سناٹا - عامر اشفاق

ایک گلی میں موجود دو گھروں میں فاصلہ ہی کتنا ہوتا ہے؟
نئے کرایہ دار تھے.
ایک دن شام کو چھت پر دیکھا تو سامنے والے کمرے کا دروزہ کھلا ہوا تھا.
وہاں ایک لڑکی بیٹھی تھی.
آزاد سی، ہر غم سے بے فکر.
لیکن اداسی اس کی آنکھوں میں ڈھلتی شام کی طرح جھلکتی تھی.
چھت سے میں اسے دیکھتا رہتا.
لیکن کبھی اسے اشارہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی.

دل کرتا تھا اس پری چہرہ کو تکتا رہوں.
کئی بار آواز دینے کی کوشش کی،
لیکن آواز حلق میں جا اٹکی.
ایسے لگتا تھا کہ اس خاموش جھیل میں آواز کا پتھر مارا تو سکون کا یہ سکوت ٹوٹ جائے گا.

ہر شام میں اپنے دل سے نکلنے والی ہر صدا کو،
خاموشی کے مقتل میں جام شہادت نوش کرواتا رہا.
ہر شام جب ملگجا سا اندھیرا چھا جاتا تب اس کی ماں اسے آوازیں دیتے ہوئے اوپر آتی اور پھر اس کی نقرئی ہنسی سنائی دیتی
"ماں، میں آجاتی نیچے! اتنا خیال نہ رکھا کریں"
پھر کانوں کو سنائے دینے والی واحد آخری آواز نیچے چلی جاتی اور پھر خامشی کا شور جان لینے لگتا.

آج رات سوچتا رہا،
اس زرخیز زمین پر کوئی زلزلہ تو مچا ہوگا،
جس نے اسے چپ کی جھیل بنا دیا.

سوچتے ہوئے ایک مصمم ارادہ کر لیا کہ اس جھیل کی خاموشی کی صدا میں سنوں گا.
پھر اگلا دن اسی طرح وقت سے پہلے میں چھت پر تھا.
کچھ دیر میں دروازے کی چرچراہٹ نے کانوں کے پردے کی تمام حسوں کو بیدار کر دیا .
وہ ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر میری چھت کی طرف گھور رہی تھی،
ایسے لگ رہا تھا کوئی جھیل اپنے سونے پن کو محسوس کر چکی ہے.
اسے معلوم ہوچکا ہے کہ کوئی ملاح اسے ڈر کے بجائے محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟ جویریہ سعید

اس کے بعد مجھ سے رہا نہیں گیا
"زریں!
زریں "
اس کے پُر درد چہرے پر انوکھا نور چھلکا.
اس نے حیرت سے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی،
میں چھت پر پردے کے ساتھ بیٹھا تھا،
جس کے روشن دان سے اس پری چہرہ کی ہر حرکت کو دل میں تیاگ رہا تھا.
اپنے لیے اس کے چہرے پر درد بھری الجھن دیکھ کر میں محظوظ ہو رہا تھا.
وہ چلتی چلتی منڈیر پر آپہنچی تھی
اور جھک کر گلی میں دیکھنے لگی تھی.
اور پھر اچانک ایسے لگا کہ جیسے اس کا پاؤں پھسلا ہو اور مجھے اس کی ہلکی سی آخری چیخ سنائی دی،
اس چیخ میں درد تھا یا سکون پر اس کی گونج نے مجھے ہلا کر رکھ دیا.

میری دھڑکنیں اپنے وقت کے عروج پر دھڑکنے لگیں
میرا اگلا پڑاؤ میرا کمرہ تھا،
جہاں کا تکیہ، کندھا بن کر بھیگ رہا تھا.
مجھے نہیں پتا میں نے اس جھیل کو کتنی دیر اپنی آنکھوں کے تازہ پانی سے یاد کیا.
ہاں پھر ماں کی آواز سنائی دے رہی تھی
"اس اندھی کو اکیلے چھت پر جانے ہی کیوں دیتے تھے"
اس کے بعد میرا حوصلہ جواب دے گیا.

جب آنکھ کھلی تو ایک نرس فرشتوں کی طرح مجھے زندگی کا انجیکشن دے رہی تھی.
میں ذمہ دار تھا اس جھیل کے قدرتی حسن میں چھید کرنے کی خواہش رکھنے والا،
میں نے ہی ایک تحریر کو کتاب ہستی میں داخل ہونے سے پہلے مٹا دیا تھا.

اب زندگی تو بوجھ تھی
ہاں یہ زندگی جو انجیکشن کے ذریعے میرے جسم میں داخل ہو رہی تھی، وہ موت تھی.
ایسی موت جو روز مجھے ایک حسن پر تیزاب پھینکنے کی سزا میں کھولتے کڑایا میں جلاتی.
اس نرس کے چہرے پر لکھی شفیق مسکراہٹ نے اس اندھی کے چہرے کو میری آنکھوں میں پیوست کر دیا،
اور پھر مجھے میرے اندر کی زندگی کی گونجیں سنائی دینے لگیں.

یہ بھی پڑھیں:   خوش رہنے کے لیے تم کیا کرتی ہو؟ جویریہ سعید

ہر کوہ پیما جس چوٹی کو سر کرتا ہے،
اس کی آخری ہچکی کو اپنی خوشی کو منانے میں بھلا دیتا ہے.
ورنہ قدرت نے جہاں درد تحریر کیا ہو، وہاں ہمارا درد بے درد رہتا ہے.

جھیل خاموش اچھی لگتی ہے،
پتھر زندگی کی لہر تو دے دیتے ہیں،
لیکن جہاں زندگی ہوتی ہے وہیں موت بھی اپنا حق وصول کرنے آجاتی ہے.

پر اس پری چہرہ جھیل کو ذبح کرنے میں،
قدرت نے مجھے ہی ذبح کر وادیا.