، جسے ہر کوئی اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ جو چور نہ بھی ہو. چوری پر اتر آتا ہے"۔
"اچھا ۔۔ میری نمبر پلیٹ لگاؤ گی؟"
"مذاق اچھا کرتے ہیں آپ"۔ وہ چونکی تک نہیں۔
"میں سنجیدہ ہوں"۔ میں نے اس کی دل نشیں اور زمانہ شناس آنکھوں میں دیکھا۔
"سر گھر آ جائیں کسی دن، ابو سے مل لیں، کب آئیں گے آپ؟؟"
"جمعہ کے روز۔۔۔ عصر کی نماز سے ذرا پہلے"
میں انتظار کروں گی آپ کا"۔ وہ اٹھ کر چلی گئی.
میں اسے محویت سے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ کیسی کمال کی چال ہے اس لڑکی کی۔ نازک اور بے پرواہ، جیسے کوئی اپنے وقت کے مہین پروں پر محو خرام ہو اور اپنے قدموں تلے زمانوں کے روندے جانے کے احساس سے اجنبی ہو اس کی ذات کا تنتنا لامحالہ شہزادیوں کے جیسا تھا، الھڑ مگر لاابالی پن سے عاری.

"راستہ تو بتا دیں گھر کا"۔ اگلے دن جب میں اس کی الپسرائی چال کے سحر سے نکلا تو میں نے پوچھا۔
"سر مسجد شان اسلام دیکھی ہے آپ نے؟ اس کے سامنے جو پارک ہے تین کونوں والا جس میں پانی والی بڑی ٹینکی بھی ہے۔ اس کا جو کونا گلبرگ تھری کی طرف اندر کو جاتا ہے، اس سمت میں آ جانا آپ، جب وہ پارک ختم ہو جائے وہاں سے آپ بائیں ہاتھ مڑ جانا".....
"جی اچھا"۔
" اس گلی میں ایک گھر آئے گا۔ اینٹوں سے بنا ہوا۔ جس پہ سیمنٹ نہیں ہوا ہوگا"۔
"سب گھر اینٹوں سے ہی بنتے ہیں میڈم"۔ میں نے خوش دلی سے کہا۔
"ہاں.... لیکن سر سب گھر سیمنٹ کے بنا نہیں رہتے۔ بہت سی خواہشیں اور گھر تکمیل کے دوران ادھورے بھی رہ جاتے ہیں"۔ ادھوری خواہش ہو یا گھر، کھنڈر ہی تو کہلاتے ہیں."
کیسا عجیب مشاہدہ ہے اس لڑکی کا۔ میں نے سوچا
"اس گھر کے بعد جو بھی گلی آئے۔ وہاں سے آپ دائیں طرف مڑ جانا۔ ایک گھر آئے گا۔ جس کے باہر گھوڑا بندھا ہوگا۔ سفید رنگ کا۔ دھوپ ہو یا چھاؤں وہ ادھر ہی بندھا ہوتا ہے"۔
"واہ! گلبرگیوں کے شوق۔گھوڑے، ششکے"۔
"سر! سب گلبرگ میں رہنے والےگلبرگی نہیں ہوتے"۔
"تیسرے کونے سے ان لوگوں کے گھر شروع ہو جاتے ہیں جو گلبرگ میں رہتے ہوئے بھی گلبرگی نہیں ہیں۔ کسی وقت میں مال و دولت اوراس کے نتیجے میں ملنے والی اقدار ضرور ان خاندانوں کا لازمی حصہ رہے ہوں گے، لیکن اب ان سب کے پاس گلبرگ کی رہائشی شناخت تو ہے۔ لیکن مالی نہیں"۔
"اور سر۔۔۔ مالی حیثیت کے بغیر کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ اس کونے میں گھروں کا ماحول ویسا ہی ہو گیا ہے اب۔ جیسا کچی آبادیوں کے گھروں کا ہوتا ہے۔ باہر گلی میں آبادی کی افراط کا شور اور اندر گھروں میں وسائل کی کمیابی کی گھمبیر گھناؤنی خاموشی"
"سر اسی گلی میں جس میں آپ مڑیں گے۔ عرفان کی دکان ہے، اس کی دکان سے پوچھ لینا، ہاشم علی کا گھر کون سا ہے"۔
"عرفان کی دکان، بھئی یہ کس چیز کی دکان ہے"۔
"سر یہ گلی محلے کی دکان ہے۔ جو کسی خاص چیز کی نہیں ہوتی، لیکن یہاں سے ہر چیز مل جاتی ہے"۔
"گلبرگ میں گلی محلے کی دکان ؟"۔ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
"سر آپ سوال بہت کرتے ہیں، پر آپ اس وقت تک نہیں سمجھیں گے جب تک خود وہاں نہ گئے۔ وقت کی سفاکیت ہر چیز بدل دیتی ہے۔ گلبرگ کی اقدار بھی بدل چکی ہیں "۔
"آپ جواب بہت اچھے دیتی ہیں، اس لیے"۔ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا.
"سر باتوں سے امید کی جوت نہ جگائیں۔ اندھیرے میں سفر کا آغاز کرنے والا مسافر عمر بھر منزل کو کھوجتا رہتا ہے۔ جس کو ہمسفر کرنا ہو، اور عمر بھر جس کے ساتھ چلنا ہو۔ اس کے بارے میں جانکاری بہت ضروری ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے آپ کو یہ پسند نہیں ہوگا کہ آپ اندھیرے میں اور کسی پرچھائی کے ساتھ سفر کا آغاز کریں"۔
"لگتا ہے۔۔ بہت گہری چوٹ کھائی ہے آپ نے"۔
وہ حزن بھرے لہجے میں بولی
"سر ایک نہیں بلکہ کئی ایک چوٹیں"۔
"کوئی بات نہیں چوٹیں بھی کھانے کے لیے ہوتی ہیں۔ کوئی بھی انسان ساری کی ساری اپنی پسند کی زندگی نہیں گذار سکتا۔ آپ بھی نہیں۔ میں بھی نہیں"۔۔

جمعے والے دن میں نے سوچا۔ جمعہ مسجد شان اسلام میں ہی پڑھ لیا جائے، اور اس سے پہلے کہ اس کے گھر جایا جائے، کیوں نہ وہ علاقہ بھی دیکھ لیا جائے جو اس کے بقول گلبرگ میں ہوتے ہوئے بھی گلبرگ میں نہیں ہے۔
نماز کے بعد، مسجد کے تنگ دروازے پر، پولیس چوکی کے دائیں بائیں، بھکاریوں کی دو رویہ لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ہر عمر، ہر جنس، ہر سطح کے بھکاری تھے۔ ترس کھائے جانے کے لیے بڑی ذہنی مشقت سے اپنے ظاہر و اطوار سے ماہرانہ کام لینا ہوتا ہے، کیونکہ محتاج و بھکاری پر ترس کھانے کے ہر کسی کے اپنے معیار ہوتے ہیں۔ سو بھکاری اس بات کو خوب سمجھتے ہوئے، ہر ایک نمازی کے اطراف ترس کھائے جانے کے مطابق جمع ہوتے ہیں. ان کی بلکتی، رحم طلب اور منمناتی آوازوں میں روٹی، کپڑے، پیسوں کی مانگ کے عوض، جنت دوزخ کی ضمانت تک سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ میں ان کی قطاروں جو اب ایک جمگھٹا کی شکل اختیار کرتی جا رہی تھیں، سے جیب اور عزت بچاتا ہوا نکل رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک بھکارن کی آنکھوں پر پڑی۔ مجھے اس کی آنکھیں اور نظریں کچھ شناسا سی لگیں، پر میں یہ سوچتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ دلفریب اور حسین قصے سنانے والی آنکھیں بھی کہاں کہاں مل جاتی ہیں۔ میں بھکاریوں سے آگے نکلا تو ایک لمحے کے لیے رکا اور پلٹ کر پھر ان شناسا آنکھوں کو دیکھا، پر وہ کسی اور مخیر نمازی کی طرف متوجہ تھیں اور میں بغیر سیمنٹ کے اینٹوں والے گھر کی تلاش میں آگے بڑھ گیا۔

عرفان کی دکان تک پہنچتے پہنچتے پیاس کوکا کولا مانگنا شروع ہو گئی تھی۔
بھائی یہ ہاشم علی صاحب کا گھر کون سا ہے؟ میں نے کوک کے ٹھنڈے گھونٹ کو اندر اتارتے ہوئے دکاندار سے پوچھا۔
"ہاشم صاحب کا؟"۔ دکاندار اپنے کاونٹر سے آدھا باہر لٹک گیا۔
"وہ سامنے ہرا دروازہ ہے نا۔ یہ لڑکی جا رہی ہے نا کالی چادر والی، یہ جس گھر میں داخل ہوگی، وہی گھر ہے".
میری نظر اچانک کالی چادر والی لڑکی پر پڑی۔ ویسی ہی شاہانہ چال۔ لڑکی نے گھر داخل ہونے سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھا، شناسا آنکھیں چار ہوئیں، اور میرے حلق میں اترتی ہوئی کوک کا ذائقہ ایک دم کڑوا ہو گیا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بہت اچھی تحریر ہے دن بھر دفتر کے کام کی تھکان کے بعد آپ کی تحریر نے ذہن کو ترو تازہ کردیا۔ اگلے حصے کا انتظار رہے گا